واشنگٹن28؍اکتوبر (ایس او نیوز؍آئی این ایس انڈیا) دنیا بھر اور خصوصاً مشرقِ وسطیٰ میں خوف اور دہشت کی علامت سمجھی جانے والی تنظیم دولتِ اسلامیہ یا داعش کے سربراہ ابو بکر البغدادی شام کے مغربی صوبے ادلب میں امریکی فوج کے ایک خصوصی آپریشن میں ہلاک ہو گئے ہیں۔امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اتوار کی صبح ایک پریس کانفرنس میں ابوبکر البغدادی کی ہلاکت کی تصدیق کی۔یوں تو صدر ٹرمپ مختلف مواقع پر داعش کے مکمل خاتمے کے دعوے کر چکے ہیں لیکن عالمی سطح پر تنظیم کے زیرِ اثر گروپ مختلف ممالک میں دہشت گردی کی کارروائیوں کی ذمہ داری قبول کرتے رہے ہیں۔دولتِ اسلامیہ یا داعش کو ابتداً القاعدہ ہی کا ایک دھڑا سمجھا جاتا ہے۔ نوے کی دہائی میں یہ تنظیم جماعت التوحید و الجہاد کے نام سے کام کر رہی تھی۔ امریکہ کے 2003 میں عراق پر حملے کے بعد یہ تنظیم زیادہ سرگرم ہوئی اور امریکہ کی زیرِ سرپرستی قائم ہونے والی عراقی حکومت کے خلاف برسرِ پیکار رہی۔اس تنظیم کا مقصد خلیجی ممالک بالخصوص عراق، شام اور اردن میں اپنا تسلط قائم کرنا تھا جس کو انہوں نے خلافت کا نام دیا۔ تاہم بعد ازاں اس تنظیم نے افغانستان، پاکستان اور بھارت سمیت مختلف ممالک میں بھی اپنی موجودگی کے دعوے کیے۔مشرقِ وسطیٰ اور عالمِ عرب پر نظر رکھنے والے صحافی منصور جعفر کہتے ہیں کہ داعش کا قیام صدام حسین کی فوج میں شامل ان ناراض اور بھگوڑے اہلکاروں کا مرہونِ منت ہے جنہوں نے القاعدہ میں اختلافات کی باعث اپنی نئی تنظیم تشکیل دی تھی۔امریکہ کے عراق پر حملے کے بعد عراق میں سرگرم جہادی تنظیم 'انصار الاسلام' نے مزاحمت کا آغاز کیا۔ جب کہ بصرہ میں مقیم شیعہ رہنما مقتدیٰ الصدر بھی امریکہ کے خلاف مزاحمت میں کچھ عرصے تک شامل رہے۔عراق کے شہروں بغداد، موصل، فلوجہ اور تکریت میں امریکی فوج کے خلاف مزاحمت میں تیزی ا?نے لگی اور ایک اردنی شہری ابومصعب الزرقاوی کا نام گونجنے لگا۔عراق میں امریکہ کے حمایت یافتہ شیعہ وزیرِ اعظم نوری المالکی کی حکومت قائم ہونے کے بعد جہادی گروپ زیادہ سرگرم ہو گئے اور عراق کی خانہ جنگی بڑی حد تک شیعہ اور سنی خانہ جنگی میں تبدیل ہو گئی۔ حیرت انگیز طور پر وزیرِ اعظم نورالمالکی کی حکومت کو ایران کی حمایت بھی حاصل تھی۔ابو مصعب الزرقاوی کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ اس نے اسامہ بن لادن کے کہنے پر عراق میں امریکہ کے خلاف جہادی گروہوں کو متحرک کیا تھا جو بعد ازاں عراق میں امریکی فوج کے لیے دردِ سر بن گئے تھے۔الزرقاوی نے عراق میں متعدد خود کش حملے منظم کیے۔ مخالفین کے سرقلم کرنے اور ظلم کی علامت بن جانے والے الزرقاوی 2006 میں امریکی کارروائی میں مارے گئے۔الزرقاوی کی ہلاکت کے بعد ابو عمر البغدادی نے ان جہادی گروہوں کی کمان سنبھالی اور 15 اکتوبر 2006 میں دولتِ اسلامیہ عراق کی بنیاد ڈالی گئی۔تنظیم نے اپنا نشریاتی ادارہ ’الفرقان‘ کے نام سے قائم کیا۔ جس کے تحت میگزین اور آڈیو، ویڈیو پیغامات جاری کرنے کا سلسلہ شروع ہوا۔ 2010 میں ابو عمر البغدادی کی ہلاکت کے بعد دولتِ اسلامیہ عراق کی کمان ابوبکر البغدادی(اصل نام: ابراہیم اوواد ابراہیم البدری) نے سنبھال لی جس کے بعد یہ تنظیم مستحکم ہوتی گئی۔ابوبکر البغدادی کی سربراہی میں دولتِ اسلامیہ عراق نے تیزی سے کامیابیاں حاصل کیں۔ ملک کے سنی اکثریتی علاقوں میں مقامی قبائل کی حمایت سے یہ تنظیم مضبوط ہوتی گئی اور ان علاقوں کے سرکاری بینک اور قیمتی وسائل بھی ان کے قبضے میں آ گئے۔ماہرین کے مطابق یہ صورتِ حال امریکہ کے لیے بہت پریشان کن تھی۔اس دوران 2011 میں شام میں بشار الاسد کی حکومت کے خلاف بھی عوام اٹھ کھڑے ہوئے اور تنظیم نے موقع غنیمت جانتے ہوئے وہاں بھی اپنے قدم جما لیے۔ یوں یہ تنظیم 'دولتِ اسلامیہ عراق اور شام یعنی آئی ایس آئی ایس کے نام سے جانی جانے لگی۔ابوبکر البغدادی نے 2014 میں عراق اور شام کے وسیع علاقے پر مشتمل اپنی خلافت قائم کرنے کا اعلان کیا۔ البغدادی نے اس وقت دعویٰ کیا تھا کہ وہ پانچ سال کے اندر پرتگال سے لے کر بھارت تک پھیلے ممالک میں اپنی خلافت کو توسیع دیں گے۔عالمی امور کے ماہر اور پنجاب یونیورسٹی کے شعبہ تاریخ کے سربراہ پروفیسر ڈاکٹر اقبال چاؤلہ کہتے ہیں کہ 2011 کے بعد مشرق وسطیٰ اور مختلف عرب ممالک کے حکمرانوں کے خلاف عوامی بغاوت نے بھی داعش کی مضبوطی میں اہم کردار ادا کیا۔اقبال چاؤلہ کے بقول ان بغاوتوں کے دوران شہریوں کو جانی اور مالی نقصان اٹھانا پڑا۔ خاص طور پر شام میں زیادہ جانی نقصان ہوا۔ جس کے باعث انتہاپسندی میں اضافہ ہوا اور بہت سے لوگ داعش میں شامل ہوئے۔