انقرہ:7/مارچ (ایس او نیوز/آئی این ایس نڈیا)ترکی کے وزیراعظم بن علی یلدرم نے کہا ہے کہ ان کا ملک شام کے منبج شہر میں تنہا فوجی آپریشن کا کوئی منصوبہ نہیں بنا رہا ہے۔ اس علاقیمیں روس اور امریکا کی فوجیں موجود ہیں۔ جب تک امریکا اور روس کے ساتھ کوآرڈنیشن نہیں ہوگا اس وقت ترک فوج اس شہر میں داخل نہیں ہوگی۔خبر رساں اداریرائٹرز کے مطابق وزیراعظم بن علی یلدرم نے سوموار کو اپنے ایک بیان میں کہا کہ اگر امریکا اور روس سے رابطے اور تعاون کے بغیر ترک فوج منبج شہر میں داخل ہوگی تو اس کے نتیجے میں حالات مزید پیچیدہ ہوجائیں گے کیونکہ اس علاقے میں امریکا اور روس کی فوجیں بھی موجود ہیں۔ تاہم انہوں نے کہا کہ منبج میں شدت پسند گروپوں کے خلاف فوجی کارروائی میں شمولیت کے حوالے سے عسکری سطح پربات چیت جاری ہے۔ادھر دوسری جانب امریکی محکمہ دفاع پینٹاگون کے ترجمان نے کہا ہے کہ امریکی فوج نے شام کے منبج شہر میں فوج کا ایک گروپ تعینات کیا ہے۔ پینٹا گون کے ترجمان جیف ڈیویس کا کہنا ہے کہ منبج میں امریکی فوج کی تعیناتی کا مقصد وہاں پر موجود شامی اپوزیشن گرپووں کو ایک دوسرے سے لڑنے سیروکتے ہوئے تمام توجہ داعش کی سرکوبی پرمرکوز کرنا ہے۔گذشتہ ہفتے ترک صدر رجب طیب ایردوآن نے کہا تھا کہ منبج شہر ترک فوج کا شام میں اگلا ہدف ہوگا۔ امریکی فوج نے منبج شہر اور حلب کے اطراف میں اس وقت اپنی فوج بھیجی تھی جب امریکی حمایت یافتہ ڈیموکریٹک فورسز اور ترکی کی فرات کی ڈھال فورس کے درمیان تصادم ہوگیا کردوں پر مشتمل سیرین ڈیموکریٹک فورسز نے کسی بھی دوسرے ملک کی فوج کے منبج میں داخلے کو مسترد کردیا ہے۔ یہ اس بات کا واضح اشارہ ہے کہ صدر بشارالاسد شہر پر اپنا کنٹرول قائم رکھنے پر مصر ہے اور اس میں اسے کسی حد تک عالمی تحفظ بھی حاصل ہے۔ اس سے قبل اسد رجیم اور جنگجو گروپ کیدرمیان ہونیوالے معاہدے میں شہر کی سرحدوں کی نگرانی شامی فوج کو دینے کے ساتھ ساتھ شمال مگربی قصبے العریمہ اور جنوب میں الخفسہ کے مقام کا کنٹرول بھی شامی فوج کو دینے سے اتفاق کیا گیا تھا۔