اسلام آباد ، 16؍ستمبر (ایس او نیوز ؍ آئی این ایس انڈیا )آل انڈیا ریڈیو کی بلوچی سروس مئی 1974سے کام کر رہی ہیں تاہم حال ہی میں پاکستان میں مقامی ذرائع ابلاغ میں یہ غیر خبر سننے میں آئی کہ ہندوستان کی حکومت نے حال ہی میں بلوچی سروس کا آغاز کیا ہے۔انڈیا میں سرکاری نشریاتی ادارے پرسار بھارتی کا کہنا ہے کہ آج آل انڈیا ریڈیو کی بلوچی سروس کے لیے ایک نئی ویب سائٹ اور موبائل ایپ متعارف کروائی جا رہی ہیں۔حکام کا کہنا ہے کہ اس سروس کو متعارف پرسار ہندوستان کے چیئرمین سوریہ پرکاش خود کریں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ بلوچی سروس کی ٹیکنالوجی کو بہتر بنانے سے نہ صرف افغانستان اور پاکستان میں سننے والوں کے لیے نشریات کا معیار بہتر ہوگا بلکہ دیگر ممالک میں بلوچی بولنے اور سمجھنے والوں کو بھی اس سروس تک رسائی مل سکے گی۔آل انڈیا ریڈیو کی بلوچی سروس مئی 1974سے کام کر رہی ہیں اور ویب سائٹ کے ذریعے انٹرنیٹ پر اپنی نشریات فراہم کرنا اس سروس کے لیے اہم سنگِ میل ہے۔ تاہم حال ہی میں پاکستان میں مقامی ذرائع ابلاغ میں یہ خبر سننے میں آئی کہ ہندوستان کی حکومت نے حال ہی میں بلوچی سروس کا آغاز کیا ہے۔تجزیہ نگاروں کے خیال میں ہندوستان کے زیر انتظام کشمیر میں حالیہ احتجاج کے بعد سے دونوں ہمسایہ ممالک کے تعلقات میں کشیدگی دیکھنے کو مل رہی ہے۔ لیکن اس مرتبہ ہندوستان بلوچستان کے مسئلے کو خصوصی طور پر اٹھا رہا ہے۔ جوکہ مبصرین کے مطابق پاکستان کے کشمیر پر موقف کا جواب دینا ہے۔اس سال مارچ میں پاکستانی فوج نے کلب ھوشن یادو نامی ہندوستانی جاسوس بھی میڈیا کے سامنے پیش کیا تھا۔اس سال اگست میں یومِ آزادی کے موقعے پر ہندوستانی وزیراعظم نریندر مودی نے بھی اپنی تقریر میں پاکستانی حکومت کی جانب سے صوبہ بلوچستان میں مبینہ مظالم کا ذکر کیا۔ یہ پہلا موقع تھا کہ کسی ہندوستانی وزیراعظم نے اس موقعے پر اپنی تقریر میں پاکستان کے علاقوں میں مبینہ سورش کا ذکر کیا ہو۔ادھر پاکستانی حکومت اور سکیورٹی اداروں کو خدشہ ہے کہ بھارت اس کے صوبے بلوچستان میں علیحدگی پسند عناصر کی تربیت اور مالی امداد کر رہا ہے۔یاد رہے کہ اس سال مارچ میں پاکستانی حکام کی جانب سے ایک مبینہ انڈین جاسوس کا ویڈیو بیان میڈیا کے سامنے پیش کیا گیا تھا جس میں کلبھوشن یادو نامی شخص نے اعتراف کیا ہے کہ وہ انڈین بحریہ کے حاضر سروس افسر ہیں اور وہ انڈیا کی ایجنسی را کے لیے پاکستان میں جاسوسی کر رہے تھے۔خیال رہے کہ ہندوستانی حکومت نے اعتراف کیا کہ کلبھوشن یادو ہندوستانی بحریہ کے ملازم رہ چکے ہیں تاہم ان کا موقف ہے کہ وہ سابق افسر تھے جن کا ہندوستانی حکومت سے اب کوئی تعلق نہیں۔پرسار بھارتی کی ویب سائٹ کے مطابق آل انڈیا ریڈیو کی نشریات 1939میں پشتو زبان میں شروع ہوئیں جن کا مقصد دوسری جنگِ عظیم کے دوران افغانستان، ایران اور دیگر عرب ممالک میں جرمن پروپیگنڈہ کا مقابلہ کرنا تھا۔