
چنئی، 27 جولائی (ایس او نیوز/ایجنسی)تمل ناڈو کے کولاشیل علاقے میں ایک 17 سالہ نوجوان محض صحت بہتر بنانے کے شوق میں اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھا۔ متوفی کی شناخت شکتی شورَن کے طور پر کی گئی ہے، جس نے یوٹیوب پر نظر آنے والے سخت ڈائٹ پلانز پر عمل کرتے ہوئے گزشتہ تین ماہ سے صرف پھلوں کے رس اور پانی پر گزارہ کیا تھا۔
پولیس کے مطابق شکتی شورَن کی موت مشتبہ حالات میں واقع ہوئی ہے اور اس سلسلے میں مقدمہ درج کر کے تفتیش شروع کر دی گئی ہے۔ تفتیش کے دوران یہ انکشاف ہوا کہ نوجوان کسی ماہر تغذیہ یا ڈاکٹر کے مشورے کے بغیر یوٹیوب پر دستیاب ویڈیوز کو بنیاد بنا کر اپنی خوراک میں سخت تبدیلیاں کر رہا تھا۔ گھر والوں کے مطابق وہ تین مہینے سے کسی بھی قسم کا ٹھوس کھانا نہیں کھا رہا تھا، اور صرف پانی اور جوس کی مدد سے زندہ رہنے کی کوشش کر رہا تھا۔
اس کے علاوہ، وہ وزن کم کرنے کے لیے کچھ ادویات بھی استعمال کر رہا تھا اور روزانہ سخت ورزش کرتا تھا۔ جمعرات کے روز اسے اچانک سانس لینے میں دشواری ہوئی اور وہ بے ہوش ہو کر زمین پر گر پڑا۔ اہل خانہ نے فوری طور پر اسے قریبی اسپتال پہنچایا، لیکن ڈاکٹروں نے بتایا کہ وہ اسپتال پہنچنے سے پہلے ہی دم توڑ چکا تھا۔
پولیس کا کہنا ہے کہ شکتی شورَن کی موت کی اصل وجہ جاننے کے لیے اس کی لاش کو پوسٹ مارٹم کے لیے بھیج دیا گیا ہے، جس کی رپورٹ کا انتظار ہے۔ اس واقعے نے والدین، نوجوانوں اور صحت کے شعبے سے وابستہ ماہرین میں تشویش کی لہر دوڑا دی ہے، جو سوشل میڈیا اور یوٹیوب پر دستیاب غیر مصدقہ معلومات کی بنیاد پر خطرناک تجربات کرنے سے خبردار کر رہے ہیں۔