ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ساحلی خبریں / اتر پردیش اسمبلی انتخابات:سیاسی پارٹیوں کی نگاہیں مسلم رائے دہندگان پر مرکوز 

اتر پردیش اسمبلی انتخابات:سیاسی پارٹیوں کی نگاہیں مسلم رائے دہندگان پر مرکوز 

Mon, 21 Nov 2016 11:58:08    S.O. News Service

لکھنؤ، 20؍نومبر(ایس او نیوز ؍آئی این ایس انڈیا )اتر پردیش کے الیکشن میں مسلم رائے دہندگان کی خاصی اہمیت ہے اور آئندہ اسمبلی انتخابات میں سیاسی پارٹیاں سیاسی حالات کا رخ تبدیل کرنے کی طاقت رکھنے والے اس ووٹ بینک کو ایک بار پھر اپنے پالے میں لانے کی کوشش میں مصروف ہو گئی ہیں۔آبادی کے لحاظ سے ملک کے اس سب سے بڑے صوبے میں مسلمانوں کی آبادی 19.26فیصد ہے اور ریاستی اسمبلی کی کل 403میں سے 125نشستوں پر مسلم رائے دہندگان فیصلہ کن کردار ادا کر سکتے ہیں۔مسلم رائے دہندگان عام طورپربی جے پی سے دوری بنائے رکھتے ہیں لیکن مسلمانوں کے ووٹ تقسیم ہونے کا سب سے زیادہ فائدہ بھی بی جے پی کو ہی ہوتا ہے۔ایسا اس لیے ہے کیونکہ خود کو سیکولر بتانے والی پارٹیاں ایک دوسرے پر برتری حاصل کرنے کے لیے مسلم رائے دہندگان پر کافی حد تک انحصار کرتی ہیں، جبکہ بی جے پی کے پاس اپنا روایتی ووٹ بینک ہے۔2012کے اسمبلی انتخابات میں سماج وادی پارٹی کی شاندار جیت میں مسلم رائے دہندگان کی اس کے حق میں اجتماعی ووٹنگ بنیادی وجہ رہی تھی ۔ایس پی سربراہ ملائم سنگھ یادو نے کئی عوامی فورم پر اس بات کا اعتراف بھی کیا تھا، لیکن اس مرتبہ مسلم رائے دہندگان کو لبھانے کے لیے بی ایس پی سربراہ مایاوتی سب سے زیادہ سرگرم نظر آ رہی ہیں۔انہوں نے ہفتہ کو کہا تھا کہ اگر مسلمان ساتھ دیں ،تو ان کی پارٹی بی جے پی کو شکست دے سکتی ہے، اس بیان کا مطلب بالکل صاف ہے ، وہ پہلے بھی کہہ چکی ہیں کہ بی جے پی اور سماج وادی پارٹی ایک ہی سکے کے پہلو ہیں اور کانگریس ریاست میں شکست خوردہ جنگ لڑ رہی ہے، لہذا مسلمان رائے دہندگان ایس پی اور کانگریس کو ووٹ دے اپنے ووٹ کو ضائع نہ کریں۔مایاوتی کی طرف سے تین طلاق اور بھوپال میں سیمی کے 8 ز یر سماعت قیدیوں کے مبینہ انکاؤنٹر جیسے حساس مسائل پر جرات مندانہ بیان دئے جانے کو بھی مسلمانوں کواپنی جانب متوجہ کرنے کی ان کی پرزور کوشش کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔


Share: