ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ساحلی خبریں / آر ایس ایس مسلمانوں کو قومیت اور انسانیت کا سبق پڑھانے کے لیے کوشاں، مسلمانوں کو گمراہ کرنے آر ایس ایس سرگرم

آر ایس ایس مسلمانوں کو قومیت اور انسانیت کا سبق پڑھانے کے لیے کوشاں، مسلمانوں کو گمراہ کرنے آر ایس ایس سرگرم

Tue, 26 Dec 2017 11:33:12    S.O. News Service

نئی دہلی 25دسمبر(ایس او نیوز؍آئی این ایس انڈیا ) طلاق ثلاثہ ، گؤ رکشا، ایودھیا تنازعہ جیسے متنازعہ مسائل سے مسلمانوں میں پیدا ہو رہی الجھن کو دور کرنے کے لئے آر ایس ایس سے منسلک تنظیم مسلم راشٹریہ منچ  پہل کرنے کا دعویٰ کیا ہے ۔ان کا کہنا ہے کہ یہ تنظیم  طلاق ثلاثہ ، گؤرکشا اور ایودھیا مسئلہ پر مسلمانوں میں پھیلی آرایس ایس کے تئیں بدگمانی کو دور کریں گے۔

نئے سال کے آغاز میں مسلم راشٹریہ منچ نئی امید اور نئی سوچ کے ساتھ اپنے ملت فروش چہروں اور میر صادق جیسے لوگوں کو ساتھ لے کر علماء ،دانشوران ، مذہبی رہنماؤں، سماجی تنظیموں، یونیورسٹیوں کے سابق وائس چانسلر اور طلبہ کے درمیان سیمینار منعقد کرنے کا منصوبہ بنارہی ہے ۔اس سیمینار میں نوجوانوں پر خصوصی توجہ دی جائے گی۔

واضح ہو کہ مسلم راشٹریہ منچ سے سماج کے لیے بدنما چہرہ مولوی صہیب الظفر قاسمی، مفتی وجاہت جیسے کئی نام ہیں جو کئی اہم مقام پر بی جے پی اور آر ایس ایس کے لیے کام کرتے ہوئے آئے ہیں ۔ مسلم راشٹریہ منچ کا خیال ہے کہ تین طلاق کے خلاف مرکزی حکومت کے بل پر مسلم پرسنل لاء بورڈ سمیت دیگر مسلم تنظیم باہمی انتشار کی راہ پر ہے جب کہ حکومت جو بھی قدم اس سمت میں اٹھا رہی ہے، وہ قانونی پہلو پر ٹکا ہوا ہے۔ عدلیہ میں چلی طویل بحث اور قرآن و سنت کی بھی روشنی میں حقائق سامنے آنے کے بعد تین طلاق کے خلاف فیصلہ آیاہے ،اب حکومت کورٹ کے اس فیصلہ کے لیے قانونی عملی جامہ تیارکرنا چاہتی ہے ۔ مسلم راشٹریہ منچ کا یہ بھی موقف ہے کہ تنازعہ کی کوئی بات ہی نہیں ہے۔ در اصل آر ایس ایس کی اس ذیلی تنظیم سے جو بھی علماء نما افراد وابستہ ہیں انہیں قرآن و سنت کا درست علم و ادراک بھی نہیں ہے جو قرآن و سنت سے مستنبط مسائل کو اپنی تنظیم کے ارکان سے بتاسکیں ۔اس ذیلی تیظیم کا موقف ہے کہ مسلمانوں کو قانونی دائرے میں لایا جائے گا اور انہیں بتایا جائے گا کہ طلاق ثلاثہ کے تئیں حکومت کی طرف سے پیش کردہ موقف پر عمل درآمد سے خواتین میں پیدا عدم مساوات کس طرح دور ہوگی ، دراں حالے کہ اس سے سوا یہ کہ اسلام میں کوئی عدم مساوات ہی نہیں ہے ؛ بلکہ اس میں مکمل طور پر تمام افراد کے لیے مساوات اور برابری کے حقوق ہیں ۔ حکومت اپنے بھگوائی ایماء کے موافق اس بل کو جلد ہی ایوان میں پیش کرنے جارہی ہے ؛ لیکن آل انڈیا مسلم پرسنل لاء بورڈ کا موقف اس کے برعکس ہے اور یہی شریعت کا بھی تقاضہ ہے ۔ علاوہ ازیں گؤ رکشکوں کو لے کر اکثر تنازعہ سامنے آنے پر بھی مسلم راشٹریہ منچ تصویر واضح کرنے کی کوشش کر ے گی ، منچ کا موقف ہے کہ گؤرکشکوں کے نام پر تنازعہ میں نقصان آخر کار مسلمان کا ہی ہوتا ہے ؛لہٰذ گؤ رکشکوں اور گؤ کشی کے متعلق حکومت اور قانون کا واضح منشا کے اظہار کا بھی پروگرام ہے ۔جبکہ ضرورت اس بات کی ہے کہ اولاً نام نہاد گؤ رکشکوں پر پابندی لگائی جاتی اور اس کے خلاف خود آر ایس ایس کو کھل کر اپنا موقف اختیارکرنا چاہیے ۔حتیٰ کہ منچ مفروضہ لو جہاد کے نام پر ہونے والے تنازعات اور قتل و غارت گری کو بھی روکنے اور مسلمانوں میں بیداری لانے کو لے کر بھی مشورہ ممکن ہے ۔ اس کے علاوہ ایودھیا میں مندر اور مسجد تنازعہ کو لے کر ہندو اور مسلم دونوں طبقوں میں پیدا ہو رہے اندیشے کو دور کرنے کی کوشش تمام دانشوران اور علماء نیز قانون کے ماہرین سے کرانے کی کوشش کی جائے گی۔ ایودھیا تنازعہ کے قانونی پہلو کی معلومات دی جائے گی۔ مسلم راشٹریہ منچ اپنی کوشش سے یہ بھی بتانے کی کوشش کرے گی کہ تعصب کے ماحول سے کس طرح بچاجائے اور قومی مفاد میں کس طرح کام ہو ۔ دہلی میں نئے سال پر ہونے والے اس سیمینار میں جموں و کشمیر میں بدامنی کے واقعات پر خصوصی مشاورت کرے گی ۔ برہان وانی کے جاں بحق ہونے کے بعد نوجوانوں کی طرف کی جانے والی پتھر بازی، دہشت گردانہ واقعات کی روک تھام اور حکومت کی طرف سے وہاں امن کے لئے کی گئی بنیادی کوششوں کی معلومات پیش کرکے اپنا موقف واضح کرے گی ۔ منچ نے اس مسودے کو قومی قیادت کے سامنے رکھ دیا گیا ہے وہاں سے ہری جھنڈی ملتے ہی سیمینار کی تاریخ اور مقام کا اعلان کر دیا جائے گا۔ بطور مہمان مدعو کیے جانے والوں کے نام بھی تقریباً طے ہیں ۔ 


Share: