سرینگر:12/مئی (ایس او نیوز/آئی این ایس انڈیا)جنوبی کشمیر کے پلوامہ ضلع میں ہفتہ کو مبینہ دہشت گردوں اور سیکورٹی فورسز کے درمیان تصادم میں سی آر پی ایف کا ایک جوان ہلاک ہوگیا جبکہ ایک شہری زخمی ہو گیا۔ تصادم کے بعد کسی طرح کی افواہوں کو پھیلنے سے روکنے کے لئے انتظامیہ نے انٹرنیٹ خدمات کو بند کر دیا ہے۔سرکاری ذرائع کے مطابق پلوامہ ضلع کے تکیہ واگم گاؤں میں تین سے چار جنگجو گزشتہ رات آئے تھے۔ اس کا علم ہوتے ہی آدھی رات کے بعد فوج کی ایک مشترکہ ٹیم نے گاؤں کا محاصرہ کر لیا۔ آج ایک بجے فوجیوں نے جیسے ہی جنگجوؤں کی طرف سے ٹھکانہ بنائے مقام کی طرف آگے بڑھنے کی کوشش کی تو جنگجوؤں نے بھارتی فوجیوں پر دستی بم پھینکنے شروع کر دیئے اور اس کے بعد انہوں نے فائرنگ شروع جھونک دی۔ سکیورٹی فورسز نے بھی جوابی فائرنگ کی، جس کے بعد تصادم شروع ہوگیا۔ اس میں ایک فوجی مندیپ سنگھ شدید زخمی ہو گیا۔ اسے اسی وقت سری نگر واقع فوج کے اسپتال میں علاج کے لئے لایا گیا۔ علاج کے دوران ان کی موت ہو گئی۔ وہیں جنگجوؤں اور سیکورٹی فورسز کے درمیان کراس فائرنگ کی زد میں آکر ایک مقامی شہری بشیر احمد بھی زخمی ہو گیا۔ اس کے کندھے پر گولی لگی ہے اور اس کا ہسپتال میں علاج چل رہا ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ تصادم کے دوران جب وہ اپنے گھر سے باہر بھاگ رہا تھا تو اس وقت وہ زخمی ہوا ہے۔گاؤں میں گولیوں کی گونج سے صبح لوگوں کی آنکھ کھلی۔ لیکن ا س تصادم میں عوامی مزاحمت کا بھی سامنا کرنا پڑا۔ سکیورٹی فورسز نے دہشت گردوں کی گولیوں کا جواب دیتے ہوئے پر تشدد ہجوم پر بھی قابو پانے کی کوشش کی۔سکیورٹی فورسز نے عوامی مزاحمت سے بچنے کے لئے جیسے ہی کچھ دیر کے لئے جنگجوؤں پر اپنی فائرنگ روکی، دہشت گرد پتھراؤ کی آڑ میں فرار ہو گئے۔