جے پور،23؍جولائی(ایس او نیوز؍آئی این ایس انڈیا)راجستھان میں اس سال کے آخر تک اسمبلی انتخابات ختم ہونے ہیں۔بی جے پی اقتدار میں ہے اور یہ کوشش کرے گی کہ وہ اقتدار میں برقرار رہے ۔یہ الگ بات ہے کہ راجستھان میں ابھی تک بجلی کا سوئچ ہوتا آیا ہے۔اسی بات کے چلتے بی جے پی نے اس بار الیکشن جیتنے کے لیے حکمت عملی پر کام شروع کر دیاہے۔بی جے پی صدر امت شاہ نے جے پور کا دورہ کیا اور پارٹی رہنماؤں کے ساتھ میٹنگ کی۔بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی)کے قومی صدر امت شاہ نے جے پور میں میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا کہ پارٹی کاموقف ہے کہ لوک سبھا اور اسمبلی انتخابات ایک ساتھ ہوں۔
امت شاہ نے جے پور میں اپنے قیام کے دوسرے دن پارٹی صوبہ ہیڈکوارٹر میں صحافیوں سے بات چیت میں ایک سوال کے جواب میں کہا کہ بی جے پی کی یہ منظوری ہے ہی، حکومت کی بھی منظوری ہے۔وزیر اعظم نریندر مودی نے اس موضوع کو تمام جماعتوں کے سامنے رکھا ہے، اس پر عوامی بحث کرکے الیکشن کمیشن کے پاس تمام جماعتوں کو جانا چاہئے۔
امت شاہ نے کسانوں کی قرض معافی پر کہا کہ اس بارے میں مرکزی حکومت کو کچھ نہیں سوچنا ہے، وزیر خزانہ اس بارے میں واضح کر چکے ہیں کہ ریاستی حکومتیں اپنے سطح پر اس پر غور کر کے فیصلہ کریں۔انہوں نے گؤکشی کو لے کر سوال پر کہا کہ جہاں جہاں بی جے پی کی حکومتیں ہیں وہاں گؤکشی پر روک کا قانون بنا ہوا ہے، جہاں تک گوا کے وزیراعلیٰ کی جانب سے گوشت کو لے کر آئے بیان کا سوال ہے وہ میری نوٹس میں نہیں ہے۔بی جے پی صدر نے کہا کہ دلتوں میں بی جے پی کی حالت اچھی ہے۔انہوں نے رام مندر تعمیر کو لے کر کہا کہ رام مندرتعمیرکولے کرپارٹی کی رائے واضح ہے اور اس کا ذکر ایک نہیں چار لوک سبھا انتخابات کے منشور میں ہے۔انہوں نے کہا کہ رام مندر قانونی طریقے سے یاباہمی ڈائیلاگ سے بننا چاہئے۔امت شاہ نے مرکز کی پیشرو حکومت کا نام لیے بغیر کہا کہ مجھے یہ کہتے ہوئے خوشی ہے کہ ایک ایسی حکومت تھی جو ہر مہینے دوسرے ماہ کرپشن یا اسکینڈل کے الزام کے لیے جانی جاتی تھی لیکن ماضی تین سال کے دوران بی جے پی کے مخالف بھی نریندر مودی یا بی جے پی حکومت پر بدعنوانی کا ایک بھی الزام نہیں لگاسکے ہیں۔انہوں نے کہا کہ مودی حکومت شفاف فیصلے لینے والی حکومت ہے جس کی وجہ بھارت دنیا میں سب سے تیز بڑھتی ہوئی معیشت کے طورپرجاناجاتاہے۔انہوں نے کہا کہ وزیر اعظم نریندر مودی آزادی کے بعد سے سب سے زیادہ مقبول لیڈرہیں۔