کاروار 13/فروری (ایس او نیوز) : اس سال گرمی کے موسم میں ضلع کے عوام کو پینے کے پانی کی قلت کا سامنا نہ کرنا پڑے، اس کے لیے ابھی سے ضروری احتیاطی اقدامات کرنے کی ہدایت ضلع ڈپٹی کمشنر کے۔ لکشمی پریا نے دی ۔ انہوں نے ضلع کے تمام تحصیلداروں، تعلقہ پنچایت کے ایگزیکٹو افسران اور بلدیاتی اداروں کے حکام کو اس سلسلے میں تیاری کرنے کی تاکید کی۔ وہ جمعہ کے روز ڈپٹی کمشنر دفتر کے اجلاس ہال میں منعقدہ ضلع ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی کے اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے خطاب کر رہی تھیں۔
انہوں نے ہدایت دی کہ گزشتہ گرمیوں میں جہاں پانی کی قلت پیدا ہوئی تھی اور اس سال جن دیہات و شہری علاقوں میں قلت کا اندیشہ ہے، ان کی فہرست تیار کی جائے۔ ان علاقوں میں نجی کنوؤں، کرایہ کے بورویلوں کے استعمال اور ٹینکروں کے ذریعے پانی کی فراہمی سمیت متبادل انتظامات پہلے سے یقینی بنائے جائیں۔
موسمِ گرما کے دوران مویشیوں کے لیے پانی اور چارے کی قلت نہ ہو، اس کے لیے محکمہ حیوانات کے افسران کو مکمل تیاری رکھنے کی ہدایت دی گئی۔
بارش کے موسم میں سیلابی صورتحال سے بچاؤ کے لیے ابھی سے مرمتی کام، تعمیراتی اقدامات اور نالوں کی صفائی کا کام شروع کرنے کو کہا گیا۔ مدگا، بنگا، اراگا، چندیا اور اڈور سمیت مختلف علاقوں میں بارش کا پانی بلا رکاوٹ بہہ سکے، اس کے لیے میونسپلٹی، محکمہ چھوٹی آبپاشی اور تحصیلدار مشترکہ معائنہ کر کے ڈریجنگ اور دیگر ضروری کام ترجیحی بنیادوں پر انجام دیں۔ سی برڈ حکام کو بھی مکمل تعاون فراہم کرنے کی ہدایت دی گئی۔
قومی شاہراہوں پر بارش کا پانی جمع نہ ہونے دینے کے لیے نیشنل ہائی وے اتھارٹی کے افسران کو اقدامات کرنے اور جاری کام مقررہ مدت میں مکمل کرنے کی تاکید کی گئی۔
ضلع میں نصب بارش پیما آلات کی کارکردگی کا جائزہ لینے، غیر فعال آلات کو فوری تبدیل کرنے اور مناسب مقامات پر نئے آلات نصب کرنے کی بھی ہدایت دی گئی۔
لینڈ سلائیڈ سے بچاؤ کے منصوبوں کو انتظامی منظوری دی جا چکی ہے، متعلقہ محکموں کو ٹینڈر جاری کر کے مقررہ مدت میں کام مکمل کرنے کا سخت حکم دیا گیا۔
گرمی کے دوران ممکنہ ہیٹ ویو کے پیش نظر محکمہ موسمیات کی ہدایات پر عمل کرنے، عوام میں احتیاطی تدابیر سے متعلق بیداری پروگرام منعقد کرنے اور صفائی گاڑیوں کے ذریعے ضلع بھر میں آگاہی مہم چلانے کی بھی ہدایت دی گئی۔
اجلاس میں ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر ساجد ملا، سب ڈویژنل آفیسر شروَن کمار، ڈی ایف او روی شنکر اور دیگر ضلعی افسران موجود تھے۔