کلبرگی 21؍دسمبر(ایس او نیوز)سرکاری ضلع اسپتال میں نرسنگ اسٹاف کی غلطی سے دو نوزائیدہ بچے بدل جانے سے ایک بڑا تنازعہ کھڑا ہوگیا اور دونوں بچوں کو اپنی ماں کے دودھ سے محروم رہنا پڑا۔
ذرائع سے ملی اطلاع کے مطابق ضلع سرکاری اسپتال میں سیزیرین سرجری کے ذریعے پانچ بچوں کی ولادت ہوئی۔ جن میں سے نندمّا نامی ایک خاتون نے لڑکی اور دوسری خاتون تاج بی نے ایک لڑکے کو جنم دیا۔ مگر نرسنگ اسٹاف نے غلطی سے لڑکے کو نندمّا کے حوالے کیا اورلڑکی تاج کو سونپ دی۔ نندمّا کے گھر والے بیٹے کی پیدائش پر خوشی سے پھولے نہیں سمارہے تھے۔ اس دوران نرس کو اپنی غلطی کا احساس ہوا اور اس نے نندمّا سے بیٹا واپس کرنے اور بیٹی کو قبول کرنے کی درخواست کی۔ مگر نندمّا کے گھر والے کسی صورت اس بات کو ماننے کے لئے تیار ہی نہیں ہوئے۔یلمّا نے نوزائیدہ لڑکی کو اپنا دودھ پلانے سے بھی انکار کردیا۔ پھرڈاکٹروں نے دونوں بچوں کو اپنی ماؤں سے الگ کرکے پاوڈر دودھ پلاتے ہوئے ان بچوں کو انتہائی نگہداشت والے روم میں رکھا۔ اس کے ساتھ ہی بچوں کے خون کی جانچ کی گئی تو یہ بات صحیح ثابت ہوئی کہ بیٹی نندما کی اوربیٹا تاج بی کا ہے۔ لیکن نندمّا کے گھر والوں نے خون کی اس رپورٹ کو بھی ماننے سے انکار کردیا۔ ڈاکٹروں نے دوبارہ نجی لیباریٹری میں خون کی جانچ کروائی ،تب بھی نتیجہ وہی نکلا۔ اس پر بھی نندمّا کے گھر والے مطمئن نہیں ہوئے اور ہنگامہ کرتے رہے۔
اس دوران پولیس کو اس معاملے میں مداخلت کرنے کے لئے طلب کرلیا گیا ۔ پولیس سپرنٹنڈنٹ نے بہت ہی فہمائش کے بعد نندمّا کو اس بات پر راضی تو کرلیا کہ نوزائیدہ بچی کو اپنا دودھ پلائے، لیکن گھر والوں نے یہ مطالبہ رکھا ہے کہ بچی کاڈی این اے ٹیسٹ کیا جائے۔پولیس افسران نے اسپتال کو ہدایت دی ہے کہ الجھن دور کرنے کے لئے بچی کے گھر والوں کا مطالبہ پورا کرے۔اور دونوں نوزائیدہ بچے اپنے اپنے والدین کے ساتھ گھر جاسکیں۔