بھوپال:23/نومبر (ایس او نیوز/آئی این ایس انڈیا) مدھیہ پردیش اسمبلی انتخابات میں زبانی جنگ تیز ہوتی جا رہی ہے۔ اسی کڑی میں وزیر اعلی شیوراج سنگھ چوہان اور بھارتیہ جنتا پارٹی کے قومی صدر امت شاہ نے کانگریس صدر راہل گاندھی پر جمعہ کو طنز کیا۔ستنا میں ایک انتخابی ریلی سے خطاب کرتے ہوئے شیوراج سنگھ نے کہا کہ راہل گاندھی 28 نومبر کے بعد کہاں رہیں گے؟' وہ ملک میں کم رہتے ہیں، بیرون ملک سے زیادہ۔ یہ تو ٹھہرے پردیسی، ساتھ کیا نبھائیں گے، کام تو ماما ہی آئیں گے۔ بتا دیں کہ مدھیہ پردیش میں 28 نومبر کو پولنگ اور 11 دسمبر کو ووٹوں کی گنتی ہوگی۔ اسی لیے شیوراج سنگھ نے راہل گاندھی سے یہ سوال کیا کہ وہ 28 نومبر کے بعد کہاں رہیں گے۔وہیں بی جے پی صدر امت شاہ نے بھی مدھیہ پردیش کے بالاگھاٹ میں ایک جلسے سے خطاب کرتے ہوئے راہل گاندھی پر نشانہ لگایا تھا۔ انہوں نے کہا کہ راہل بابا کسان کسان کرتے ہیں، کیا راہل بابا نے کبھی 2 بیل بھی جوتے ہیں؟ کانگریس کی حکومت میں کسانوں کو یوریا کے لئے لاٹھیاں کھانی پڑتی تھیں۔لیکن ماما یہ بھول گئے کہ ان کے دور حکومت کو کسانوں کو گولیاں نصیب ہوئی تھیں۔ غور طلب ہے کہ مدھیہ پردیش انتخابات میں راہل گاندھی کسانوں، روزگار، کرپشن اور شیوراج حکومت کی خامیوں کو لے کر سوال اٹھا رہے ہیں۔ اسی کے جواب میں شیوراج چوہان اور امت شاہ نے کانگریس صدر پر یہ طنز کیا ہے۔ ودیشا میں ایک جلسے سے خطاب کرتے ہوئے راہل گاندھی نے کہا تھا کہ ان کی پارٹی یہ الیکشن جیت رہی ہے اور کسانوں کا قرض 10 دن میں معاف کر دیا جائے گا۔ کانگریس کے پاس مشرق علاقوں کے کسانوں کے لئے ایک اچھی خبر ہے۔ انہوں نے کہا کہ کانگریس پارٹی بی جے پی حکومت ریاست میں جیت حاصل کر رہی ہے اور ہم اقتدار میں آنے کے 10 دن کے اندر اندر کسانوں کا قرض معاف کر دیں گے۔ پانچ انتخابی ریاستوں مدھیہ پردیش، راجستھان، تلنگانہ، چھتیس گڑھ اور میزورم میں بے روزگاری اور کسانوں کی پریشانی اہم مسئلہ ہے ۔واضح ہو کہ شیوراج سنگھ چوہان بی جے پی کو مسلسل چوتھی بار اقتدار میں واپسی کرانا چاہتے ہیں جبکہ کانگریس کو امید ہے کہ اسے اس بار اقتدار مخالف لہر کا فائدہ ملے گا۔ اس کی وجہ سے بی جے پی اور کانگریس نے اس بار انتخابی مہم میں اپنی پوری طاقت جھونک دی ہے۔