ممبئی، 28/نومبر (آئی این ایس انڈیا/ایس او نیزز) ریزرو بینک آف انڈیا (آر بی آئی)کے گورنر ارجت پٹیل نے اپنی خاموشی توڑتے ہوئے نوٹ بند ی کو زندگی میں ایک بارہونے والا واقعہ بتایا۔ پٹیل نے کہا ہے کہ یہ پوری زندگی میں ایک بار ہونے والا واقعہ ہے، ایسا کم ہی ہوتا ہے کہ جو کرنسی مارکیٹ میں گھوم رہی ہے اس کے 86فیصد حصے کو ایک ساتھ ہٹا دیا جائے، ایسے آپریشن کو انجام دینے کے لیے ایک بہت بڑا نظام لگتا ہے۔ارجت پٹیل نے کہا ہے کہ مرکزی بینک پرانے بڑی قیمت کے نوٹوں پر پابندی سے پیداشدہ صورت حال کا روزانہ کی بنیاد پر جائزہ لے رہا ہے اور شہریوں کی اصل پریشانی کو دور کرنے کے لیے ہر ضروری قدم اٹھا رہا ہے۔آر بی آئی گورنر نے کہا کہ ان کی واضح منشا ہے کہ حالات جلد سے جلد معمول پر آئیں۔ریزرو بینک کے گورنر نے میڈیا کے ساتھ خصوصی بات چیت میں کہا کہ 500اور 1000روپے کے نوٹ پر پابندی کے بعد کی صورت حال کا روزانہ کی بنیاد پر جائزہ لیا جا رہا ہے اور نوٹ پرنٹنگ فیکٹریوں نے 100اور 500روپے کے نوٹ کی پرنٹنگ پر زور دینا شروع کیا ہے۔انہوں نے شہریوں سے لین دین کے لیے ڈیبٹ کارڈ اور ڈیجیٹل والٹ جیسے متبادل کا استعمال شروع کرنے کی درخواست کی اور کہا کہ اس سے لین دین سستا اور آسان ہو جائے گا اور آگے چل کر ہندوستان کو ترقی یافتہ ممالک کی طرح نقد ی کے کم استعمال والی معیشت بنانے میں مدد ملے گی۔انہوں نے کہاکہ ہم بینکوں سے تاجروں کے درمیان پی او ایس (پوائنٹ آف سیل) مشینوں کو فروغ دینے کی درخواست کر رہے ہیں، تاکہ ڈیبٹ کارڈ کا استعمال زیادہ مقبول ہو۔پٹیل نے یہ بھی کہا کہ مرکزی بینک نے 1000اور 500روپے کے نوٹ جمع کرنے سے بینکوں کے جمع میں قابل ذکر اضافہ کی وجہ سے بڑھی ہوئی نقد رقم پر 100فیصد سی آرآر (کیش ریزرو ریشو)کا بھی اعلان کیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ ایک بار حکومت اپنے وعدے کے مطابق کافی مقدار میں ایم ایس ایس (مارکیٹ استحکام منصوبہ)بانڈ جاری کر دیتی ہے تو اس کے بعد سی آرآر بڑھانے سے متعلق اس فیصلے کا جائزہ لیا جائے گا۔ریزرو بینک کی طرف سے اٹھائے گئے اقدامات کے بارے میں تفصیل سے بتاتے ہوئے ارجت پٹیل نے کہاکہ آر بی آئی اور حکومت دونوں ہی پرنٹنگ فیکٹریوں کو پوری صلاحیت سے چلوا رہی ہیں، تاکہ ڈیمانڈ کو پورا کرنے کے لیے نئے نوٹ دستیاب ہوں۔انہوں نے کہاکہ ریزرو بینک ہر دن بینکوں سے بات چیت کر رہا ہے،وہ ہمیں بتا رہے ہیں کہ صورت حال آہستہ آہستہ معمو ل پر آرہی ہے۔شاخوں اور اے ٹی ایم پر لوگوں کی قطاریں چھوٹی ہو رہی ہیں اور بازار رفتار پکڑ رہے ہیں۔روزانہ کی کھپت کی اشیاء کی کسی کمی کی رپورٹ نہیں ہے۔پٹیل نے کہا، ساتھ ہی تقریبا 40000سے 50000لوگوں کو اے ٹی ایم میں ضروری اصلاحات کے لیے لگایا گیا ہے۔کرنسی دستیاب ہے اور بینک روپے کو اٹھانے اور اس کی شاخوں اور اے ٹی ایم میں پہنچانے کے لیے مشن کے طور پر کام کر رہے ہیں، تمام بینکوں کے ملازمین نے بڑی محنت کی ہے اور ہم سب ان کے شکرگزار ہیں۔انہوں نے کہاکہ اتنا کچھ کہنے کے بعد، صورت حال کا باقاعدہ بنیاد پر جائزہ لینا اور اور ان شہریوں کی اصل تکلیف کو کم کرنے کے فیصلے لینا اہم ہے جو ایماندار ہیں اور جنہیں تکلیف ہوئی ہے۔انہوں نے کہا کہ اس مسئلہ میں اس پیمانے کی کوئی مثال ہمارے سامنے نہیں ہے، اس معاملے میں ہمیں حالات کے حساب سے چلنا پڑے گا۔پٹیل نے کہاکہ لوگ یہ پوچھ رہے ہیں کہ آخر نئی کرنسی کے سائز اور کاغذ کی موٹائی پرانی کرنسی سے مختلف کیوں ہے، اس کی وجہ یہ ہے کہ نئی کرنسی کا ڈیزائن اس انداز سے بنایا گیا ہے کہ اس کی نقل مشکل ہو۔جب آپ اس پیمانے پر تبدیلی کے لیے قدم اٹھا رہے ہیں،تو آپ کو اچھے سے اچھا معیار اپنانے کی ضرورت ہوتی ہے۔