نئی دہلی 23/جنوری (ایس او نیوز/ ایجنسی) مرکزی حکومت اس بار یکم فروری کو ہی بجٹ پیش کر کے تاریخ بنائے گی. پہلے سپریم کورٹ نے مرکزی بجٹ کو ملتوی کرنے کی درخواست مسترد کردی تھی، پھر الیکشن کمیشن نے بھی بجٹ پیش کرنےکی اجازت دے دی. تاہم الیکشن کمیشن نے بجٹ کو لے کر کچھ ہدایات جاری کئے ہیں. جس کے مطابق بجٹ میں آئندہ اسمبلی انتخابات والے پانچ ریاستوں کو لے کر کوئی خاص اعلان نہ کیا جائے.
الیکشن کمیشن نے پیر کو حکومت کو حکم دیا کہ بجٹ کے دوران وزیر خزانہ اپنے خطاب میں ان ریاستوں سے منسلک مرکزی حکومت کی کامیابیوں کا کسی بھی طرح سے ذکر نہ کریں. الیکشن کمیشن نے کابینہ سکریٹری پی کے سنہا کو ہدایت دی کہ آزاد اور منصفانہ انتخابات کے لئے ایسا کیا جائے. الیکشن کمیشن نے کہا کہ انتخابی ریاستوں سے منسلک ایسی کوئی اسکیم کا اعلان نہ ہو جو ووٹروں کو متاثر کرے. یوپی، اتراکھنڈ، منی پور، پنجاب اور گوا میں اسمبلی انتخابات ہونے ہیں. الیکشن کمیشن نے ان انتخابات کو لے کر ضابطہ اخلاق جاری کر دیا ہے. ایسے میں اپوزیشن مطالبہ کر رہا تھا کہ یکم فروری کو مجوزہ مرکزی بجٹ کو آگے بڑھانے کے لئے ٹال دیا جائے. اپوزیشن کا الزام تھا کہ مرکز کی بی جے پی حکومت مرکزی بجٹ کا استعمال اپنے انتخابی فوائد کے لئے کر سکتے ہیں.
تاہم الیکشن کمیشن نے بجٹ کو آگے ٹالنے کا مطالبہ قبول نہیں کیا، لیکن اپنی ہدایات میں مرکزی حکومت کو واضح کر دیا کہ کوئی سیاسی فائدہ نہ لیا جائے. اس بار کا مرکزی بجٹ بہت سے معاملات میں تاریخی ہے. اس بار ریل بجٹ الگ سے پیش نہیں ہوگا بلکہ اسے عام بجٹ میں ہی شامل کر لیا گیا ہے.
اس سے پہلے پیر کو ہی سپریم کورٹ نے بھی یکم فروری کو بجٹ پیش کرنے کی حکومت کی تیاری کو ہری جھنڈی دکھادی تھی. سپریم کورٹ میں داخل عرضی میں یکم فروری کو بجٹ پیش کرنے سے روکنے کی اپیل کی گئی تھی. عدالت نے یہ کہتے ہوئے درخواست مسترد کر دی کہ عام بجٹ مرکزی ہوتا ہے اور اس کا ریاستوں سے کوئی لینا دینا نہیں ہے.
خیال رہے کہ ایم ایل شرما نامی ایک وکیل نے سپریم کورٹ میں بجٹ کو ملتوی کرنے کو لے کر ایک پیٹیشن داخل کی تھی جس میں انہوں نے درخواست کی تھی کہ ایک ایسے وقت میں جب پانچ ریاستوں میں انتخابات کا اعلان ہوچکا ہے بجٹ پیش کرنا ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی ہوگی، مگر عدالت نے اُن کی درخواست کو مسترد کردیا۔