کارکلا 26 / فروری (ایس او نیوز) پہلی مرتبہ انتخابات جیت کر ریاستی اسمبلی میں پہنچنے والے 31 اراکین نے تحریری طور پر کانگریس ہائی کمان کو جو مطالبہ بھیجا تھا اس کے تعلق سے وزیر اعلیٰ سدا رامیا نے صاف کر دیا ہے کہ فی الحال اس کی گنجائش نہیں ہے۔
کارکلا میں اخباری نمائندوں کے سوال کا جواب دیتے ہوئے وزیر اعلیٰ نے کہا :" پہلی مرتبہ چن کر اسمبلی میں پہنچنے والوں کی طرف سے وزارت طلب کرنا غلط نہیں ہے۔ یہ ان کا حق ہے۔ لیکن پارٹی نے جب اقتدار سنبھالا تھا تو اس وقت کیا گیا فیصلہ کچھ اور ہے۔ پارٹی کے اندر ہم نے فیصلہ کیا ہے کہ پہلی مرتبہ منتخب ہونے والوں کو وزارت میں شامل نہیں کریں گے۔ یہ سب کچھ حکومت تشکیل دیتے وقت طے ہو چکا ہے ۔ ہمیں اس پر قائم رہنا چاہیے ۔"
ڈی کے شیو کمار کی طرف سے گارنٹی اسکیموں کو مالیاتی بوجھ قرار دینے کے تعلق سے کہا کہ گارنٹی اسکیمیں اور ترقیاتی کام ایک ساتھ چلیں گے۔ چونکہ گارنٹی اسکیموں کے لئے 52 کروڑ روپوں کی ضرورت ہوتی ہے، اس پہلو سے ڈی کے شیوا کمار نے اسے مالیاتی بوجھ کہا ہوگا۔
چکمگلورو میں انسانوں پر ہاتھیوں کےحملوں کے بارے میں پوچھنے پر انہوں نے کہا کہ “ہاتھیوں کی تعداد بڑھ گئی ہے۔ اس کے علاوہ شیروں اور چیتوں کی تعداد بھی بڑھ رہی ہے۔ اور یہ سب انسانی آبادی والے علاقے میں داخل ہونے لگے ہیں۔ اس طرح ان جنگلی جانوروں اور انسانوں کا رابطہ ہوتا ہے۔ اسی وجہ سے اس مرتبہ جنگلات سے جڑے علاقوں میں بیریکیڈس لگانے کی اسکیم جاری کی جائے گی۔ بڑے پیمانے پر بیریکیڈس لگانا ہی اس کا حل ہے۔ اس کے علاوہ ایک ٹاسک فورس بھی تشکیل دی جائے گی ۔”