ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ساحلی خبریں / امام مسجد کے قتل میں معاونت پر عمر قید کی سزا

امام مسجد کے قتل میں معاونت پر عمر قید کی سزا

Sat, 17 Sep 2016 16:20:12    S.O. News Service

لندن ، 17؍ستمبر(ایس او نیوز ؍آئی این ایس انڈیا )محمد حسین سعیدی کو امام جلال الدین کا تعویذ گنڈے کے ذریعے روحانی علاج کا طریقہ پسند نہیں تھا، عدالت نے انھیں زیادہ سے زیادہ 24 برس تک کے لیے عمر قید کی سزا سنائی ہے ۔برطانیہ کے شہر راچڈیل میں ایک مسلمان نوجوان محمد حسین سعیدی کو اُس امام مسجد کے قتل میں معاون ہونے کے جرم میں عمر قید کی سزا سنائی گئی ہے جو کہ مبینہ طور پر کالے جادو کی مدد سے لوگوں کا علاج کرتے تھے۔گذشتہ فروری میں راچڈیل کے ایک پارک میں ایک مقامی مسجد کے امام 71سالہ جلال الدین کو قتل کیا گیا تھا۔اس واقعے میں 21سالہ محمد حسین سعیدی امام کو پارک میں قتل کے مقصد سے لے کر گئے تھے۔جلال الدین کا تعلق بنگلہ دیش سے تھا اور وہ برطانیہ میں مقیم تھے۔مانچسٹر کی عدالت نے مقدمے کی سماعت کے دوران عدالت کا کہنا تھا کہ محمد حسین سعیدی کو امام جلال الدین کا کالے جادو کے ذریعے روحانی علاج کا طریقہ پسند نہیں تھا۔ عدالت نے انھیں زیادہ سے زیادہ 24برس تک کے لیے عمر قید کی سزا سنائی ہے۔راچڈیل کے ایک پارک میں مسجد کے امام جلال الدین کے چہرے پر حملہ کیا گیا تھا، امام کا تعلق بنگلہ دیش تھا اور وہ برطانیہ میں مقیم تھے۔اس قتل کے ایک اہم ملزم محمد قادر ملک سے فرار ہو کر شام چلے گئے تھے اور خیال کیا جاتا ہے کہ وہ نام نہاد اسلامی تنظیم دولت اسلامیہ میں شامل ہوگئے ہیں۔ہائی کورٹ کے جج سر ڈیوڈ میڈسن نے اپنے فیصلے میں کہا کہ جلال الدین ایک باوقار شخص تھے اور چونکہ ان کے تعویذ کے ذریعے روحانی علاج کے طریقے کو پسند نہیں کیا جاتا تھا اس لیے انھیں قتل کر دیا گیا۔انھوں نے سعیدی سے کہا چونکہ آپ اور آپ کے ساتھی مجرم نے ان کے فعل کو ایسا کالا جادو تصور کیا جو کہ اسلام میں منع ہے اس لیے آپ نے ان کا پیچھا کیا اور آپ کی نیت یہ تھی کہ انھیں اتنی شدید تکلیف پہنچائی جائے کہ وہ مستقل طور پر معذور ہوجائیں۔

جلال الدین پر حملے کی وجہ یہی بتائی گئی تھی کہ وہ تعویذ کے ذریعے روحانی علاج کیا کرتے تھے اور لوگوں کو خوشحالی لانے کے لیے بھی تعویذ دیا کرتے تھے۔عدالت نے اس موقف کو تسلیم کر لیا کہ محمد حسین سعیدی قتل میں ملوث شخص قادر کو اچھی طرح سے جانتے تھے۔مسلمانوں کے کچھ فرقے تعویذ کے ذریعے علاج کی اجازت دیتے ہیں لیکن بعض مکتب فکر کے علما اسے حرام قرار دیتے ہیں۔مانچسٹر یونائیٹڈ کے سابق ملازم محمد حسین سعیدی اپنے دوسرے ساتھی محمد قادر کے ساتھ مل کر جلال الدین کی نقل و حرکت پر نظر رکھتے تھے اور 18؍فروری کو جب جلیلیہ مسجد میں نماز کے بعد وہ اپنے ایک دوست سے ملنے جا رہے تھے تبھی ان دونوں نے ان کا پیچھا کیا۔عدالت نے موقف کو اختیار کیا کہ محمد حسین سعیدی قتل میں ملوث شخص قادر کو اچھی طرح سے جانتے تھے اور ان کے اس دعوے کو مسترد کر دیا کہ انھیں نہیں معلوم تھا کہ قادر کے کیا منصوبے ہوسکتے ہیں۔امام مسجد جلال الدین کے چہرے اور سر پر پانچ بار ہتھوڑے سے وار کیا گیا تھا جس سے انھیں شدید چوٹیں آئی تھیں اور بعد میں ہسپتال میں ان کا انتقال ہوگیا تھا۔سعیدی نے عدالت کو بتایا کہ وہ اس قتل میں ملوث نہیں تھے اور انھیں امام کی موت پر افسوس ہے لیکن عدالت نے ان کے موقف کو تسلیم نہیں کیا۔


Share: