کاروار 21/نومبر (ایس او نیوز) : ضلع اُترکنڑا کی ڈپٹی کمشنر کے۔ لکشمی پریا نے خواتین سے اپیل کی ہے کہ گھریلو تشدد، جنسی ہراسانی یا کسی بھی طرح کے ظلم کی صورت میں فوراً 181 خواتین ہیلپ لائن پر رابطہ کرکے مدد حاصل کریں۔
جمعہ کے روز خواتین و اطفال ترقیاتی محکمہ کی پیش رفت جائزہ میٹنگ کی صدارت کرتے ہوئے انہوں نے بتایا کہ رواں مالی سال کے ستمبر تک سخی وَن اسٹاپ سینٹر میں 74 معاملات درج ہوئے ہیں، جن میں متاثرہ خواتین کو قانونی امداد، طبی سہولیات، پولیس مدد اور کونسلنگ فراہم کی گئی ہے۔ سنتھونا اسکیم کے تحت این جی اوز کے ذریعے پریشان حال خواتین کو ضروری تعاون فراہم کیا جا رہا ہے۔ مرکز میں 395 شکایات موصول ہوئیں جنہیں مکمل طور پر نمٹا دیا گیا ہے۔ انہوں نے عملے کو ہدایت دی کہ وہ شکایات پر فوری کارروائی کریں اور ملزموں کے خلاف مناسب قانونی قدم اٹھایا جائے۔
ڈپٹی کمشنر نے کہا کہ خواتین اور بچوں کی اسمگلنگ روکنے کے لیے قائم تمام دیہی کمیٹیاں اپنی ذمہ داری کو پوری سنجیدگی سے انجام دیں۔ انہوں نے کم عمری کی شادیوں اور POCSO معاملات کی روک تھام کے لیے شہری اور دیہی سطح پر بیداری مہمات بڑھانے کی ہدایات دیں۔ رواں سال 17 پی او سی ایس او معاملات رپورٹ ہوئے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ آنگن واڑی اور اسکول کے بچوں کی صحت جانچ 100 فیصد مکمل ہونی چاہیے، جبکہ شدید غذائی قلت کا شکار بچوں پر خصوصی توجہ دی جائے اور انہیں مناسب علاج فراہم کیا جائے۔ آنگن واڑی مراکز میں مقررہ غذائیت فراہم کرنے کے ساتھ ساتھ بچوں کو نصابی و ہم نصابی سرگرمیوں میں شامل کیا جائے۔ متعلقہ افسران کو ہدایت دی گئی کہ وہ اچانک معائنہ کریں۔
ِگرہا لکشمی اسکیم کے تحت رجسٹرڈ تمام خواتین کو فائدہ پہنچنے کو یقینی بنایا جائے۔ اگر بینک کھاتوں میں رقم جمع نہ ہونے کی شکایت ہو تو اسے فوری طور پر حل کیا جائے۔
انہوں نے مزید کہا کہ خواتین کو اُن قرض سہولتوں کے بارے میں بھی آگاہ کیا جائے جو خواتین و ترقیاتی کارپوریشن کی جانب سے جنسی اقلیتوں، ایچ آئی وی متاثرہ خواتین اور دلت و پسماندہ طبقات کے لیے دستیاب ہیں۔
میٹنگ میں ضلع پنچایت کے سی ای او ڈاکٹر دلیش ششی، تربیتی آئی اے ایس افسر زوفیشان حق، پلاننگ آفیسر سوم شیکھر میستا، ضلع آر سی ایچ افسر ڈاکٹر نٹراج، ڈپٹی ڈائریکٹر کرسنپا اور تمام تعلقہ جات کے آئی سی ڈی ایس افسران موجود تھے۔