الہ آباد، 27/اگست (ایس او نیوز / ایجنسی) الہ آباد ہائی کورٹ نے ایک اہم فیصلے میں اتر پردیش کے ضلع شراوستی میں بند کیے گئے 30 مدارس کو دوبارہ کھولنے کا حکم دیا ہے۔ یہ مدارس رواں سال کے آغاز میں بند کر دیے گئے تھے۔
چار ماہ قبل ریاستی حکومت نے مدارس کے خلاف ایک سخت مہم شروع کی تھی جس کے تحت کئی مدارس کو مسمار کیا گیا اور متعدد کو زبردستی بند کرنے کا حکم دیا گیا۔ ان میں شراوستی کے 30 ادارے بھی شامل تھے جنہیں حکام نے ’’غیر قانونی‘‘ قرار دیا تھا اور کہا تھا کہ وہ بغیر منظوری کے چل رہے ہیں اور سرکاری زمین پر قبضہ کر کے تعمیر کیے گئے ہیں۔ لیکن ناقدین کا کہنا تھا کہ یہ کارروائیاں مناسب قانونی عمل کے بغیر کی گئی ہیں۔
ان مدارس کی انتظامی کمیٹیوں نے جمعیۃ علماء ہند کی مدد سے حکومت کے اس فیصلے کو الہ آباد ہائی کورٹ میں چیلنج کیا۔ ان درخواستوں میں مدرسہ معین الاسلام قاسمیہ کمیٹی کی درخواست بھی شامل تھی، جس پر 21 اگست کو جسٹس پنکج بھاٹیا نے سماعت کی۔
درخواست گزاروں کے وکیل پرشانت چندر نے دلیل دی کہ ریاست نے بغیر کسی موقع دیے یکطرفہ طور پر تمام 30 مدارس کے خلاف اجتماعی حکم جاری کیا۔ ان کے مطابق نوٹس یا تو غلط طریقے سے دیے گئے یا سرے سے دیے ہی نہیں گئے، اس لیے یہ حکم غیر قانونی اور بدنیتی پر مبنی ہے۔
دوسری جانب ریاستی حکومت نے اپنے اقدام کا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ یہ کارروائی ’’اتر پردیش نان گورنمنٹ عربی و فارسی مدرسہ ریکگنیشن، ایڈمنسٹریشن اینڈ سروس ریگولیشنز 2016‘‘ کے تحت کی گئی ہے اور یہ سب کچھ قانونی تقاضوں کے مطابق تھا۔
دونوں فریقوں کی دلیلیں سننے کے بعد جسٹس بھاٹیا نے درخواست گزاروں کے حق میں فیصلہ سنایا اور کہا کہ ’’جو احکامات قانونی عمل پر عمل کیے بغیر پاس کیے گئے ہوں، وہ برقرار نہیں رہ سکتے‘‘۔ عدالت نے تمام 30 مدارس کو فوراً دوبارہ کھولنے کا حکم دیا۔
فیصلے پر ردعمل ظاہر کرتے ہوئے جمعیۃ علماء ہند کے صدر مولانا محمود اسعد مدنی نے اسے ’’انصاف، آئین اور مدارس کے تحفظ کی جیت‘‘ قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ ’’مدارس قوم اور ملت دونوں کی ریڑھ کی ہڈی ہیں۔ یہ غریب بچوں کو مفت تعلیم دیتے ہیں اور انہیں اچھا انسان اور ذمہ دار شہری بناتے ہیں‘‘۔
مبصرین کے مطابق اس فیصلے نے نہ صرف ان اداروں کے حقوق بحال کیے ہیں بلکہ حکومت کو یہ واضح پیغام بھی دیا ہے کہ کسی بھی کارروائی میں آئینی اور قانونی طریقہ کار پر سختی سے عمل کرنا ضروری ہے۔