ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ملکی خبریں / اُتّرا کھنڈ: لکسر میں دن دہاڑے پولیس کے سامنے کُھلے عام فائرنگ، پولیس حراست میں لے جائے جا رہے بدنام مجرم ونئے تیاگی پر حملہ

اُتّرا کھنڈ: لکسر میں دن دہاڑے پولیس کے سامنے کُھلے عام فائرنگ، پولیس حراست میں لے جائے جا رہے بدنام مجرم ونئے تیاگی پر حملہ

Wed, 24 Dec 2025 23:44:50    S O News
اُتّرا کھنڈ: لکسر میں دن دہاڑے پولیس کے سامنے کُھلے عام فائرنگ، پولیس حراست میں لے جائے جا رہے بدنام مجرم ونئے تیاگی پر حملہ

لکسر24/ڈسمبر (ایس او نیوز):اُتّرا کھنڈ کے ضلع ہرِدْوار کے تحت آنے والے لکسر علاقے میں بدھ کے روز دن دہاڑے ایک سنسنی خیز واقعہ پیش آیا، جہاں پولیس کی موجودگی میں ہی ایک بدنام مجرم ونئے تیاگی پر گولیوں سے حملہ کر دیا گیا۔ یہ حملہ اُس وقت ہوا جب ونئے تیاگی کو پولیس حراست میں روڑکی جیل سے لکسر  کورٹ میں پیشی کے لیے لے جایا جا رہا تھا۔

پولیس ذرائع کے مطابق، ونئے تیاگی کو ایک خصوصی پولیس وین کے ذریعے عدالت لے جایا جا رہا تھا۔ جیسے ہی پولیس کی گاڑی لکسر فلائی اوور کے قریب پہنچی، پہلے سے گھات لگائے بیٹھے متعدد مسلح شرپسندوں نے اچانک پولیس وین پر اندھا دھند فائرنگ شروع کر دی۔ اچانک ہوئے اس حملے سے پولیس ٹیم بھی سکتے میں آ گئی۔

اس حملے میں ونئے تیاگی کو کم از کم دو گولیاں لگنے کی اطلاع ہے، جبکہ اس کے ساتھ موجود دو پولیس کانسٹیبل بھی زخمی ہو گئے۔ زخمیوں کو فوری طور پر قریبی اسپتال منتقل کیا گیا، جہاں ان کا علاج جاری ہے۔ پولیس کے مطابق، تمام زخمیوں کی حالت پر نظر رکھی جا رہی ہے۔

واقعے کے بعد پولیس نے جائے واردات کو گھیرے میں لے کر کارتوس کے خول (کھوکھے) برآمد کر لیے ہیں اور معاملے کی باریک بینی سے تفتیش شروع کر دی گئی ہے۔ اس کے ساتھ ہی اطراف میں نصب سی سی ٹی وی کیمروں کی فوٹیج بھی کھنگالی جا رہی ہے تاکہ حملہ آوروں کی شناخت اور ان کے فرار کے راستوں کا سراغ لگایا جا سکے۔

اس سنسنی خیز واردات کا ویڈیو سوشل میڈیا پر تیزی سے وائرل ہو رہا ہے، جس میں پولیس کی موجودگی میں فائرنگ کا منظر دیکھا جا سکتا ہے۔ ویڈیو وائرل ہونے کے بعد عوام میں خوف و ہراس پھیل گیا ہے اور پولیس کے حفاظتی انتظامات پر بھی سوالات اٹھنے لگے ہیں۔

پولیس حکام کا کہنا ہے کہ حملہ آوروں کی گرفتاری کے لیے خصوصی ٹیمیں تشکیل دے دی گئی ہیں اور پورے علاقے میں ناکہ بندی کر کے تلاشی مہم چلائی جا رہی ہے۔ ابتدائی طور پر واقعے کو مجرمانہ دشمنی یا منظم سازش سے جوڑ کر دیکھا جا رہا ہے، تاہم پولیس نے کہا ہے کہ تمام پہلوؤں سے تحقیقات جاری ہیں اور جلد ہی حملہ آوروں کو گرفتار کر لیا جائے گا۔


Share: