ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / خلیجی خبریں /  بی جے پی کے لیے ہم فکر جماعت کی طرف سے ’سیاسی سبق‘

 بی جے پی کے لیے ہم فکر جماعت کی طرف سے ’سیاسی سبق‘

Wed, 11 Jul 2018 01:36:50    S.O. News Service

 ممبئی:10/جولائی (ایس او نیوز/آئی این ایس انڈیا) ملک میں ہو رہی آبروریزی کے واقعات کو لے کر بی جے پی کے ایک رکن اسمبلی کے بیان پر رد عمل ظاہر کرتے ہوئے شیو سینا نے کہا کہ قانون و انتظامیہ بے سمت ہوکر حد سے تجاوز کرچکی ہے تو اس صورت حال میں بی جے پی کس طرح ”رام راج“ قائم کرے گی؟  اپنی حلیف جماعت کی تنقید کرتے ہوئے شیوسینا نے کہا کہ جو اقتدار و زمام پر مسلط ہیں، ان کا موقف 2012 میں دسمبر مہینے میں ہوئے نربھیا آبروریزی کے وقت کچھ اور ہی تھا۔پارٹی نے کہا کہ حکومت بدلی لیکن آبروریزی کے واقعات پرقدغن نہیں لگائی جاسکی؛بلکہ تواتر سے پیش ہی آرہے ہیں،جو کہ انتہائی افسوسناک ہیں۔ شیوسینا نے آگاہ کرتے ہوئے کہا کہ جذباتی مسائل کے ساتھ کھلواڑ کرنا”تشدد“ کی طرف لے جا سکتا ہے۔ شیوسینا نے کہا کہ ’رام‘ نے کبھی بھی اس طرح کی سیاست کی حمایت نہیں کی تھی۔ واضح ہو کہ  اپنے متنازعہ بیانات کے لئے معروف بی جے پی ایم ایل اے سریندر سنگھ نے حال ہی میں کہا تھا کہ ”رام بھی آبروریزی نہیں روک سکتے“۔ دراصل ممبر اسمبلی نے یہ بیان اترپردیش کے اناؤ میں ایک عورت کو ایک جنگل میں لے جا کر ہراساں کیے جانے کے تناظر میں دیا تھا۔شیوسینا نے اپنے ترجمان اخبار ”سامنا“ کے ادارتی صفحہ میں کہا کہ بی جے پی ”رام راج“کی بات کرتی ہے؛ لیکن یہ صاف کرنا چاہئے کہ اس کا رام راج لانے کی منصوبہ کیسا ہے۔ یوپی سمیت ملک کی مختلف ریاستوں میں خواتین کے ساتھ چھیڑ خانی، ہراسانی اور آبروریزی کے واقعات میں اضافہ ہوا ہے۔ شیوسینا نے کہا کہ آبروریزی پر قدغن کے اقدامات  کے عوض بی جے پی کا کہنا ہے کہ بھگوان رام بھی آبروریزی نہیں روک سکتے جو کہ خود اپنی ماہیت و حقیقت کے اعتبار سے ’شرمناک‘ ہے۔ 


Share: