ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ساحلی خبریں / اتر کنڑا پانچ سال کے دوران سائبر لٹیروں کی طرف سے 21 کروڑ روپوں کا دھوکہ

اتر کنڑا پانچ سال کے دوران سائبر لٹیروں کی طرف سے 21 کروڑ روپوں کا دھوکہ

Mon, 25 May 2026 11:27:58    S O News

کاروار ، 25/ مئی (ایس او نیوز) اگر ایک دہائی قبل کی بات کریں تو چوری ڈکیتی کی وارداتین انجام دینے کے لئے لٹیروں کو ہتھیاروں سے حملہ کرنے، گھروں اور دکانوں کے دروازے توڑنے اور نقب زنی کرنے کی ضرورت پیش آتی تھی ۔ مگر آج کا زمانہ ڈیجیٹل طور طریقوں کا ہے اس لئے ہتھیاروں کے استعمال، نقب زنی یا جان لیوا حملہ کیے بغیر ہی موبائل فون، لیپ ٹاپ اور دیگر آلات کے ذریعے دور دراز مقامات پر بیٹھ کر بھی پل بھر میں لاکھوں اور کروڑوں روپے لوٹنا گویا بچوں کا کھیل ہوگیا ہے ۔ 
    
ملک اور ریاست کے دیگر حصوں کی طرح اتر کنڑا ضلع میں بھی سائبر فراڈ کے ذریعے رقم لوٹنے کی وارداتیں مسلسل انجام دی جا رہی ہیں اور سال بہ سال اس میں اضافہ ہوتا جا رہا ہے ۔ اس کی رفتار اور سنگینی کا اندازہ اس بات سے لگایا جاتا ہے کہ ضلع میں گزشتہ پانچ سال کے عرصے میں سائبر لٹیروں کے ذریعے مالی دھوکہ بازی  کے 70 سے زائد معاملے پیش آئے ہیں اور اس کے ذریعے سے 21 کروڑ روپوں کا فراڈ کیا گیا ہے ۔ 
    
ایسا نہیں ہے کہ کم عمر نوجوان یا کم پڑھے لکھے افراد ہی سائبر فراڈ ہی شکار بنتے ہیں بلکہ اس طرح دھوکہ کھانے والوں میں اعلیٰ تعلیم یافتہ اور معمر افراد کی بھی اچھی خاصی تعداد ہوتی ہے ۔ اس کے لئے عام طور پر انٹرنیٹ اور اس کے استعمال میں احتیاط اختیار کرنے کے تعلق سے ہماری غفلت یا لاعلمی کو اہم سبب مانا جاتا ہے ۔ سائبر فراڈ کرنے والوں کی ٹولیاں آئے دن نت نئے طریقے استعمال کرتی ہیں اور ہر وقت کسی نہ کسی کو پھنسانے کے لئے جال بچھانے میں مشغول رہتی ہیں ۔ 
    
انٹرنیٹ کے اس زمانے میں رقم جمع کرنا اور اسے محفوظ رکھنا، انتہائی مشکل کام ہوگیا ہے جبکہ جمع شدہ رقم کو گنوانے میں پلک جھپکنے کی بھی دیر نہیں لگتی ۔ کیونکہ دنیا کے کسی کونے میں بیٹھ کر کسی بھی قسم کی محنت اور مشقت کے بغیر بڑی آسانی کے ساتھ دوسرے کونے سے لاکھوں روپے کی رقم اڑانا سائبر فراڈ کے ماہرین کا محبوب مشغلہ بن گیا ہے ۔ 
    
سائبر فراڈ کے اکثر معاملے آن لائن مالی دھوکہ دہی کے ہوتے ہیں جو زیادہ تر اسمارٹ فون، ڈیجیٹل ادائیگی کے ایپس وغیرہ سے انجام دئے جاتے ہیں ۔ یہ لوٹ مار کے جدید ترین ذرائع ہیں جن پر کنٹرول کرنا قانون نافذ کرنے والی ایجسنیوں کے لئے بھی دیگر جرائم کے مقابلے میں ایک مشکل مسئلہ بن گیا ہے ۔ 
    
آن لائن دھوکہ دہی کے لئے لٹیرے اکثر اے پی کے فائلس کا استعمال کرتے ہیں ۔ کرناٹکا میں اے پی کے فائلس کے ذریعے ہونے والے سائبر فراڈ کے معاملوں میں 190% اضافہ دیکھنے کو ملا ہے اور اس کا شکار ہونے والوں میں زیادہ تر معمر اور افراد شامل ہیں ۔  اینڈرائڈ ایپلی کیشن پیکیج یا اینڈرائڈ پیکیج کٹ کا مخفف اے پی کے فائل صرف انجان افراد  کی طرف سے ہی موصول نہیں ہوتے بلکہ یہ آپ کے کسی جانے پہچانے شخص کی طرف سے اصلی سمجھ کر آپ کو ذاتی طور پر یا گروپ میں  فارورڈ کیے گئے فائل بھی ہو سکتے ہیں ۔ 
    
دستیاب اعداد و شمار کے مطابق ریاست کرناٹکا میں سال 2024 کے دوران اے پی کے فائلس کے ذریعے  دھوکہ دہی کے 325 معاملے سامنے آئے تھے جبکہ 2025 ان کی تعداد 944 ہو گئی یعنی 190.46% کا اضافہ ہوا ۔ امسال اپریل تک ریاست میں 458 دھوکہ دہی کے معاملے انجام دئے گئے ہیں اس میں اتر کنڑا ضلع کے دو معاملے شامل ہیں ۔ 
    
جن طریقوں سے سائبر فراڈ انجام دئے جاتے ہیں ان میں سرمایہ کاری اور ڈیجیٹل اریسٹ کے علاوہ سی بی آئی اور پولیس افسران کی شکل میں فون کال کرکے دھمکانا، نوکری اور گفٹس کا لالچ دینا، ورک فرام ہوم کی پیشکش، بیرونی ممالک میں نوکریاں، بینک کھاتے اور اے ٹی ایم کارڈ بند کرنے کی دھمکی اور کے وائی سی اپڈیٹ کرنے کے لئے دستاویزات اور بینک کھاتے کی تفصیل طلب کرنا وغیرہ شامل ہے ۔ اتر کنڑا میں سائبر فراڈ کے ذریعے گزشتہ پانچ سال میں جو 21  کروڑ روپے لوٹے گئے ہیں ان میں  سب سے زیادہ  12  کروڑ روپے سرمایہ کاری کے نام پرلوٹے گئے ہیں ۔ اسی طرح ڈیجیٹل اریسٹ کے نام پر 3.80 کروڑ روپے لوٹے گئے ہیں ۔ 
    
اتر کنڑا ضلع میں صرف ایک سی ای این پولیس اسٹیشن ہے اور اس میں گزشتہ پانچ سال کے عرصے میں درج کیے گئے وہ مختلف معاملے جن میں لوگوں نے جملہ 21  کروڑ روپے گنوائے ہیں اس کی تفصیل کچھ یوں ہے : 
۱۔  2022 میں 43 لاکھ روپے
۲۔ 2023  میں 1.50 کروڑ روپے
۳۔ 2024  میں 4,54,40,714  روپے ۔ ان معاملوں میں  ایک ملزم پکڑا گیا اور جملہ 98,70,936 روپے کو واپس دلوائے کیے گئے ۔     
۴۔ 2025  میں 11,38,12,726 روپے ۔ ان معاملوں میں کُل 8 ملزمین پکڑے گئے اور جملہ 53,13,181 روپے لوگوں کو لوٹائے گئے ۔
۵۔ 2026 میں اب تک 3,14,91,596 روپے ۔ ان معاملوں میں کُل 5 ملزمین گرفتار ہوئے اور جملہ 3,84,000 روپے لوگوں کو واپس لوٹائے گئے ۔

ان تفصیلات کی روشنی میں دیکھا جا سکتا ہے کہ اتر کنڑا میں سال بہ سال سائبر فراڈ کے معاملوں میں اضافہ ہوتا جا رہا ہے اور ملزمین کی گرفتاری یا رقم واپس حاصل کرنے کے جو اعداد و شمار ہیں بہت ہی ناکافی نظر آتے ہیں ۔ صاف دیکھا جا سکتا ہے کہ 2026 کا آدھا سال پورا ہونے سے پہلے ہی سائبر فریب کاروں نے  3.14 کروڑ روپے لوٹے ہیں اور محض 3.84 لاکھ روپے ہی واپس حاصل کیے جا سکے ہیں ۔ جس کا مطلب یہ ہے کہ جس رفتار سے جرائم انجام دئے جا رہے ہیں اس کے مقابلے میں اس کے تدارک کا نظام، ملزمان کی گرفتاریاں اور رقم واپس وصول کرنے کی رفتار ناکافی نہیں بلکہ غیر اطمینان بخش ہے ۔


Share: