ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / عالمی خبریں / روس کے تازہ میزائل اور ڈرون حملے، یوکرین میں 12 ہلاک، 40 کے قریب زخمی، زیلنسکی کا سخت ردعمل

روس کے تازہ میزائل اور ڈرون حملے، یوکرین میں 12 ہلاک، 40 کے قریب زخمی، زیلنسکی کا سخت ردعمل

Tue, 30 Jun 2026 17:18:44    S O News
روس کے تازہ میزائل اور ڈرون حملے، یوکرین میں 12 ہلاک، 40 کے قریب زخمی، زیلنسکی کا سخت ردعمل

کیف /یوکرین ،  ، 30/ جون (ایس او نیوز /ایجنسی)یوکرین میں پیر کو روسی میزائلوں اور ڈرون حملوں میں کم از کم 12 عام لوگوں کی موت ہو گئی، جبکہ 40 دیگر زخمی ہو گئے۔ صدر زیلنسکی نے ان حملوں کو خوفناک بتایا ہے۔ روس نے 4 سال سے زیادہ وقت قبل جب سے اپنے پڑوسی ملک پر پوری طاقت سے حملہ کیا ہے، تب سے اس کی افواج یوکرین کے بنیادی ڈھانچے کو تباہ کرنے اور اس کے لوگوں کے حوصلے پست کرنے کے لیے بمباری کر رہی ہیں۔ اقوام متحدہ کے مطابق اس مدت کے دوران 16 ہزار سے زائد یوکرینی شہری مارے جا چکے ہیں۔

نپرا پیٹروسک علاقے کے سربراہالیکساندر ہنزا نے بتایا کہ بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنانے والی ایک روسی میزائل وسطی شہر نپرو سے ٹکرائی جس میں 6 لوگوں کی موت ہوگئی اور 29 لوگ زخمی ہو گئے۔ زیلنسکی نے سوشل میڈیا پر بتایا کہ روسی ڈرون نے جنوبی شہر زاپورشیا میں مسافروں سے بھری ایک منی بس پر بھی حملہ کیا جس میں 3 لوگوں کی موت ہو گئی اور ایک بچہ سمیت 6 لوگ زخمی ہو گئے۔

نیشنل پولیس نے بتایا کہ روسی ڈرون نے شمال مشرقی سمی علاقے میں ایک 69 سالہ خاتون اور ایک 77 سالہ شخص کی بھی جان لے لی۔ خرکیف کے میئر ایہور تیریخوف نے کہا کہ شمال مشرقی شہر میں دن کے وقت ہوئے روسی حملے میں ایک شخص کی موت ہوگئی اور 5 دیگر زخمی ہو گئے۔ حکام نے بتایا کہ یوکرین کے کم سے کم 6 دیگر علاقوں میں بھی مہلک حملے ہوئے۔ اس بارے میں فوری طور پر زیادہ معلومات دستیاب نہیں ہو پائی ہیں۔

گرڈ آپریٹر ’یوکرینرگو‘ نے بتایا  کہ پیر کو روسی حملوں کے بعد یوکرین کے 8 علاقوں میں کچھ صارفین کی بجلی منقطع ہو گئی۔ اس کے ساتھ ہی گرمی بڑھنے کی وجہ سے لوگوں نے ائیر کنڈیشنر چلائے جس سے بجلی کا استعمال بھی بڑھ گیا۔ اس دوران صدر زیلنسکی نے یورپ سے روسی بیلسٹک میزائلوں کو روکنے کے لیے فضائی دفاعی نظام کو مزید بہتر بنانے کی اپنی اپیل کا اعادہ کیا۔ زیلنسکی نے کہا کہ لوگوں کو ایسے خوفناک حملوں سے بچانے کی ضرورت ہے۔ سب سے ضروری بات یہ ہے کہ ہمارے پاس اینٹی بیلسٹک ہوں۔ یہ بہت ضروری ہے کہ یورپ اپنا خود کا اینٹی بیلسٹک دفاعی نظام اور میزائلیں تیار کرنے میں پوری طرح مصروف رہے۔

مغربی حکام کا کہنا ہے کہ حالیہ مہینوں میں جنگ میں بڑی تبدیلی آئی ہے۔ یوکرین کے بڑھتے ہوئے ڈرون حملوں کے باعث روس اور روس کے زیر قبضہ علاقوں میں ایندھن کی قلت پیدا ہو گئی ہے۔ ماہرین کے مطابق ان حملوں نے مشرقی اور جنوبی یوکرین میں فرنٹ لائن پر تعینات روسی افواج کی سپلائی لائنز کو کمزور کر دیا ہے جس سے ان کی پیش قدمی سست ہو گئی ہے۔ یوکرین کی جدید ڈرون انجینئرنگ نے اسے برتری دلائی ہے اور اسے اس ٹیکنالوجی کے فوجی استعمال میں عالمی لیڈر بنا دیا ہے۔ پہلے غیر ملکی فوجی مدد کی فریاد کرنے والا یوکرین اب اتحادی ممالک کی مدد کر رہا ہے۔

اس سے قبل روسی صدر ولادیمیر پوتن نے اتوار کے روز اعتراف کیا کہ یوکرین کے روسی تیل کی تنصیبات پر طویل فاصلے تک مار کرنے والے ڈرون حملوں کی وجہ سے ایندھن کی قلت پیدا ہوئی ہے۔ اس بحران کی وجہ سے لوگوں میں غصہ اور مایوسی پھیل گئی ہے، جس سے وہ گیس اسٹیشنوں پر لمبی قطاروں میں انتظار کرنے پر مجبور ہیں لیکن پوتن نے حملے کو ختم کرنے کے لیے کوئی رعایت دینے سے انکار کر دیا اور زور دے کر کہا جسے انہوں نے عارضی جھٹکا بتایا، اس کے باوجود روس بالآخر جنگ جیتے گا۔

کریملن کے ترجمان دیمتری پیسکوف نے کہا کہ یوکرین کے بارے میں روس کے موقف میں کوئی تبدیلی نہیں آئی ہے اور اس بات پر زور دیا کہ روسی فوجی محاذ پر اپنی جارحیت جاری رکھے ہوئے ہیں۔ پیسکوف نے صحافیوں کو بتایا کہ ان کی کوششوں سے ہمیں بھروسہ ہے کہ ہمارے اہداف حاصل ہوجائیں گے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ جنگ کے میدان میں روس کی سبقت سست پڑتی جارہی ہے۔


Share: