گوہاٹی، 4/جنوری (ایس او نیوز/ایجنسی) آسام کی قبائلی تنظیموں کی رابطہ کارکمیٹی نے جمعہ کو ریاستی وزراء کی اس رپورٹ کی مخالفت کی جس میں چھ برادریوں کو درج فہرست قبائل کا درجہ دینے کی سفارش کی گئی ہے۔کمیٹی نے کہا کہ یہ سفارشات ’’غیر قانونی اور غیر آئینی‘‘ ہیں اور پنچایتوں، خود مختار کونسلوں، اسمبلی اور پارلیمنٹ میں موجودہ درج فہرست قبائل کے سیاسی حقوق سلب کر دیں گی۔ریاست کی۱۴؍ قبائلی برادریوں کی نمائندگی کرنے والی کمیٹی نے کہا کہ اس سے مرکزی حکومت کے کوٹہ میں بھی رکاوٹ آئے گی۔ واضح رہے کہ نومبر کو آسام کی کابینہ سے منظور ہونے والی رپورٹ میں چھ برادریوں - تائی احوم، چوٹیا، موران، موٹک، کوچ-راجبونشی اور ٹی ٹرائبز (آدیواسی) - کودرج فہرست قبائل کی فہرست میں شامل کرنے کی سفارش کی گئی ہے۔یہ چھ برادریاں فی الحال آسام کی دیگر پسماندہ طبقات کی فہرست کا حصہ ہیں اور ریاست کی آبادی کا تقریباً ۲۷؍فیصد ہیں۔
دریں اثناء جمعہ کو، آسام کے قبائلی تنظیموں کے کوآرڈینیشن کمیٹی نے کہا کہ’’ چھ برادریوں کی درج فہرست قبائل کے طور پر تسلیم کیے جانےکا مطالبہ صرف پنچایتوں، خود مختار کونسلوں اور اسمبلی میں اپنے سیاسی تحفظ کو یقینی بنانے کے لیے ہے۔کیونکہ ریاستی مقننہ میں دیگر پسماندہ طبقات کے لیے کوئی سیٹیں محفوظ نہیں ہیں۔‘‘ قبائلی گروپوں نے کہا کہ تعلیم اور روزگار تک رسائی کے حوالے سے ان چھ برادریوں کے حقوق اور فوائد پہلے ہی ریاستی سطح پر دیگر پسماندہ طبقات کے طور پر۲۷؍ فیصد تحفظ اور ان برادریوں میں سے ہر ایک کے لیے کئی خود مختار اور ترقیاتی کونسلوں کے قیام کے ذریعے محفوظ ہیں۔‘‘
بعد ازاں کمیٹی نے کہا کہ ککراجھار اور دیپھو لوک سبھا سیٹوں کو محفوظ کرنے کی سفارش پنچایتوں، خود مختار کونسلوں، اسمبلی اور پارلیمنٹ کے سطح پر موجودہ درج فہرست قبائل کے تحفظکے خاتمے کو جواز نہیں بنا سکتی۔یاد رہے کہ وزراء کے گروپ کی تجویز اسمبلی میں پیش کی جانی تھی، اس سے پہلے کہ اسے غور کے لیے مرکزی وزارت داخلہ بھیجا جائے۔اسمبلی انتخابات سے قبل گزشتہ کچھ مہینوں میںدرج فہرست قبائل کی فہرست میں شامل کیے جانے کا مطالبہ بڑھ گیا تھا۔ توقع ہے کہ انتخابات اگلے چار مہینوں میں ہوں گے۔
اس سے قبل نومبر میں ان برادریوں کی جانب سے مخالفت میں مظاہرے بھی ہوئے تھے جو پہلے ہی شیڈولڈ ٹرائب کی فہرست کا حصہ ہیں۔مظاہرین نے الزام لگایا کہ ریاستی انتخابات کے پیش نظر شیڈولڈ ٹرائب کی فہرست کو بڑھانے کا فیصلہ ’’سیاسی مقصد کا حامل‘‘ ہے۔ ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ شیڈولڈ ٹرائب کی فہرست میں مزید برادریوں کو شامل کرنے سے فہرست میں موجود قبائل کے حقوق مجروح ہوں گے۔۲۰۱۹ء کے لوک سبھا انتخابات سے قبل، آسام کی شیڈولڈ ٹرائب کی فہرست میں چھ گروہوں کو شامل کرنے کی تجویز پیش کرنے والا ایک بل راجیہ سبھا میں پیش کیا گیا تھا۔ تاہم، اس پر بحث نہیں ہوئی اور نہ ہی اسے منظور کیا گیا۔
آسام میں وزراء کے گروپ کی تشکیل اس سال مرکزی وزارت داخلہ کی ہدایات پر کی گئی تھی۔2014 کے لوک سبھا انتخابات سے قبل، وزیر اعظم نریندر مودی نے ان چھ برادریوں سے وعدہ کیا تھا کہ انہیںدرج فہرست قبائل کا درجہ دیا جائے گا۔۲۰۲۴؍ کے حدود بندی کے عمل کے بعد، ۱۲۶؍رکنی آسام اسمبلی میںدرج فہرست قبائل کے لیے مخصوص نشستوں کی تعداد۱۶؍ سے بڑھ کر۱۹؍ ہو گئی۔ دراصل حدود بندی انتخابی حلقوں کی جغرافیائی حدود طے کرنے کا عمل ہے۔