چنئی 8/ مئی (ایس او نیوز) : تمل ناڈو اسمبلی انتخابات میں تملگا ویٹری کزگم (ٹی وی کے) کے سب سے بڑی جماعت بن کر ابھرنے کے باوجود گورنر کی جانب سے پارٹی سربراہ وجے کو حکومت سازی کی دعوت نہ دیے جانے پر ریاست کی سیاست میں زبردست ہلچل پیدا ہوگئی ہے۔ ایک طرف اپوزیشن لیڈران گورنر پر بی جے پی کا ایجنٹ ہونے کا الزام لگا رہے ہیں تو قومی انگریزی میڈیا اسے جمہوری روایات کے لئے خطرناک نظیر قرار دے رہا ہے۔
میڈیا رپورٹوں میں اس صورتحال کو غیر معمولی قرار دیتے ہوئے سوال اٹھایا گیا ہے کہ جب کسی جماعت کو سب سے زیادہ نشستیں حاصل ہوئی ہیں تو اسے حکومت بنانے کا موقع دینے میں تاخیر کیوں کی جارہی ہے۔ ٹی وی کے نے اسمبلی انتخابات میں 108 نشستیں حاصل کرکے ریاست کی سب سے بڑی جماعت ہونے کا اعزاز حاصل کیا، جبکہ حکومت سازی کے لئے 118 ارکان کی حمایت ضروری ہے۔ وجے نے گورنر آر۔ این۔ روی سے ملاقات کرکے حکومت بنانے کا دعویٰ پیش کیا، لیکن گورنر نے مطلوبہ اکثریت ثابت کرنے کی شرط عائد کردی، جس کے بعد سیاسی تنازع مزید شدت اختیار کرگیا۔
اپوزیشن جماعتوں نے گورنر کے اس رویہ پر سخت اعتراض کرتے ہوئے الزام لگایا ہے کہ وہ بی جے پی کے “سیاسی ایجنٹ” کے طور پر کام کر رہے ہیں۔ ڈی ایم کے، کانگریس، بائیں بازو کی جماعتوں اور ودُتھلئی چرُتھئیگل کچّی (وی سی کے) کے رہنماؤں نے کہا کہ پارلیمانی جمہوریت میں روایت یہی رہی ہے کہ سب سے بڑی جماعت کو پہلے حکومت بنانے کی دعوت دی جاتی ہے اور اکثریت کا امتحان اسمبلی کے فلور پر لیا جاتا ہے۔
ڈی ایم کے کے سینئر رہنما ٹی آر بالو نے کہا کہ “یہ صرف وجے کے ساتھ ناانصافی نہیں بلکہ تمل ناڈو کے عوامی مینڈیٹ کی توہین ہے۔” وی سی کے سربراہ تھول۔ تھروماؤلَون نے الزام لگایا کہ راج بھون کو بی جے پی کے سیاسی دفتر کی طرح استعمال کیا جارہا ہے، جبکہ بائیں بازو کی جماعتوں نے فوری فلور ٹیسٹ کرانے کا مطالبہ کیا ہے۔
دی ہندو اور دیگر قومی اخبارات میں شائع تبصروں میں بھی گورنر کے کردار پر سوال اٹھائے گئے ہیں۔ بعض ادارتی مضامین میں کہا گیا ہے کہ اگر اکثریت کا فیصلہ اسمبلی کے بجائے راج بھون میں ہونے لگے تو یہ وفاقی ڈھانچے اور جمہوری روایات کے لئے خطرناک نظیر ثابت ہوسکتا ہے۔ بعض تبصروں میں گورنر کے اس رویہ کو غیر ضروری آئینی مداخلت قرار دیا گیا ہے۔
ادھر ٹی وی کے کارکنوں میں بے چینی بڑھتی جارہی ہے۔ چنئی سمیت مختلف شہروں میں کارکنوں نے احتجاجی مظاہرے کئے اور گورنر سے فوری طور پر وجے کو حکومت سازی کی دعوت دینے کا مطالبہ کیا۔ پارٹی قیادت نے کارکنوں سے تحمل سے کام لینے کی اپیل کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ تمام آئینی اور سیاسی امکانات پر غور کر رہی ہے۔
کانگریس اور بائیں بازو کی جماعتوں نے الزام لگایا کہ مرکز کی بی جے پی حکومت تمل ناڈو میں ایک نئی سیاسی طاقت کے ابھرنے سے پریشان ہے۔ کانگریس رکن پارلیمان مانکم ٹیگور نے کہا کہ عوام نے تبدیلی کے حق میں ووٹ دیا ہے، اس لئے وجے کو فوری طور پر حکومت بنانے کی دعوت دی جانی چاہئے تاکہ وہ اسمبلی میں اپنی اکثریت ثابت کرسکیں۔
سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ تمل ناڈو کی سیاست میں کئی دہائیوں سے جاری ڈی ایم کے اور اے آئی اے ڈی ایم کے کی روایتی بالادستی کو اس انتخاب میں پہلی مرتبہ سنجیدہ چیلنج ملا ہے۔ فلمی دنیا سے سیاست میں آنے والے وجے نے نوجوان ووٹروں اور شہری طبقوں میں غیر معمولی مقبولیت حاصل کی، جس کے باعث ریاست کی سیاست ایک نئے دور میں داخل ہوتی دکھائی دے رہی ہے۔
معروف اداکار پرکاش راج نے سوشل میڈیا پر اپنے ردعمل میں لکھا کہ “جمہوریت میں فیصلہ منتخب نمائندوں کو کرنا چاہئے، نہ کہ نامزد عہدوں کو۔” جبکہ کمل ہاسن نے کہا کہ “اگر اکثریت کا فیصلہ راج بھون میں ہونا ہے تو پھر انتخابات کرانے کا مقصد کیا رہ جاتا ہے؟”
ذرائع کے مطابق اگر حکومت سازی کے عمل میں مزید تاخیر ہوئی تو ٹی وی کے عدالت سے رجوع کرنے پر بھی غور کرسکتی ہے۔ فی الحال پوری ریاست کی نظریں راج بھون پر مرکوز ہیں، جہاں آئندہ چند دنوں میں کسی اہم پیش رفت کی توقع کی جارہی ہے۔