ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / خلیجی خبریں / عمان بندرگاہ پر لنگر انداز جہاز میں بھارتی ملاح کا انتقال؛ تین روز بعد رائل عمان پولیس نے میت تحویل میں لے کر مردہ خانے میں کیا منتقل

عمان بندرگاہ پر لنگر انداز جہاز میں بھارتی ملاح کا انتقال؛ تین روز بعد رائل عمان پولیس نے میت تحویل میں لے کر مردہ خانے میں کیا منتقل

Mon, 15 Jun 2026 02:21:36    S O News
عمان بندرگاہ پر لنگر انداز جہاز میں بھارتی ملاح کا انتقال؛ تین روز بعد رائل عمان پولیس نے میت تحویل میں لے کر مردہ خانے میں کیا منتقل

مسقط، 14 جون (ایس او نیوز): عمان کی دُقم (Duqm) بندرگاہ پر لنگر انداز آئل ٹینکر ایم ٹی سیلیسٹیئل (MT Celestial) پر تعینات بھارتی ملاح نشانت اُرتھنا تھن (Nishanth Uirthanathan) کے طبی پیچیدگیوں کے باعث انتقال کے تین روز بعد رائل عمان پولیس نے ان کی میت اپنی تحویل میں لے کر دُقم کے مردہ خانے منتقل کردی ہے۔ میت کو جہاز سے منتقل کیے جانے کی خبر کے بعد جہاز کے کپتان اور دیگر 14 عملہ کے ارکان نے راحت کا اظہار کیا ہے، جو گزشتہ تین دنوں سے انتہائی مشکل صورتحال کا سامنا کر رہے تھے۔

موصولہ اطلاعات کے مطابق نشانت اُرتھنا تھن کی موت کے بعد میت تین دن تک جہاز ہی میں موجود رہی۔ جہاز کے کپتان کا کہنا ہے کہ انہوں نے واقعہ کے فوری بعد عمان میں موجود بھارتی سفارت خانے اور متعلقہ حکام کو اطلاع دے دی تھی، تاہم مختلف قانونی اور انتظامی کارروائیوں کے باعث میت کو فوری طور پر جہاز سے منتقل نہیں کیا جا سکا۔ اس دوران مناسب کولڈ اسٹوریج سہولت نہ ہونے کے سبب میت کو محفوظ رکھنے میں مشکلات پیش آئیں اور عملے کو عارضی انتظامات کرنا پڑا۔

اتوار کی دیر رات مسقط سے موصول ہونے والی اطلاع کے مطابق رائل عمان پولیس نے بالآخرجہاز پر پہنچ کر میت کو اپنی تحویل میں لیا اور ضروری کارروائی مکمل کرنے کے بعد اسے دُقم کے مردہ خانے منتقل کردیا۔ اب توقع کی جا رہی ہے کہ قانونی اور طبی کارروائیوں کی تکمیل کے بعد میت کو جلد بھارت روانہ کرنے کا عمل شروع کیا جائے گا۔

اس سے قبل عمان میں بھارتی سفارت خانے نے ملاح کے انتقال کی تصدیق کرتے ہوئے گہرے رنج و غم کا اظہار کیا تھا۔ سفارت خانے نے اپنے بیان میں کہا تھا کہ وہ جہاز کی انتظامیہ، مقامی حکام اور دیگر متعلقہ اداروں کے ساتھ مسلسل رابطے میں ہے تاکہ تمام قانونی تقاضے مکمل کرکے میت کو جلد از جلد بھارت منتقل کیا جا سکے۔

بھارتی سفارت خانے نے بعد ازاں ایک اور بیان جاری کرتے ہوئے کہا تھا کہ وہ مہلوک کے اہل خانہ، جہاز کے عملے اور عمانی حکام کے ساتھ مسلسل رابطے میں ہے۔ سفارت خانے کے مطابق میت کو وطن واپس بھیجنے کے عمل کو تیز کرنے اور ضروری دستاویزی کارروائی مکمل کرنے کی کوششیں جاری ہیں۔

دریں اثنا، اس واقعہ نے سمندری جہازوں پر کام کرنے والے بھارتی ملاحوں کی فلاح و بہبود اور ہنگامی حالات سے نمٹنے کے انتظامات کے حوالے سے کئی سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔ فارورڈ سی مینز یونین آف انڈیا (FSUI) نے دعویٰ کیا ہے کہ نشانت کی میت کئی دنوں تک جہاز پر ہی پڑی رہی اور مناسب سہولیات نہ ہونے کی وجہ سے عملے کو اسے محفوظ رکھنے کے لیے غیرمعمولی اقدامات کرنا پڑا۔ یونین نے واقعہ کی مکمل تحقیقات اور ذمہ دار اداروں سے وضاحت کا مطالبہ کیا ہے۔

مہلوک نشانت اُرتھنا تھن کا تعلق تمل ناڈو کے ساحلی شہر توٹیکورین (Thoothukudi) سے بتایا گیا ہے۔ ان کی اہلیہ نے بھارتی حکومت سے اپیل کی ہے کہ ان کے شوہر کی میت جلد از جلد وطن واپس لائی جائے اور ان کی موت کے حالات کی شفاف تحقیقات کرائی جائیں۔ اہل خانہ کا کہنا ہے کہ واقعہ کے ابتدائی مراحل میں انہیں مکمل معلومات فراہم نہیں کی گئیں، جس کے باعث وہ شدید ذہنی کرب اور بے چینی کا شکار رہے۔

یہ واقعہ ایسے وقت پیش آیا ہے جب خلیج عمان اور آبنائے ہرمز کے اطراف بڑھتی ہوئی علاقائی کشیدگی کے باعث سمندری نقل و حمل، تجارتی جہازوں اور ملاحوں کی سلامتی کے مسائل عالمی توجہ کا مرکز بنے ہوئے ہیں۔ حالیہ مہینوں میں مختلف ممالک کے ملاحوں کو درپیش مشکلات کے متعدد واقعات سامنے آنے کے بعد بحری تنظیموں اور مزدور یونینوں نے سمندری کارکنوں کے تحفظ، طبی سہولیات اور ہنگامی امدادی نظام کو مزید مؤثر بنانے کا مطالبہ کیا ہے۔

ذرائع کے مطابق حکومت عمان اور رائل عمان پولیس اپنی سمندری حدود میں موجود جہازوں اور ان پر سوار افراد کو ضروری امداد اور تعاون فراہم کرنے کے لیے سرگرم عمل ہیں۔ نشانت اُرتھنا تھن کی میت کو تحویل میں لینے اور مردہ خانے منتقل کرنے کی کارروائی کو بھی اسی سلسلے کی ایک اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔

Click here for report in English


Share: