مینگلور ، 16 / فروری (ایس او نیوز) نیشنل ہائی وے 66 پر الال کے قریب مچھلیوں سے بھری ہوئی کینٹر لاری اسکول بس سے ٹکرا گئی جس کے نتیجے میں سات طالب علم زخمی ہوگئے ۔ اس حادثے سے بچوں کے والدین میں خوف و دہشت کی لہر دوڑ گئی اور ہائی وے کے غیر محفوظ ہونے کے تعلق سے نئے سرے سے سوالات اٹھنے لگے ۔
ذرائع سے ملی اطلاع کے مطابق حادثہ اس وقت پیش آیا جب اسکول بس ہائی وے کے ایک لمبے کنارے سے ہوتے ہوئے بچوں کو لینے کے بعد تلپاڈی کی طرف آگے بڑھ رہی تھی ۔ اس دوران گوا سے کیرالہ کے لئے مچھلیاں لے جانے والا کینٹر ٹرک پیچھے سے تیز رفتاری کے ساتھ آ کر اسکول بس سے ٹکرا گیا ۔ تصادم اتنا زوردار تھا کہ اسکول بس کی پچھلی سیٹیں اکھڑ کر رہ گئیں ۔
حادثے کے وقت اسکول بس میں 24 طالب علم سفر کر رہے تھے جن میں سے چار لڑکوں اور تین لڑکیوں کو معمولی چوٹیں آئیں جنہیں فوری طور ٹھوکٹو کے اسپتال میں منتقل کیا اور وہاں ان کا علاج کرنے والے ڈاکٹروں نے انہیں خطرے سے باہر بتایا ہے ۔ البتہ ایک لڑکے کے پیر میں زیادہ سنگین چوٹ آئی ہے اور اسے علاج کے لئے ڈیرلکٹے کے ایس ہیگڑے ہاسپٹل میں داخل کیا گیا ہے ۔
ابتدائی معلومات کے مطابق جس وقت حادثہ پیش آیا اس وقت کنداپور کا رہائشی کینٹر کا ڈرائیور سنجیوا مبینہ طور پر اسٹیرنگ وھیل پر اونگھ رہا تھا ۔ اسے بھی معمولی چوٹیں آئیں اور تھوکٹو کے اسپتال میں اس کا بھی علاج کیا گیا ۔
حادثے کی خبر ملتے ہی طلبہ کے والدین میں خوف اور تشویش کی لہر دوڑ گئی اور سب اپنے بچوں کی خیریت جاننے کے لئے اسپتال کی طرف دوڑ پڑے ۔ منگلورو ساوتھ ٹریفک پولیس کے افسران نے جائے حادثہ پر پہنچ کر معائنہ کیا اور کیس رجسٹر کرتے ہوئے تحقیقات شروع کی ۔
مقامی لوگوں نے نیشنل ہائی وے اتھاریٹی کے خلاف اپنے مشتعل جذبات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ نیشنل ہائی وے پر ننتھور تلپاڈی سڑک کا حصہ تعمیر ہوکر ایک دہائی گزر گئی ہے لیکن ابھی تک یہاں سروس روڈ نہیں بنایا گیا ہے ۔ اسکول بسوں اور پرائیویٹ گاڑیوں کو مسافروں کو لینے کے لئے مین روڈ پر اپنی گاڑیاں روکنا پڑ رہا ہے جبکہ وہاں سے بھاری موٹر گاڑیاں بڑی تیز رفتاری سے گزرتی رہتی ہیں ۔ اس وجہ سے اس علاقے میں اکثر و بیشتر حادثات پیش آتے رہتے ہیں ۔