ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ریاستی خبریں /  انٹرنیٹ بند نہ کرتے تو احتجاج پورے ملک میں پھیل جاتا:پاسداران انقلاب

 انٹرنیٹ بند نہ کرتے تو احتجاج پورے ملک میں پھیل جاتا:پاسداران انقلاب

Tue, 26 Nov 2019 17:14:23    S.O. News Service

 تہران / 26 نومبر (آئی این ایس انڈیا) ایران کی سپاہ پاسداران انقلاب کے ایک سینئر عہدیدار اور عسکری مشیر علی بلالی نے کہا کہ پٹرول کی قیمتوں میں اضافے کے حکومتی فیصلے کے خلاف گذشتہ ہفتے بیشتر ایرانی صوبوں میں احتجاج کیا گیا۔ احتجاج کا دائرہ انٹرنیٹ کے استعمال سے زیادہ وسیع ہوگیا تھا۔ اگر انٹرنیٹ بند نہ کرتے تو ملک گیر احتجاج شروع ہوجاتا۔ایرانی پاسداران انقلاب کے سربراہ حسین سلامی نے بھی ایک بیان میں کہا ہے کہ ایرانی عوام اپنے انقلاب کی قیمت پٹرول کی قیمتوں میں اضافے سے وصول نہیں کریں گے۔ تاہم ایران کی گارڈین کونسل کے سیکرٹری جنرل محسن رضائی نے کہا کہ گر ہم معاشی نظام میں اصلاحات نہیں کرتے ہیں تو ہمیں ایک ڈالر کے لیے 25 ہزار تومان تک کی کرنسی کے گرنے کے امکان کو رد نہیں کرنا چاہیے۔جمعہ 15 نومبر کو ایران کے بیشتر صوبوں میں اس وقت مظاہرے پھوٹ پڑے تھے جب حکومت نے پٹرولیم مصنوعات میں دو سو فیصد اضافہ کردیا تھا۔ اس فیصلے کے خلاف پانچ دن سے زیادہ عرصہ تک احتجاج کیا۔ یہ احتجاج 100 شہروں اور قصبوں میں پھیل گیا اور تیزی سے سیاسی مطالبات میں بدل گیا۔ مظاہرین نے ایرانی قیادت کی برطرفی کا بھی مطالبہ شروع کردیا ہے۔ایمنسٹی انٹرنیشنل کے مطابق سیکیورٹی اور پولیس کے مابین ہونے والے جھڑپوں میں درجنوں افراد ہلاک ہوگئے ہیں جبکہ بیرون ملک ایرانی حزب اختلاف نے 400 سے زائد افراد کی ہلاکت کی تصدیق کی ہے۔بیرون ملک ایرانی حزب اختلاف نے ہفتے کی رات کہا تھا کہ مظاہروں میں ہلاکتوں کی تعداد 300 افراد سے تجاوز کر گئی ہے جب کہ گذشتہ شام اپوزیشن کے ترجمان نے ہلاکتوں کی تعداد 400 بتائی ہے۔اس سے قبل پیر کے روز ایمنسٹی انٹرنیشنل نے اطلاع دی تھی کہ 15 نومبر کو ایندھن کی قیمتوں میں اضافے کے بعد ہونے والے مظاہروں میں ایران بھر میں کم از کم 143 مظاہرین ہلاک ہوگئے تھے۔معتبر اطلاعات کے مطابق ہلاکتوں کی تعداد کم از کم 143 ہے۔ تقریبا تمام اموات آتشیں اسلحہ کے استعمال کی وجہ سے ہوئی ہیں۔ لندن میں قائم انسانی حقوق کی تنظیم کا کہنا تھا کہ ایک شخص آنسو گیس کی شیلنگ سے ہلاک ہوا تھا اور ایک کی موت تشدد کے نتیجے میں واقع ہوئی۔
 


Share: