اُڈپی، 22 / جون (ایس او نیوز) اُڈپی میں ایک ماہ کی بچی کو مبینہ طور پر گود لینے اور بچوں کی اسمگلنگ کا معاملہ سامنے آیا ہے جس ملوث ایک ڈاکٹر اور میاں بیوی کے ایک جوڑے سمیت 6 ملزمان کو گرفتار کیا گیا ہے ۔
یہ معاملہ 19 جون کو اس وقت سامنے آیا جب چائلڈ ڈیولپمنٹ پروجیکٹ آفس (سی ڈی پی او) برہماور نے ڈسٹرکٹ چائلڈ پروٹیکشن یونٹ (ڈی سی پی یو) کو مطلع کیا کہ نیجارو، سنتھے کٹے میں میاں بیوی کا ایک جوڑا مبینہ طور پر ایک ماہ کی بچی کو گود لینے کے کسی قانونی طریقہ کار پر عمل کیے بغیر پرورش کر رہا ہے ۔
اس اطلاع پر کارروائی کرتے ہوئے ضلع چائلڈ پروٹیکشن یونٹ کے عہدیداروں نے پروٹیکشن آفیسر (غیر ادارہ جاتی نگہداشت) اور برہماور سی ڈی پی او کے ایک سپروائزر کے ساتھ سبرامنیا نگر سنتھے کٹے میں جوڑے کی رہائش گاہ کا دورہ کیا ۔
اس معائنہ کے دوران پرکاش اور پورنیما نامی جوڑے کے علاوہ سرینیکا پرکاش نام کی شیر خوار بچی اور پورنیما کی بہن لکشمی موجود تھیں ۔ پولیس نے کا کہنا ہے کہ اس جوڑے نے پوچھ گچھ کے دوران مشکوک اور متضاد بیانات دئے ۔
مزید تفتیش سے پتہ چلا کہ پرکاش اور پورنیما کی شادی کو 11 سال ہوچکے ہیں اور ان کی کوئی اولاد نہیں ہے ۔ مبینہ طور پر کامت نرسنگ ہوم اڈپی میں ان زرخیزی [فرٹیلائزیشن] کا علاج چل رہا تھا ۔
پولیس کے بیان کے مطابق اس دوران لکشمی کو ایک دوست کے ذریعے معلوم ہوا کہ اسپتال میں ایک نوزائیدہ بچہ دستیاب ہے ۔ اس کے بعد جوڑے نے ڈاکٹر کے سریندر کامت سے رابطہ کیا اور درخواست کی کہ بچے کو ان کے حوالے کیا جائے ۔
پولیس کے پاس درج کی گئی شکایت کے مطابق ڈاکٹر نے مبینہ طور پر اس جوڑے کی درخواست قبول کی اور ایک ماہ کی بچی کو جوڑے کے حوالے کر دیا ۔ مزید یہ بھی الزام لگایا گیا ہے کہ بعد میں بچے کے نام پر پیدائشی سرٹیفکیٹ ترتیب دیا گیا جس میں جوڑے کو والدین کے طور پر درج کیا گیا ۔
تفتیشی ٹیم کا کہنا ہے کہ پوچھ گچھ کے دوران جوڑے نے مبینہ طور پر تفتیش کاروں کو بتایا کہ وہ بچے کے حقیقی [بایولوجیکل] والدین کو نہیں جانتے تھے اور انہیں بچے کی اصل کے بارے میں کوئی معلومات نہیں تھیں ۔
پولیس کا الزام ہے کہ ملزمان نے غیر قانونی فائدے کے لیے مشترکہ نیت سے کام کیا اور بچے کی غیر قانونی منتقلی اور فروخت میں سہولت فراہم کرنے کے لیے جعلی پیدائشی ریکارڈ اور والدین کے جعلی دستاویزات بنانے کی سازش کی ۔
شکایت کی بنیاد پر اُڈپی ویمنس پولس اسٹیشن میں کیس درج کیا گیا ہے ۔
اس معاملے میں گرفتار ملزمان کی شناخت بننجے، اڈ پی کے رہنے والے اور کامت نرسنگ ہوم اڈپی کے ڈاکٹر کے سریندر کامت (76 سال)، راجیو نگر نیجارو سنتھے کٹے کے رہائشی ایس پرکاش (50 سال) کے طور پر کی گئی ہے ۔
اس معاملے کی مزید تفتیش کے نتیجے میں کارکلا کے سمپت (22 سال) اور سپریتی (22) کو مبینہ طور پر بچی کو غیر قانونی طور پر دوسروں کے حوالے کرنے کے الزام میں گرفتار کیا گیا ۔ اس معاملے کی مزیت تحقیقات جاری ہے ۔