ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ملکی خبریں / ادھو ٹھاکرے کا بی جے پی پر تیکھا تبصرہ : ہم کریں تو لو جہاد، بی جے پی کرے تو امر پریم

ادھو ٹھاکرے کا بی جے پی پر تیکھا تبصرہ : ہم کریں تو لو جہاد، بی جے پی کرے تو امر پریم

Sat, 10 Jan 2026 17:24:21    S O News

ممبئی، 10 / جنوری (ایس او نیوز)مہاراشٹرا میں بلدی اداروں کے انتخابات کے پس منظر میں سابق چیف منسٹر اور شیو سینا یو بی ٹی کے صدر ادھو ٹھاکرے نے انڈین ایکسپریس کو دئے گئے ایک انٹرویوں میں بی جے پی اور اس کی پالیسیوں پر تیکھے تبصرے کیے ۔ کانگریس کے ساتھ اپنے گٹھ جوڑ کے حوالے سے بی جے پی کی تنقید پر پلٹ وار کرتے ہوئے کہا کہ اگر بی جے پی کچھ کرتی ہے وہ امر پریم ہوتا ہے اور ہم کرتے ہیں تو وہ لو جہاد بن جاتا ہے ۔
    
بہار الیکشن میں انڈیا بلاک کی انتخابی درگت اور اپوزیشن پارٹیوں کے ایک دوسرے پر الزامات کے چلتے مہاراشٹرا بلدی اداروں کے انتخابات میں کانگریس کا اکیلے ہی مقابلہ کرنے کے فیصلے پر شیو سینا یو بی ٹی کے چیف نے ملکی سطح کے انڈیا بلاک اور ریاستی سطح پر مہا وکاس اگھاڑی کے وجود اور اس کا اتحاد برقرار رکھنے کے تعلق سے کہا کہ " یقیناً اس میں الجھن کی کیفیت ہے ۔ لیکن امید ہے کہ دھیرے دھیرے یہ الجھن دور ہو جائے گی ۔ اس کے لئے وقت درکار ہے ۔ پل بھر میں کچھ نہیں ہو سکتا ہے ۔ وقت سبق سکھاتا ہے ۔ گزرتے وقت کے ساتھ ہر چیز اپنی جگہ ٹھیک ہو جائے گی ۔ انڈیا بلاک اتحاد مستحکم رہے گا ۔"
    
انڈیا بلاک کے تمام شرکاء کو متحد رکھنے کے لئے ضروری نکتہ کیا ہو سکتا ہے، اس پر ادھو نے کہا " اتحاد اسی وقت ممکن ہے جب تمام شرکاء ایک مشترکہ اصول کے تحت آگے بڑھیں ۔ ہر ایک کو 'دیش پرتھم' (نیشن فرسٹ)کا اصول مان لینا چاہیے ۔ پھر سب لوگ ایک ساتھ جڑے رہ  سکتے ہیں ۔"

خیال رہے کہ مہاراشٹرا میں ہو رہے بلدی اداروں انتخابات کے دوران کانگریس نے بی ایم سی اور دیگر کارپوریشنوں میں شیو سینا یوبی ٹی ، این سی پی یا سماج وادی پارٹی سے اشتراک کے بغیر آزادانہ مقابلہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے ۔ دوسری طرف این سی پی میں تقسیم کے بعد ایک دوسرے کے مخالف بنے ہوئے نیشنلسٹ کانگریس پارٹی کے شرد پوار اور اجیت پوار دھڑے پونے اور پمپری - چنچواڑا جیسے دو کارپوریشنوں میں ایک ساتھ مل کر مقابلہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے ۔

ایم این ایس کے چیف راج ٹھاکرے کے ساتھ ہاتھ ملانے کے تعلق سے ادھو ٹھاکرے نے کہا ہم دونوں الگ ہوگئے تھے ، لیکن مہاراشٹرا، ہندوتوا اور مراٹھی تشخص کے بارے میں ہمارے پالیسی نہیں بدلی تھی ۔ ہم اسی پالیسی پر الگ الگ کام کر رہے تھے ۔ ہماری تقسیم سے بی جے پی فائدہ اٹھا رہی تھی، اس لئے ہم دوبارہ متحد ہو گئے ہیں ۔

ادھو ٹھاکرے نے کہا "ہم لوگ ہندوتوا کے لئے بی جے پی میں تھے ۔ مگر آج بی جے پی کے ہندوتوا کا ورژن اور فریم ورک میری سمجھ میں نہیں آ رہا ہے ۔ مہاراشٹرا میں انہوں نے گئو ذبیحہ پر پابندی لگا رکھی ہے مگر گوا اور شمالی مشرقی علاقوں میں یہ پابندی نہیں لگائی ہے ۔ یہ لوگ ہندو - مسلم کی تفریق کرتے ہیں ۔ اگر میں کانگریس کے ساتھ ملتا ہوں تو کہا جاتا ہے کہ میں ہندوتوا کو چھوڑ دیا ہے ۔ لیکن جب یہی لوگ یہ سب کرتے ہیں تو کیا قابل قبول ہوتا ہے ؟ جب بی جے پی کچھ کرتی ہے تو یہ امر پریم ہے اور جب ہم کرتے ہیں تو یہ لو جہاد بن جاتا ہے ۔ یہ لوگ جنگ آزادی یا متحدہ مہاراشٹرا کی تحریک کا حصہ نہیں رہے ۔ یہ صرف جھگڑے پیدا کرتے ہیں ۔ یہ بہت ہی خطرناک ہیں ۔"

لسانی تفریق کے بارے میں ادھو نے کہا کہ "ہم لوگ غیر مراٹھیوں کے خلاف نہیں ہیں ۔ البتہ ہمارے ساتھ ناانصافی کرکے ممبئی کو لوٹنے والوں کے خلاف ہیں ۔ ہم تمام گجراتیوں یا شمالی اور جنوبی ہند کے باشندوں کے خلاف نہیں ہیں ۔ "ہماری لڑائی ان سے ہے جو ہمارے ساتھ ناانصافی کر رہے ہیں ۔ کئی برس سے ہم بی سی میں برسر اقتدار ہیں ۔ ہم معیاری تعلیم دے رہے ہیں ۔ ہم ہندی، اردو، گجراتی سمیت آٹھ مختلف زبانوں میں پڑھائی کا انتظام کر رہے ہیں ۔"

ہندی کو پرائمری اسکول سطح پر لاگو کیے جانے کی مخالفت کرتے ہوئے ادھو ٹھاکرے نے کہا کہ اسے ہم پر کیوں تھوپا جا رہا ہے، یہ ممبئی پر قبضہ جمانے کا منصوبہ ہے ۔ اس سے ان کے مقاصد ظاہر ہوتے ہیں ۔ اسکولوں میں ہندی کو تھوپے بغیر بھی یہاں ہندی بولی جاتی ہے تو پھر اسے زبردستی لادنے کی ضرورت کیا ہے ؟"


Share: