ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ساحلی خبریں / بھٹکل: ’وی بی جی رام جی‘ کے ذریعے دیہی روزگار کے حق پر کاری ضرب؛ قانون واپس لینے وزیر منکال وئیدیا کا مطالبہ، ’منریگا بچاؤ مہم‘ کا اعلان

بھٹکل: ’وی بی جی رام جی‘ کے ذریعے دیہی روزگار کے حق پر کاری ضرب؛ قانون واپس لینے وزیر منکال وئیدیا کا مطالبہ، ’منریگا بچاؤ مہم‘ کا اعلان

Mon, 12 Jan 2026 20:22:23    S O News
بھٹکل: ’وی بی جی رام جی‘ کے ذریعے دیہی روزگار کے حق پر کاری ضرب؛ قانون واپس لینے وزیر منکال وئیدیا کا مطالبہ، ’منریگا بچاؤ مہم‘ کا اعلان

بھٹکل، 12 جنوری (ایس او نیوز): کانگریس پارٹی نے الزام عائد کیا ہے کہ وزیر اعظم نریندر مودی کی قیادت میں مرکزی حکومت نے ایک سیاہ اور عوام دشمن قانون کے ذریعے ملک کے کروڑوں دیہی مزدوروں سے ان کا آئینی حقِ روزگار چھین لیا ہے۔

بھٹکل میں پیر کو منعقدہ ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے ریاستی وزیر برائے بندرگاہ، ماہی گیری اور اندرونی آبی نقل و حمل منکال وئیدیا نے کہا کہ 2005 میں یو پی اے حکومت کے دور میں نافذ کی گئی مہاتما گاندھی نیشنل رورل ایمپلائمنٹ گارنٹی اسکیم (منریگا) کو ختم کرکے اس کی جگہ ’وی بی جی رام جی‘ (وکست بھارت گارنٹی فار روزگار اجیوِک مشن – دیہی) نافذ کرنا دراصل دیہی بھارت کے خلاف ایک منظم سازش ہے۔

منکال وئیدیا نے کہا کہ 17 دسمبر 2025 کو محض آٹھ گھنٹوں کی رسمی بحث کے بعد اور 18 دسمبر کو پارلیمنٹ کو بلڈوز کرتے ہوئے اس قانون کو منظور کر لیا گیا۔ انہوں نے الزام لگایا کہ نہ عوام سے مشورہ کیا گیا، نہ ریاستوں سے رائے لی گئی اور نہ ہی مزدور طبقے کی آواز سنی گئی، جو مودی حکومت کے آمرانہ طرزِ حکمرانی کو ظاہر کرتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ منریگا گزشتہ 20 برسوں سے دیہی مزدوروں، خواتین اور چھوٹے کسانوں کی زندگی کا سہارا رہی ہے، جس کے تحت مقامی سطح پر کام مانگنے اور حاصل کرنے کا قانونی حق موجود تھا، لیکن نئے قانون کے ذریعے اس حق کو ختم کر دیا گیا ہے اور اب روزگار حکومت کی مرضی پر منحصر ہو گیا ہے۔

کروڑوں مزدور، خواتین اور محروم طبقات متاثر
وزیر نے بتایا کہ اس فیصلے سے ملک کے 12.16 کروڑ منریگا مزدور متاثر ہوئے ہیں، جن میں 53.61 فیصد (6.21 کروڑ) خواتین، 17 فیصد درج فہرست ذاتیں اور 11 فیصد درج فہرست قبائل شامل ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ قانون خواتین، دلتوں، آدیواسیوں اور معذور مزدوروں کے معاش پر براہِ راست حملہ ہے۔

انہوں نے انکشاف کیا کہ کرناٹک میں 2025-26 کے دوران 71.18 لاکھ فعال منریگا مزدور موجود تھے، جن میں 36.75 لاکھ خواتین (51.6 فیصد) شامل ہیں، حالانکہ ریاست میں اچھی بارش ہوئی تھی۔ اس کے باوجود مرکزی حکومت نے ان سب کے روزگار کے حق کو پامال کر دیا۔

پنچایتی راج، گرام سوراج اور آئین پر حملہ
منکال وئیدیا نے کہا کہ منریگا کے تحت گرام سبھا اور گرام پنچایتیں بااختیار تھیں اور مقامی سطح پر ترقیاتی اثاثے تخلیق کیے جاتے تھے، لیکن نئے قانون میں تمام اختیارات دہلی منتقل کر دیے گئے ہیں۔

