کاروار ، 19 / اگست (ایس او نیوز) اتر کنڑا میں ایچ آئی وی متاثرین کے اعداد و شمار کا جائزہ لینے پر یہ بات سامنے آئی ہے کہ گزشتہ کچھ برسوں کے مقابلے میں اس وقت ایڈس سے متاثرہ افراد کی تعداد میں اضافہ ہو رہا ہے ۔
اس صورتحال کے تعلق سے جانکاروں کا کہنا ہے کہ کاروار میں مختلف سرکاری منصوبوں کو پورا کرنے کے لئے جو مہاجر مزدور آتے ہیں وہی ایچ آئی وی متاثرین کی تعداد میں اضافے کا سبب ہیں ۔
بتایا جاتا ہے کہ میڈیکل کیمپس منعقد کرکے جب مہاجر مزدوروں کا طبی معائنہ کیا جاتا ہے تو بلڈ پریشر، شوگر کے علاوہ ایچ آئی وی ٹیسٹ بھی کیا جاتا ہے اور اس دوران اکثر مزدور ایڈس میں مبتلا ہونے کا انکشاف ہوتا ہے ۔ ایڈس میں اضافے کا دوسرا سبب الگ الگ ریاستوں سے مال لدی ہوئے ٹرکس ریاست میں لانے یا یہاں سے ہو کر گزرنے والے ڈرائیورس بھی ہوتے ہیں ۔
ایچ آئی وی مرض پھیلنے کا تیسرا سبب وہ نشہ باز بھی ہیں جو ایک ہی سیرینج سے نشہ آور چیزیں اپنے جسم میں داخل کرتے ہیں ۔ ساحلوں پر ویرانے گوشے میں پڑے ہوئے سیرینج اٹھا کر اسی کو دوبارہ ڈرگس لینے کے لئے استعمال کرنا عادی نشہ بازوں میں عام بات ہے ۔ اس وجہ سے ایچ آئی وی کا انفیکشن ایک دوسرے میں پھیلتا جاتا ہے ۔
اس معاملے پر مشورہ دیتے ہوئے ڈسٹرکٹ ٹیوبر کلوسس کنٹرول آفیسر ڈاکٹر ہرش وینکٹیش نے کہا کہ ایچ آئی وی سے متاثر ہونے والے شخص میں بیماری کے اثرات ظاہر ہونے کے لئے ایک سال سے دس سال کا عرصہ لگتا ہے ۔ خاص کرکے کالج کو طلبہ کو منشیات کے استعمال سے دور رہنا چاہیے۔
فی الحال جو اعداد و شمار دستیاب ہیں ان سے پتہ چلتا ہے کہ سال 2023-24 میں اتر کنڑا ضلع میں جملہ 141 ایچ آئی وی متاثرین موجود تھے ۔ لیکن امسال مئی سے جولائی کے دوران تین مہینے کے عرصے ایچ آئی وی سے متاثر ہونے کے 37 معاملے سامنے آئے ہیں ۔ جبکہ سال 2022-23 میں یہ تعداد 99 تھی ۔
سال 2023 سے جولائی 2024 تک ضلع میں جو ایچ آئی وی کے معاملے سامنے آئے ہیں ان میں 101 مرد، 65 خواتین، 5 ٹرانسجینڈر/ٹرانسیکس اور 7 حاملہ خواتین شامل ہیں ۔
اس حساب سے دیکھا جائے تو امسال اس تعداد میں جو اضافہ دکھائی دے رہا ہے وہ ضلع کے عوام کے لئے خطرے کی گھنٹی ثابت ہو سکتا ہے ۔