بنگلورو۔4/نومبر(ایس او نیوز) شہر کی پولیس نے بنگلور پاپولر فرنٹ آف انڈیا کے صدر 40 سالہ عاصم شریف کو گرفتار کرکے دعویٰ کیا ہے کہ شیواجی نگر علاقہ میں گزشتہ دنوں آر ایس ایس کارکن ردریش کے قتل کے سرغنہ کو گرفتار کرلیا گیا ہے۔ عاصم شریف کو کل رات گرفتار کیاگیا، پوچھ تاچھ کے دوران پولیس نے پتہ لگایا ہے کہ ردریش سمیت دیگر ہندو نواز لیڈروں کا قتل کرکے یہ شہر میں فرقہ وارانہ بدامنی پھیلانے کی سازش رچارہاتھا۔ پہلے ہی اس سلسلے میں پولیس نے جے سی نگر کے محمد صادق عرف مظہر، آر ٹی نگر کے مجیب اللہ عرف مولا، آسٹن ٹاؤن کے وسیم اور کے جی ہلی کے عرفان کو گرفتار کرلیا ہے۔ ان تمام سے پوچھ تاچھ کے دوران دی گئی اطلاع کی بنیاد پر شیواجی نگر میں روپوش عاصم شریف کو گرفتار کیاگیا۔ عاصم کی گرفتاری کے ساتھ ہی پولیس نے دعویٰ کیا ہے کہ شہر میں ہندو تنظیموں کے لیڈروں کے قتل کے منصوبے کو ناکام بنادیا گیا ہے۔ 16/ اکتوبر کو ہوئے ردریش قتل کے سلسلے میں تحقیقات کے ابتدائی مراحل میں ہی پولیس نے یہ دعویٰ کیاتھاکہ اس واقعہ کا تعلق پی ایف آئی سے ہوسکتا ہے۔ پولیس نے عاصم شریف کو گرفتار کرکے عدالت کے سامنے پیش کیا۔ یہ بھی دعویٰ کیاگیا ہے کہ اپریل 2013 میں ملیشورم کے بی جے پی دفتر کے باہر ہوئے دھماکہ میں ملوث الامہ تنظیم سے عاصم نے مسلسل روابط رکھا تھا۔ پولیس نے الزام عائد کیا ہے کہ عاصم نے ہندو لیڈروں کو قتل کرنے کیلئے بعض نوجوانوں کی ٹیموں کو تیار کیا تھا۔ پولیس عہدیداروں نے بتایاکہ اس سلسلے میں مزید تحقیقات آگے بڑھائی جائیں گی۔
پی ایف آئی صدر کی گرفتاری پر ریاست کے مختلف شہروں اور علاقوں میں جمعرات کو احتجاجی مظاہرے کیے گیے ہیں اور آر ایس ایس کارکن کے قتل کے خلاف پی ایف آئی صدر کی گرفتاری پر سخت تشویش کا اظہار کرتے ہویے عاصم شریف کو بےقصور بتایا ہے۔ اور فوری طور پر اس کی رہایی کا مطالبہ کیا ہے۔ پی ایف آئی کا کہناہے کہ ریاستی پولس دباو کا شکار ہے اور بے قصوروں کو گرفتار کرکے اُنہیں پھنسانے کی کوشش کررہی ہے۔