ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ساحلی خبریں / اسلام قبول کرنے پرمبینہ ہندوشدت پسند تنظیم کے کارکنوں نے کیا فیصل کا قتل؛ چار گرفتار

اسلام قبول کرنے پرمبینہ ہندوشدت پسند تنظیم کے کارکنوں نے کیا فیصل کا قتل؛ چار گرفتار

Wed, 23 Nov 2016 03:31:48    S.O. News Service

ملاپورم22/نومبر (ایس او نیوز)سعودی عرب کے ریاض میں ڈرائیونگ کی ملازمت کرنے والے انل کمار کے اسلام قبول کرنے پرمبینہ ہندو شدت پسند تنظیم کے کارکنوں نے گذشتہ روزفیصل عرف انل کمار کا قتل کردیا تھا اس ضمن میں پولس نے  فیصل کو وحشیانہ انداز میں قتل کرنے کے الزام میں چار ہندتوا وادیوں کو گرفتار کرنے کی خبر موصول ہوئی ہے۔

ذرائع سے ملی اطلاع کے مطابق کیرالہ کوڈینی کے باشندے اورہنددؤں کی اونچی ذات یعنی نائر طبقے کے انیل کمار (30) نے آٹھ ماہ قبل ریاض سعودی عربیہ میں روزگار کے لئے اپنے قیام کے دوران اسلام قبول کیا تھااور وہ انیل کمار سے فیصل بن گیا تھا۔ پھر وہ اپنے شہر واپس آکر اپنی بیوی اور تین بچوں کو بھی مشرف بہ اسلام کرنے میں کامیاب ہوگیا۔ مزیداس کی کوشش یہ تھی کہ اس کی ماں کو بھی دائرہ اسلام میں داخل کرے۔ مگر اس دوران اُسے ہندو شدت پسند تنظیم کے کارکنوں کی جانب سے جان سےمارنے کی دھمکیاں ملنی شروع ہوگئیں۔ بتایا گیا ہے کہ ان کارکنوں نے فیصل کو دھمکی دی تھی کہ وہ واپس ہندو مذہب میں واپس آجائے ورنہ انجام برا ہوگا۔

خاندان والے بھی ناراض: فیصل کے اسلام قبول کرنے اور اپنے بیوی بچوں کو بھی اسلام میں داخل کرنے سمیت اپنے اہل خانہ کے لئے داعیانہ کردار ادا کرتے ہوئے مسلمان بنانے کی کوششیں کرنے پر خاندان والے بھی فیصل سے سخت ناراض تھے۔ انہیں یہ کسی صورت برداشت نہیں ہورہاتھا۔ انہوں نے اس کے خلاف محاذ بنا یا اور مارڈالنے کی دھمکیاں بھی دیں۔ اس کی جان کو خطرہ دیکھ کر ایک مقامی عالم نے اسے پولیس میں شکایت درج کرنے اور تحفظ طلب کرنے کی بھی صلاح دی تھی۔ مگر مبینہ طور پر فیصل نے جواب دیا تھا کہ میں نے اسلام قبول کرنے کے بعد اپنا ہر معاملہ اللہ کے حوالے کردیا ہے۔ اب اگر وہ مجھے قتل بھی کرنا چاہتے ہیں تو انہیں کرنے دیجئے!

اور اسے قتل کردیا گیا:    اور پھر وہی ہوا جس کا خدشہ تھا۔ فیصل 20نومبر کو سعودی عربیہ کے لئے روانہ ہونے والا تھا۔ اس نے ایک مقامی دوست سے کہہ دیا تھا کہ وہ اس کی ماں میناکشی کو اسلام میں داخل کرنے کی کارروائی پوری کرے۔ پھر وہ19نومبر کی آدھی رات میں اپنے سسرال والوں کو ریلوے اسٹیشن سے لینے کے لئے چلا گیا مگر وہ ریلوے اسٹیشن نہیں پہنچ سکا اورصبح پانچ بجے کے وقت ایک دکان کے سامنے فیصل کی بری طرح کٹی پھٹی لاش پائی گئی۔ اس کے سر کی کھوپڑی تیز دھار والے ہتھیار سے پھاڑ کر رکھ دی گئی تھی۔ جب کہ اس کے اندرونی اعضاء باہر نکلے ہوئے تھے۔اس کی پوری لاش کو بری طرح بگاڑ دیا گیا تھا۔

ماں باپ کو شکایت نہیں تھی:    کہتے ہیں کہ فیصل کے خاندان میں مذہب تبدیل کرکے اسلام میں داخل ہونے کا یہ کوئی پہلا معاملہ نہیں ہے۔ اس سے پہلے فیصل کے دوسرے رشتہ داروں نے بھی اسلام قبول کیا ہے۔ فیصل کے والد ین کا کہنا ہے کہ اس سے پہلے بھی لوگوں نے اسلام قبول کیا ہے تو پھر ہمارے اپنے بیٹے کوہی کیوں نشانہ بنایا گیا۔  جبکہ فیصل کے والد کرشنن نائر کا کہنا ہے کہ فیصل نے کسی کے دباؤ میں نہیں بلکہ خود اپنی مرضی سے دین اسلام قبول کیا تھا۔ اور لوگوں نے اسے زندہ نہیں چھوڑا۔

قسمت نے ساتھ نہیں دیا:    حالانکہ فیصل کے والدین جو کہ قلی مزدوری کیا کرتے ہیں، اپنے خاندانی مکان میں رہتے تھے اورفیصل اپنی بیوی اور دس سال سے کم عمرکے تین بچوں کے ساتھ ایک کرائے کے گھر میں رہتا تھا، لیکن وہ اپنے والدین کی پوری طرح دیکھ ریکھ کیا کرتا تھا۔اس کا منصوبہ اپنے بیوی بچوں کو بھی سعودی عربیہ لے جانے کا تھا۔ لیکن قسمت کو کچھ اورہی منظور تھااور دیکھتے ہی دیکھتے فیصل سعودی کے بجائے سفر آخرت پر روانہ ہوگیا۔ اللہ اس کی مغفرت فرمائے اور اس کے درجات کو بلند فرمائے۔ اور پسماندگان کو صبر جمیل کے ساتھ ساتھ دین اسلام پر استقامت نصیب فرمائے۔ آمین
 


Share: