بنگلورویکم /ستمبر(ایس او نیوز) ڈائریکٹر جنرل و انسپکٹر جنرل آف پولیس مسٹر اوم پرکاش نے اپنے چھوٹے موٹے مسائل میڈیا کے سامنے رکھنے کے خلاف پولیس افسران کووارننگ دی ہے کہ اگر ایسا ہوتا ہے تو پھر محکمہ کی طرف سے ان کے خلاف تادیبی کارروائی ہوگی۔
سول پولیس کی پاسنگ آؤٹ پریڈ میں شرکت کے بعد اخباری نمائندوں سے گفتگو کرتے ہوئے مسٹر اوم پرکاش نے پولیس افسران کو مشورہ دیا کہ وہ لوگ کام کے بوجھ سے نمٹنے اور اپنی ذمہ داریاں ادا کرنے کے لئے ذہنی اور جسمانی قابلیت کو بڑھائیں اور کہا کہ میڈیا میں اچھالنے سے مسائل حل نہیں ہونگے۔بلکہ افسران اگر چاہیں تو کسی بھی قسم کے مسئلے کو حل کرنے کے لئے حکومت یا پھر کرناٹکا ایڈ منسٹریٹیو ٹریبو نل سے رجوع کیا جاسکتا ہے۔
مسٹر اوم پرکاش کا یہ تبصرہ اس وقت سامنے آیا ہے جبکہ ایک دن قبل وزیر داخلہ جی پرمیشور نے ضلع شمالی کینرا اور بلاری کی دو خاتون پولیس سب انسپکٹرس کی طرف سے اپنے افسران پرعائد کیے گئے الزامات کے بارے میں پولیس کے اعلیٰ افسران سے رپورٹ طلب کی ہے۔
یاد رہے کہ بھٹکل کی سب انسپکٹر ریوتی نے یہ الزام لگاتے ہوئے استعفیٰ دیا ہے کہ اس کے سینئر افسران اسے اپنی ذمہ داریاں ادا کرنے میں رکاوٹیں پید ا کر رہے ہیں۔جبکہ بلاری کی پی ایس آئی گائیتری فرحان نے فیس بک پر اپنے مسائل اور محکمہ پولیس میں خواتین کے خلاف ماحول کا ذکر چھیڑ رکھا ہے۔اس سے پہلے کودلگی کی ڈپٹی سپرنٹنڈنٹ آف پولیس انوپما شینوئی نے ذمہ داریوں کی ادائیگی کی راہ میں سیاسی مداخلت کا الزام لگاتے ہوئے اپنے عہدے سے نہ صرف استعفیٰ دیا تھا بلکہ ٹی وی چینل پر کھل کر اپنے خیالات کا اظہار کیا تھا۔
اس دوران وزارت داخلہ کی طرف سے کہا گیا ہے کہ پولیس کے اعلیٰ افسران کے لئے اپنے ماتحت افسران کے ساتھ اور خاص کر خاتون افسروں کے ساتھ معاملات کرنے اور ذمہ داریاں ادا کرنے کے بارے میں ایک خصوصی تربیتی پروگرام وضع کیا گیا ہے۔ اس ضمن میں ہر ضلع میں بیداری لانے کے لئے اعلیٰ افسران کی کاونسلنگ بھی کی جارہی ہے۔