بنگلورو، 24 ؍دسمبر(ایس او نیوز) کانوں کو پھاڑ دینے والی ہارنوں کی آوازیں، راستوں پر سواریوں کا ایسا ہجوم کہ راستے تقریباً بند پڑ جائیں اور اس پر یہ کہ سواروں کو اپنی منزل پر پہنچنے کی جلدی۔۔۔یہ وہ تصویر ہے جو شہر کے بھیانک خواب جیسی ٹریفک کی صورت حال کو واضح کرتی ہے۔ایک ایسے وقت میں جب کہ راستے پہلے ہی سے بے تحاشہ بڑھتی ہوئی سواریوں کی آبادی سے ٹوٹنے پھوٹنے لگے ہیں، مستقبل کے دریچہ میں ایک نظربہت خوف ناک محسوس ہو رہی ہے۔سال 2022 تک شہر کے راستوں پر سواریوں کی تعداد کے ایک کروڑ تک پہنچ جانے کے اندیشوں کے درمیان خیال یہ ہے کہ حالات مزید ابتر ہو سکتے ہیں۔ایک ایسے موقع پر جہاں سواریوں کے جدید اندراج پر روک کی کوئی صورت نہیں پائی جاتی ، صرف ایک عمدہ عوامی نظام نقل و حمل ہی اس مسئلہ کا بہترین حل ہو سکتا ہے۔فلائی اووروں کی تعمیر اور راستوں کی توسیع کا کام اس وقت تک مفید نہیں ہو سکتا جب تک کہ عوام بسوں اور میٹرو جیسے عوامی نظام نقل و حمل کی طرف رخ نہیں کرتے۔کار پولینگ (ایک شخص کی کار میں ایک ہی راستہ پر جانے والے مختلف افراد کو اعزازی طور پر ساتھ لے جانے کا نظام) جیسے اقدامات کو بھی قوت پہنچانے کی ضرورت ہے۔اب وقت آگیا ہے کہ اقدامات کئے جائیں ، انفرادی طور پر بھی اور اجتماعی سطح پر بھی۔واضح رہے کہ شہر بنگلور میں پچھلے دس سالوں میں دو پہیہ اور چارپہیہ سواریوں کا اندراج 70.28 لاکھ تک پہنچ گیا ہے۔ 48.69 لاکھ دو پہیہ سواریاں اور 13.58 لاکھ چار پہیہ سواریاں اس میں شامل ہیں۔البتہ شہر کے راستوں پر سواریوں کی اصل تعداد اس سے بہت زیادہ بھی ہو سکتی ہے اس لئے کہ ریاست سے باہر کی سواریاں اور وہ سواریاں جو کرناٹک کے دوسرے اضلاع میں اندراج ہوئی ہیں وہ بھی شہر کے راستوں پر بڑی تعداد میں دوڑ رہی ہیں۔سال 2011 کے سینسس کے مطابق بنگلور شہر کی کل آبادی 84 لاکھ 43 ہزار ہے۔ محکمہ حمل و نقل کی جانب کے اعداد و شمار کے مطابق پچھلے دس سالوں میں سواریوں کی تعداد میں دوگنے سے بھی زیادہ اضافہ ہو ا ہے، جبکہ چالیس لاکھ اٹھارہ ہزار سواریوں کا اضافہ ہوا ہے اور دو پہیہ سواریاں شہر کے راستوں پر برابر راج کر رہی ہیں اور شہر کی سواریوں کی کل تعداد میں سے 70 فیصد حصہ پر مشتمل ہیں جس کے بعد 19 فیصد کے حساب سے کاروں کی تعداد ہے۔ملکی سطح کے اعداد و شمار کے مطابق بنگلور شہر پورے ملک میں سواریوں کی تعداد کے معاملہ میں دوسرے نمبر پر ہے۔ایک کروڑ ایک لاکھ سواریوں کے ساتھ نئی دہلی سر فہرست ہے جبکہ اس کے بر عکس ممبئی سب سے پیچھے تیس لاکھ 69 ہزار سواریوں کا حامل ہے(مارچ 2017 کے اعداد و شمار کے مطابق)، اس سے اوپر 47 لاکھ 57 ہزار سواریوں کے ساتھ چنئ ہے (اپریل 2016 کے اعداد و شمار) جبکہ حیدر آباد 48 لاکھ 70 ہزار سواریوں کا حامل ہے (پچھلے سال 31 اکتوبر تک کے اعداد و شمار کے مطابق)۔ماہرین کا کہنا ہے کہ بی ایم ٹی سی بسوں کی تعداد کی کمی، ان پر سفر کی بڑھی ہوئی قیمتیں اور آخری مرحلہ تک رسائی کے رابطہ کا فقدان ، میٹرو اسٹیشنوں پر پارکنگ کی بھاری قیمتیں اور مضافاتی علاقوں تک پہنچنے کے لئے ریل گاڑیوں کی بد نظمی وغیرہ وہ وجوہات ہیں جن کی بنیاد پر لوگ زیادہ سے زیادہ تعداد میں اپنی خود کی اور خاص سواریوں کے حصول کو ترجیح دے رہے ہیں۔شہر میں بڑھتی ہوئی سواریوں کی تعداد راستوں کو تنگ کر رہی ہیں، سواریوں کی رفتار پر اثر انداز ہو رہی ہیں اوراس کی وجہ سے شہر میں آلودگی کی سطح میں بھی اضافہ ہوتا جا رہا ہے۔ٹریفک کے ماہر ایم این سری ہری کا کہنا ہے کہ قابل انحصار نقل و حمل کا نظام زیادہ سے زیادہ تعداد میں لوگوں کو عوامی سواریوں کے استعمال کی طرف راغب کر سکتا ہے۔انہوں نے بتایا کہ ’’شہر کے راستوں پر پچھلے کچھ سالوں میں سواریوں کی اوسط رفتار میں کافی کمی واقع ہوئی ہے اور اس کی وجہ راستوں پر بڑھتی ہوئی سواریوں کی تعداد ہی ہے،اکثر راستوں پر مصروف اوقات میں سواریوں کی رفتار ایک عددی بن کر رہ جاتی ہے‘‘۔ ٹریفک پولیس بھی سواریوں کی تعداد میں اس بے تحاشہ اضافہ کے اثرات سے بری طرح متاثر ہو رہی ہے۔اضافی پولیس کمشنر (ٹرافک) آر ہتیندرا نے بتایا کہ ’’غیر قانونی طور پر سواریوں کو راستوں کے کنارے کھڑا کردینا سب سے بڑا مسئلہ ہے۔ہمیں سواریاں اٹھا کر لیجانے کے نظام کو مزید وسعت دینے کی ضرورت ہے‘‘۔شہر کے راستوں پر سواریوں کی تعداد میں سالانہ دس فیصد اضافہ کی اوسط کا یہی سلسلہ جاری رہا تو سال 2022 تک بنگلور شہر میں سواریوں کی تعداد ایک کروڑ آٹھ لاکھ تک پہنچ سکتی ہے۔محکمہ نقل و حمل کے ایک اعلیٰ افسر نے بتایا کہ ان کے پاس ان سواریوں کی تعداد سے متعلق کو ئی اعداد و شمار موجود نہیں ہیں جو ترک کر دی گئیں ہیں یا بغیر استعمال کئے کھڑی کر دی گئی ہیں۔انہوں نے کہا کہ ’’تقریباً نو لاکھ سواریاں جو کہ پندرہ سال سے بھی زیادہ قدیم ہیں ان کے تعلق سے یہ گمان کیا جا سکتا ہے کہ وہ استعمال میں نہیں ہونگی۔ایسا کوئی قانون نہیں ہے کہ ایک خاندان کے لئے سواریوں کی تعداد پر کوئی پابندی عائد کی جا ئے یا نئے اندراج پر روک لگائی جائے‘‘۔ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ سواریوں کی خریدی کے لئے قرضہ جات کی حصولیابی میں آسانی اور عوامی نظام نقل و حمل کی بد انتظامی یہ وجوہات ہیں جن کے سبب نجی سواریوں کی تعداد میں اضافہ ہو رہا ہے۔ افسران کا کہنا ہے کہ سال 2020 میٹرو کے دوسرے مرحلہ کی تکمیل سے زیادہ لوگوں کو عوامی نظام نقل و حمل کے استعمال کی ترغیب حاصل ہو سکتی ہے۔لیکن بی ایم آر سی ایل کے تعلق سے یہ کہا جا رہا ہے کہ وہ اس ہدف کو حاصل کرنے میں کامیاب نہیں رہے گی اس لئے کہ پچھلے تجربات اس کے شاہد ہیں کہ میٹرو کا کوئی کام وقت پر مکمل نہیں کیا جا سکا ہے۔