نئی دہلی، 5/فروری(ایس او نیوز/آئی این ایس انڈیا)اقلیتوں اور سماج کے کمزور طبقات کے لوگوں کی ترقی کے عزم کا اظہار کرتے ہوئے مرکزی وزیر مختار عباس نقوی نے دعوی کیا کہ مودی حکومت ’ووٹ کے سودے‘پر نہیں بلکہ ’ترقی کے مسودے‘پر کام کر رہی ہے اور یہ نہ صرف راج دھرم بلکہ قومی فرض بھی ہے۔نقوی نے میڈیا سے بات چیت میں کہا کہ مرکز میں وزیر اعظم نریندر مودی کی قیادت والی حکومت نے بچولیوں کو ہٹا کر غریبوں تک براہ راست فائدہ پہنچانے کی مہم شروع کی ہے جس کی وجہ سے اب تک اربوں روپے کی ہونے والی لوٹ مارپر لگام لگی ہے اور فلاحی اسکیموں کا فائدہ مسلمانوں سمیت تمام غریبوں، ضرورت مندوں کو ہوا ہے، لوٹ لابی پر قدغن لگا ہے۔انہوں نے کہا کہ اقلیتوں کے لیے مرکزی بجٹ تجویز اس بات کی مثال ہے کہ مودی حکومت ’ووٹ کے سودے‘پر نہیں بلکہ ’ترقی کے مسودے‘پر کام کر رہی ہے۔مرکزی وزیر نے کہا کہ 2017-18کے بجٹ میں وزارت کے لیے 4195.48کروڑ روپے کی تجویز رکھی گئی ہے جو 2016-17کے 3827.25کروڑ روپے کے مقابلے میں 9.6فیصد زیادہ ہے۔انہوں نے کہا کہ اس بار کے بجٹ میں ’سیکھو اور کماؤ‘، ’نئی منزل، نئی روشنی‘ اور ’استاد‘ جیسی مختلف اسکالر شپ اور اسکل ڈیولپمنٹ کی اسکیموں کے لیے 2600کروڑ روپے کا انتظام کیا گیا ہے۔اس کے علاوہ متفرق علاقہ ترقی اسکیم (ایم ایس ڈی پی)کے تحت الاٹ فنڈوں کا بھی استعمال کیا جائے گا، ہنر ہاٹ بھی اس سمت میں ایک اہم پہل ہے۔اقلیتوں اور کمزور طبقات کی ترقی کو ’راج د ھرم اور قومی فرض‘بتاتے ہوئے نقوی نے دعوی کیا کہ ترقی کے مسودے کو کامیاب بنانے کے لیے ملک میں اتحاد اور ہم آہنگی کا تاناباتا مضبوط رکھنا ضروری ہے اور ہماری حکومت اس سمت میں مضبوط پہل کر رہی ہے۔