انہوں نے بتایا کہ ریاست کے وزیراعلیٰ نے 30 دسمبر 2025 کو مرکزی حکومت کو تحریری طور پر آگاہ کیا ہے کہ یہ قانون آئین کے آرٹیکل 258 اور 280 کے منافی ہے، عوام کے روزگار کے حق کو سلب کرتا ہے، ریاستوں کو مالی بحران میں دھکیلتا ہے اور بے روزگاری میں اضافہ کرے گا۔

منکال وئیدیا نے واضح کیا کہ منریگا کی فنڈنگ سو فیصد مرکزی حکومت کی جانب سے ہوتی تھی، مگر نئے قانون VB-G RAM G کے تحت اب 60 فیصد فنڈنگ مرکز اور 40 فیصد ریاستی حکومت پر ڈال دی گئی ہے۔ انہوں نے مہاتما گاندھی کے نام سے منسوب اسکیم کو ختم کیے جانے پر سخت ناراضگی ظاہر کی۔

ٹھیکیداری نظام کی واپسی، کارپوریٹ مفادات کی خدمت
وزیر نے کہا کہ جہاں منریگا میں ٹھیکیداروں کی مداخلت ممنوع تھی اور مزدوری براہِ راست مزدور کے کھاتے میں منتقل ہوتی تھی، اب ٹھیکیداروں کو دوبارہ شامل کر دیا گیا ہے، جس کا مقصد دیہی عوام کو کارپوریٹ زرعی کمپنیوں کے لیے سستی مزدوری فراہم کرنا ہے۔

انہوں نے الزام لگایا کہ آر ایس ایس اور بی جے پی کی رہنمائی میں مودی حکومت ایک منظم حکمتِ عملی کے تحت روزگار، تعلیم، غذا، جنگلات اور معلومات جیسے بنیادی حقوق کو کمزور اور ختم کر رہی ہے، جنہیں یو پی اے حکومت نے عوامی فلاح کے لیے نافذ کیا تھا۔

بے روزگاری، استحصال اور دیہی معیشت کو نقصان
وئیدیا کے مطابق اس قانون کے نتیجے میں بے روزگاری میں شدید اضافہ ہوگا،  دیہی خواتین کی شمولیت میں کمی آئے گی، کم از کم اجرت کا تحفظ ختم ہو جائے گا، مزدوروں کا استحصال اور دباؤ بڑھے گا، دلت اور آدیواسی خاندانوں پر اضافی بوجھ پڑے گا، دیہی اثاثوں کی تعمیر متاثر ہوگی۔انہوں نے یاد دلایا کہ 2024-25 کے قحط سال میں 19.28 کروڑ افراد نے منریگا کے ذریعے روزگار حاصل کیا تھا، جبکہ کرناٹک میں 1.35 کروڑ مزدوروں نے اسی اسکیم کے ذریعے اپنا وجود برقرار رکھا تھا۔

تحریک کی وارننگ
منکال وئیدیا نے کہا کہ جس طرح ماضی میں کسانوں نے سڑکوں پر اتر کر اپنی طاقت دکھائی تھی، اسی طرح اب دیہی مزدور، خواتین اور کسان اس قانون کے خلاف آئینی دائرے میں رہتے ہوئے شدید تحریک شروع کرنے کے لیے تیار ہیں۔

انہوں نے مطالبہ کیا کہ وی بی جی رام جی قانون کو فوری طور پر منسوخ کیا جائے، منریگا کو مزید مضبوط بنا کر بحال کیا جائے، عوام کے روزگار کے آئینی حق کو دوبارہ نافذ کیا جائے، پنچایتوں کے اختیارات بحال کیے جائیں اور ملک بھر میں کم از کم 400 روپے یومیہ اجرت مقرر کی جائے۔

پریس کانفرنس میں بلاک کانگریس صدر وینکٹیش نائک، تعلقہ گارنٹی اسکیم صدر راجو نائک، بلاک کانگریس جنرل سیکریٹری سریش نائک، بھٹکل یوتھ کانگریس صدر اِمشاد مختصر، بھاسکر موگیر، منجپا نائک، ایشور موگیر اور ویٹھل نائک سمیت کئی کانگریسی قائدین موجود تھے۔

Click here for report in English


Share: