ویژن کرناٹکا کے علماء سے ملاقات پروگرام میں دو ٹوک رائے
بنگلورو،29اکتوبر (ایس او نیوز ؍عبدالحلیم منصور) مسلم پرسنل لاء ہورہے حملوں، نکاح، طلاق، خلا اور حلالہ کے موضوعات پر میڈیا میں جاری گمراہ کن پروپگنڈوں کے درمیان آج وزیر شہری ترقیات و حج آر روشن بیگ کی صدارت میں گلستان شادی محل میں مختلف مکاتب فکر کے علمائے کرام کو متحد کرتے ہوئے ایک پلاٹ فارم پر جمع کرنے کے ذریعہ ویژن کرناٹکا کی جانب سے ایک انوکھے پروگرام کا انعقاد عمل میں آیا، جس میں مختلف مکاتب فکر کے علمائے دین نے شرکت کی اور بتایا کہ شریعت اسلامیپر ہورہے حملوں کے ذریعہ اغیار نے ملت اسلامیہ کو نعرہ اتحاد دیا ہے، اگر اب بھی ملت متحد نہ ہوئی تو اس کا بکھرنا طے ہے۔ اسی طرح علمائے کرام اور خطبائے عظام کے ذریعہ خطبات جمعہ کے ذریعہ حالات حاضرہ پر روشنی ڈالنے کا جب سوال اٹھاتو مسجد بیوپاریاں کے خطیب مولانا حنیف افسر عزیزی نے مشورہ دیا کہ اس معاملہ میں خطبا حضرات کو جن بندشوں میں جکڑا گیا ہے، اس کے خاتمہ کیلئے ذمہ داران مساجد کی ذہنی تربیت دی جائے، اور اس خصوص میں ویژن کرناٹکا ہی پہل کرسکتا ہے۔ نظامت کے فرائض انجام دیتے ہوئے نیئر ربانی نے علمائے کرام سے مختلف حل طلب معاملات پر سوالات کئے، جس پر علمائے دین نے بھی دو ٹوک انداز میں جواب دئے، جب خطبہ جمعہ کے دوران وسدس منٹ حالات حاضرہ پر روشنی ڈالنے کا معاملہ اٹھاتو مفتی محمد علی قاضی نے بتایا کہ اکثر مساجد میں یہ کام ہورہا ہے، تو مولانا سید عبدالمتین عمری نے بتایا کہ مدارس اسلامیہ میں ہی طلبہ کو اخبار بینی کا عادی بنادیا جاتا ہے اور وہ حالات حاضرہ سے باخبر رہتے ہیں۔ برادر شیخ عمر نے بتایا کہ پہلے کی بہ نسبت اب ملت بیدار ہوچکی ہے۔ ٹیلی ویژن اہم میڈیا کے طور پر ابھرا ہے اور ہر بچہ حالات حاضرہ سے واقف ہے۔ انہوں نے بتایا کہ اندرا گاندھی کے دور اقتدار میں جب مساجد کے خطبوں سے متعلق انٹلی جنس رپورٹ حاصل کی گئی تو یہ کہا گیا کہ مساجد کے خطبوں سے کوئی پریشانی نہیں ہے، کیونکہ وہاں آسمان کے اوپر اور زمین کے اندر کی باتیں ہوتی ہیں۔ جبکہ مولانا حنیف افسر عزیزی نے بتایا کہ اس معاملہ پر سب سے پہلے ذمہ داران مساجد کی ذہنی تربیت ضروری ہے۔ اکثر مساجد میں اگر خطیب اپنے خطبہ جمعہ میں کچھ بولنا بھی چاہے تو اس کو بندشوں میں جکڑ کر رکھ دیا جاتا ہے، اور اکثر مصلیان جمعہ کی نماز کیلئے عجلت میں آتے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ اب وقت آگیا ہے کہ علماء کرام عوام سے رشتہ جوڑیں اور مالدار طبقہ اپنے بچوں کو عالم بنائے، تب انہیں نہ ہی تنخواہ کی فکر ہوتی ہے اور نہ ہی ذمہ داران مساجد کا خوف وہ بے جھجک اپنے خیالات پیش کرسکتے ہیں۔ مولانا فاروق فوزان رشادی نے بتایا کہ مذہب کی بات کو حالات حاضرہ سے الگ نہیں کیا جاسکتا ہے، اگر ہم زکوٰۃ پر بات کریں تو اس میں حالات حاضرہ کو شامل کرنا ضروری ہے، ایسے میں دین اور دنیا کو الگ نہیں کیا جاسکتا ہے۔ اسلام اور قرآن مجید پر ریسرچ اور ان کے ذریعہ بیرون ممالک میں جاری دعوت دی کا معاملہ جب اٹھایا گیا تو مولانا حنیف افسر عزیزی نے بتایا کہ قرآن مجید پر تفسیر کیلئے 14 علوم پر مہارت ضروری ہے، انہوں نے نام نہاد مسلمان تاریخ فتح محمد کے گمراہ کن ریمارکس کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا کہ میڈیا میں ہورہی بحث میں حصہ لے رہے اکثر لوگوں کو اس بات کا تک علم نہیں ہے کہ حلالہ کیا ہے۔ مفتی محمد علی قاضی نے بتایا کہ تحقیق میں جنتا اضافہ ہوگا۔ اسلام کا اجالا اتنا ہی بڈھتا جائیگا۔ ایک اسکالر کی تحقیق کا حوالہ دیتے ہوئے عدت سے متعلق انہوں نے بتایا کہ سوائے مسلم خواتین کے کوئی عورت محفوظ نہیں ہے۔ انہوں نے بتایا کہ اسلام کو پیش کرنے کا طریقہ ہونا چاہئے۔ مختلف مکاتب کے علمائے کرام کے ذریعہ ماہانہ تبادلہ خیال کے اجلاس منعقد کرنے کی ضرورت پر سوال اٹھاتو تمام علمائے کرام نے اس کی ضرورت کو محسوس کرتے ہوئے اس پر غور کرنے کا تیقن دیا۔ جبکہ مولانا عبدالمتین عمری نے بتایا کہ ہماری بنیاد کھوکھلی ہے۔ کیونکہ ہم کام کا آغاز چھت سے کرتے ہیں۔ انہوں نے مشورہ دیا کہ تمام مدارس اور جامعات میں مقامی اور مختلف مکاتب فکر کے علمائے کرام سے روابط کے موضوع کو نصاب میں شامل کیاجائے۔ انہوں نے خادم الحجاج جناب آر روشن بیگ کو مشورہ دیا کہ وہ علمائے کرام کے مشاورتی اجلاس کی پہل کریں۔ مسلم پرسنل کے معاملہ پر انہوں نے بتایا کہ اس مسئلہ کے ذریعہ اغیار کی طرف سے نعرہ اتحاد دیا گیا ہے، اگر اب بھی ہم متحد نہ ہوتے تو بکھر جائیں گے۔ برادر عمر شریف نے بتایا کہ ان کے ادارہ میں ہر ہفتہ مختلف مکاتب فکر کے علمائے کرام کا اجلاس ہوتا ہے۔ دارالقضاء کے معاملہ پر جب بحث چھڑی تو مفتی محمد علی قاضی نے بتایا کہ تمام مکاتکب فکر کے دارالقضاء موجود ہیں، مگر فریقین میں اتفاق نہ ہونے کے سبب یہاں ہونے والے فیصلوں پر عدالتوں میں چیلنج ہوتا ہے۔ ایسے میں دارالقضاء کے نظام میں سدھار لانے کی ضرورت ہے۔ سماجی کارکن ساجدہ بیگم نے مشورہ دیا کہ تمام عدالتوں میں شریعت بنچ قائم کرنے کی کوشش کی جائے۔ مفتی محمد علی قاضی نے بھی ان کی حمایت کی، جبکہ مفتی سید مزمل احمد ازیرں نے بتایا کہ ہمارے لئے مودی جیسا لیڈر چاہئے، جو ایسی صلاحیتوں کا مالک ہوکہ وہ وزیر اعظم اور صدر ہند کو اس معاملہ پر رضامند کرسکے، جس پر ویژن کرناٹکا کے جوائنٹ کنوینر مختار احمد نے بتایا کہ مودی کو تمام ہندو تنظیموں، سوامیوں اور پجاریوں کی حمایت ہے، مگر مسلمان ایک دوسے کو کچلنے کی کوشش کرتے ہیں، انہوں نے سوال کیا کہ جب تلنگانہ میں ایک مسلمان کو نائب وزیر اعلیٰ بتایا جاسکتا ہے تو کرناٹک میں کسی مسلمان کو کوئی اہم عہدہ کیوں نہیں دیا جاتا ہے۔ مدارس کے نام پر چندوں کی رسیدوں اور سو روپوں کیلئے 50 تا 60 روپوں کے کمیشن کے معاملہ پر جب سوال اٹھایا گیا تو مولانا حنیف افسر عزیزی نے چار سال قبل رمضان المبارک میں پیش آئے واقعہ کا ذکر کرتے ہوئے بتایا کہ ایک داڑھی والے فرد کو جب اس معاملہ پر مسجد بیوپاریاں میں پکڑا گیا تو یہ حیرت انگیز معاملہ سامنے آیا کہ اس نے نقلی داڑھی لگائی ہے اور وہ مسلمان ہی نہیں ہے، اس کی بیاگ سے گانجہ کے علاوہ فحش سی ڈیز ملیں، اور پتہ چلا کہ تمل ناڈو کی ایک خاتون یہ ریکٹ چلاتی تھی، صرف پہلے عشرہ میں اس نے 15 لاکھ روپوں کا چندہ کیا تھا۔ انہوں نے بتایا کہ جب لوگ زکوٰۃ ادا کرتے ہیں تو یہ بھی نہیں سوچتے کہ ان کی زکوٰۃ ادا ہورہی ہے یا نہیں، ایسے میں کسی مدرسہ کے قیام کیلئے وقف بورڈ کو چاہئے کہ شہر کے مقتدر علمائے کرام کی رضامندی کو لازمی قرار دیا جائے۔ اس موقع پر طلاق، خلاء، نکاح جیسے معاملات پر شرکاء کے سوالات کا میشن بھی منعقد ہوا، جس پر علمائے دین نے اطمینان بخش جوابات دئے۔ اس موقع پر ویژن کرناٹکا کے کنوینر سید تحسین احمد، جوائنٹ کنوینر مختار احمد پروگرام آرگنائزر غلام غوث، فیاض قریشی، روزنامہ سالار کے ایڈیٹر کے افتخار احمد شریف، فریدہ رحمت اللہ، ساجد بیگم اور دیگر موجود تھے۔ جن علمائے کرام نے اس پروگرام میں حصہ لیا ان میں مولانا حنیف افسر عزیزی، مولانا محمد حسین اشرفی، مفتی محمد علی قاضی، مولانا سید عبدالمتین عمری، برادر عمر شریف، مفتی سید مزمل احمد ازہری اور مولانا محمد فاروق فوزان رشادی شامل ہیں۔ قرأت سے جلسہ کا آغاز ہوا اور نیئرربانی نے منفرد انداز میں نظامت کی۔