الہ آباد، 28؍اکتوبر(ایس او نیوز ؍آئی این ایس انڈیا )سخت سیکورٹی والے الہ آباد ہائی کورٹ کے احاطے میں گزشتہ رات دھماکہ خیز مواد سے بھرا ایک پلاسٹک کا بیگ ملا جس سے افسران میں کھلبلی مچ گئی ۔حکام نے بتایا کہ عدالت کے ایک کمرے کے اندر ملے بیگ میں کم شدت والے دیسی بم، پٹاخے اور چھرے تھے جن سے کسی بڑے نقصان کا خدشہ نہیں تھا اور غالب گمان ہے کہ کسی شخص نے شرارت کرنے کے مقصد سے ان چیزوں کو یہاں رکھا تھا۔عدالت کے ایک ملازم نے عدالت کے کمرہ نمبر 55میں ایک بیگ دیکھا اور اپنے سینئر حکام کو اس کی اطلاع دی۔اس کے بعد ضلع مجسٹریٹ سنجے کمار اور سینئر پولیس سپرنٹنڈنٹ شلبھ ماتھر کی قیادت میں حکام کی ٹیم جائے حادثہ پر پہنچی۔بم ڈسپوزل اسکواڈ بھی جائے حادثہ پر پہنچ گیا، جو اس دھماکہ خیز مواد کو ناکارہ بنانے کے لیے اس کو عدالت کے کمرے سے دور لے گیا۔حکام نے قبول کیا کہ ہائی کورٹ کے احاطے میں یہ ایک سیکورٹی کی خامی کا معاملہ ہے جہاں 150پولیس اہلکار 24گھنٹے تعینات رہتے ہیں اور احاطے میں مختلف جگہوں پر 210سی سی ٹی وی کیمرے لگے ہیں۔احاطے کے اندر سینٹرل ریزرو پولیس فورس(سی آر پی ایف)کی ایک کمپنی بھی مستقل طور پرتعینات ہے۔ضلع مجسٹریٹ اور سینئر پولیس سپرنٹنڈنٹ نے بعد میں کہاکہ بیگ میں دو دیسی بم تھے جنہیں ناکارہ بنادیا گیاہے ۔اس کے علاوہ، اس میں پٹاخے اور چھرے بھی تھے۔انہوں نے کہاکہ غالب گمان ہے کہ اس بیگ کو کسی نے شرارت کی نیت سے رکھا ہو گا۔ایسا معلوم ہوتا ہے کہ دیوالی کے پیش نظر عدالت کے پانچ دن کے لیے بند ہونے کے بعد یہ بیگ رکھا گیا ہوگا۔حکام نے کہاکہ دھماکہ خیز مواد کو احتیاطی طور پرفارنسک جانچ کے لیے بھیجا جائے گا، حالانکہ بظاہر یسا محسوس ہوتا ہے کہ یہ دیسی بم کم شدت کے تھے اور ان سے جان ومال کے کسی بڑے نقصان کا خدشہ نہیں تھا ۔