برلن،21نومبر(ایس او نیوز ؍آئی این ایس انڈیا)جرمن چانسلرنے میرکل نے اخباری نمائندوں کو بتایا کہ اس بات کے سرکاری اعلان سے قبل، وہ کرسچین ڈیموکریٹس (سی ڈی یو) کے اعلیٰ سطحی ارکان سے ملاقات کر چکی ہیں۔بقول اُن کے، میں نے اس اعلان کے بارے میں بار بار سوچا۔ تاہم، میں عہدے پر انتخاب کے لیے تیار ہوں۔62 برس کی مرخیل جرمنی کی پہلی خاتون چانسلر ہیں جنھیں یورپ کو مستحکم کرنے کا شہرہ حاصل ہے، ایسے وقت جب برطانیہ نے ریفرنڈم کے ذریعے یورپی یونین سے علحیدگی اختیار کرنے کا فیصلہ کرلیا ہیاور امریکی صدارت کے لیے ڈونالڈ ٹرمپ انتخاب جیت چکے ہیں۔سال 2017ء میں اگر مرخیل آئندہ چار سالہ میعاد کا انتخاب جیت لیتی ہیں تو وہ اپنے محسن، ہیلمت کوہل کا ریکارڈ برابر کر لیں گی، جو 16برس تک عہدے پر براجمان رہے۔وہ سنہ 2005سے جرمنی کی چانسلر چلی آرہی ہیں۔ وہ یورپ کی سب سے بڑی معیشت کی سربراہ رہی ہیں، جب کہ یورو زون مالی بحران کا شکار رہا ہے، جس پر اُنھیں بین الاقوامی طور پر عزت کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے۔امریکی صدر براک اوباما نے گذشتہ ہفتے دورہ جرمنی کے دوران مرخیل کو بہترین اتحادی قرار دیا، جب وہ آخری بار عہدہ صدارت پر فائز رہے۔ اُنھیں یورپ بھر کو لاحق تارکین وطن کے بحران سے بھی سابقہ رہا ہے۔