بھٹکل 16/جولائی (ایس او نیوز) کمٹہ اور انکولہ کے درمیان شیرور نامی گاوں میں پہاڑی کھسک کر بہت بڑا ملبہ نیشنل ہائی وے پر گرنے کے بعدابھی تک اس بات کا پتہ نہیں چل پایا ہے کہ ملبے کے اندر آخر کتنے لوگ دبے ہوں گے اور کتنے لوگ شراوتی ندی میں بہہ گئے ہوں گے۔ پتہ چلا ہے کہ 150 میٹر حدود میں پہاڑی کا اتنا بڑا ملبہ گرا ہے کہ اسے ہائی وے پر سے ہٹانے کے لئے تین دن سے زائد وقت لگ سکتا ہے۔ ایسے میں جائے وقوع پر موجود ساحل آن لائن کےکاروار نمائندے نے بتایا کہ وہاں بارش کا سلسلہ برابر جاری ہے اور پہاڑی کھسکنے کا سلسلہ بھی جاری ہے جس کو دیکھتے ہوئے ملبہ ہٹانے کے کام کو عارضی طور پر روک دیا گیا ہے۔
فون پر گفتگو کرتے ہوئے ساحل آن لائن کے نمائندے نے بتایا کہ جائے وقوع پر موبائل نٹ ورک کام نہیں کررہا ہے چونکہ ہائی وے بلاک ہوچکا ہے، جائے وقوع پر پہنچنا بھی آسان نہیں ہے، لیکن الگ الگ بائک پر سوار ہوکر کسی طرح نمائندے نے جائے وقوع پر پہنچ کر حالات کا جائزہ لیا ہے۔ اس نے بتایا کہ جس جگہ پر حادثہ پیش آیا، وہاں ایک ہوٹل تھا، جہاں اکثر سواریاں ناشتہ اور چائے کے لئے رُکتی ہیں، صبح قریب ساڑھے آٹھ بجے جس وقت حادثہ پیش آیا اُس وقت کئی سواریاں ہائی وے پر سے گذررہی تھیں، بتایا جارہا ہے کہ ملبہ نیچے گرنے کے دوران دو کار اور دو ٹینکر جائے وقوع سے گذر رہی تھیں۔ جس میں سے ایک ٹینکر قریبی گنگاولی ندی میں بہتا ہوا دیکھا گیا ہے جبکہ دوسرے ٹینکر کا پتہ نہیں چل پایا ہے، اسی طرح دو کاروں کا بھی پتہ نہیں چل پایا ہے کہ وہ ملبہ گرنے سے پہلے ہی آگے نکل چکی ہیں یا پھر ملبے کے نیچے دب گئی ہیں۔ ہوٹل کے پانچ لوگ جن کا تعلق ایک ہی خاندان سے تھا، اُن کے ملبے میں دبے ہونے کی تصدیق ہوگئی ہے، مگر ہوٹل میں کھانے کے لئے کتنے لوگ بیٹھے تھے، اُس کا پتہ نہیں چل پایا ہے۔ عینی شاہدین کا کہنا ہے کہ اتنا بڑا اور بھاری بھرکم پہاڑ کا ملبہ گرا ہے کہ پورا حصہ نیشنل ہائی وے پر گرنے کے ساتھ ہی گنگاولی ندی سے ہوتے ہوئے ندی کے دوسرے کنارے پر واقع دو مکانوں کے اوپر بھی جا گرا ہے۔ چونکہ بارش بہت زیادہ ہے اور پورا علاقہ پانی میں ڈوبا ہوا ہے، ندی کے دوسرے کنارے جانے کی پوزیشن نہیں ہے، اس بنا پر اس بات کا بھی پتہ نہیں چل پایا ہے کہ جن دو مکانوں کے پر ملبہ گرا ہے، اُس مکان میں کتنے لوگ تھے، وہ لوگ بچ گئے ہیں یا ندی میں بہہ گئے ہیں یا پھر وہ بھی ملبے کے نیچے دب گئے ہیں۔
جن پانچ لوگوں کے ملبے کے نیچے دب کر ہلاک ہونے کی تصدیق ہوئی ہے اُن کی شناخت لکشمن نائک (47 )، شانتی نائک (55)، اوانتیکا (6 )، روشن (11 ) اور جگن ناتھ (55 ) کے طور پر کی گئی ہے۔ اس میں سے اب تک ایک نعش ندی سے برآمد کی گئی ہے۔ جبکہ پہاڑی کے ملبے کے نیچے سے ابھی تک کوئی نعش نکالی نہیں جاسکی ہے۔
بتایا جارہا ہے کہ ملبے کی صفائی کے بعد ہی یہ بات صاف ہوسکتی ہے کہ پہاڑی کے ملبے کے نیچے دب کر کتنے لوگ فوت ہوئے ہیں، اسی طرح یہ دیکھنا بھی اہم ہوگا کہ ندی سے کتنی نعشیں نکلتی ہیں۔
واردات کے بعد کاروار ڈپٹی کمشنر لکشمی پریا، ایس پی ایم نارائن ، ممبر آف پارلیمنٹ وشویشور ہیگڈے کاگیری سمیت مینگلور سے آئی جی پی اور این ڈی آر ایف ٹیم، فائر ریسکیو ٹیم وغیرہ جائے وقوع پر پہنچ چکی ہیں۔ ان سب کے باوجود کہا جارہا ہے کہ نیشنل ہائی وے کو تین دن سے پہلے صاف کرنا ممکن نہیں ہوگا۔