کاروار، 12 ستمبر (ایس او نیوز)اُترکنڑا سپرنٹنڈنٹ اْف پولس (ایس پی) دیپن ایم این نے کہا کہ پولیس محکمہ کو مزید عوام دوست بنانے کے مقصد سے ’گھر گھر پولیس‘ پروگرام شروع کیا گیا ہے، جبکہ بزرگ شہریوں کی سہولت کے لیے ’آسرے‘ پروگرام ترتیب دیا گیا ہے۔
سداپور تعلقہ کے ہلیگیری ہوبلی میں ’پراجا سیوا‘ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے عوام سے پولیس محکمہ کی مختلف عوام دوست اسکیموں سے فائدہ اٹھانے کی اپیل کی۔
انہوں نے آن لائن دھوکہ دہی اور مشتبہ لنکس کے بارے میں عوام کو بیدار کرتے ہوئے کہا کہ غیر ضروری یا نامعلوم لنکس کو ہرگز نہ کھولا جائے۔ انہوں نے نوجوانوں کو منشیات سے دور رہنے کی بھی اپیل کی۔
ایس پی نے کہا کہ سائبر فراڈ کے واقعات سے بچنے کے لیے عوام کو احتیاط برتنے اور کسی بھی مشتبہ آن لائن سرگرمی کی صورت میں فوری طور پر متعلقہ حکام سے رابطہ کرنے کی ضرورت ہے۔

پروگرام میں شریک اُترکنڑا کی ڈپٹی کمشنر لکشمی پریا نے کہا کہ ’پراجا سیوا‘ مہم عوامی شکایات کو فوری طور پر سننے اور انتظامیہ کو عوام کی دہلیز تک پہنچانے کی ایک منفرد کوشش ہے۔ انہوں نے کہا کہ عوام سے موصول ہونے والی درخواستوں کو آن لائن درج کیا جائے گا اور موصولہ درخواستوں کا 20 دن کے اندر ازالہ کرنے کی کوشش کی جائے گی۔
انہوں نے یہ بھی کہا کہ امسال بارش کم ہونے کے وجہ سے موسم گرما میں پینے کے پانی کی قلت پیدا ہونے کا خدشہ ہے۔ اس صورتحال سے نمٹنے کے لیے حکومت نے ہر اسمبلی حلقے کے لیے 1 کروڑ روپے کی گرانٹ منظور کی ہے۔ عوام کو پینے کے پانی کی دشواری پیش نہ آئے، اس کے لیے ضروری انتظامات کیے جائیں گے۔
ڈپٹی کمشنر نے مزید بتایا کہ ’بھومی گارنٹی‘ اسکیم کے تحت ضلع میں بے گھر افراد کو رہائشی پلاٹ فراہم کرنے کے لیے زمین کی نشاندہی کا کام جاری ہے۔ ہلیگیری ہوبلی میں 63 ایکڑ زمین کی نشاندہی کی گئی ہے۔ انہوں نے تمام افسران کو ہدایت دی کہ ضلع کے بے گھر افراد کو درخواستیں داخل کرنے کے سلسلے میں اپنے اپنے علاقوں میں وسیع پیمانے پر بیداری پیدا کریں۔
انہوں نے یہ بھی بتایا کہ ضلع میں تجاوزات ہٹانے سے متعلق مسائل کی معلومات 18 ستمبر کو منگلورو میں ہونے والے کابینہ اجلاس کو بھی فراہم کی گئی ہیں۔

’پراجا سیوا‘ مہم کے اجلاس کا افتتاح کرتے ہوئے سرسی، سداپور کے رکن اسمبلی بھیمنّا نائک نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ کرناٹک حکومت کی عوامی فلاحی اسکیمیں محض فہرستوں تک محدود نہ رہیں بلکہ غریبوں اور عام لوگوں کی زندگیوں میں مثبت تبدیلی لانے کے ساتھ ان کے لیے روشنی کا ذریعہ بنیں۔ انہوں نے کہا کہ سرکاری اسکیموں اور خدمات کو عوام کی زندگیوں میں بہتری لانے کے مقصد سے ’پراجا سیوا‘ مہم شروع کی گئی ہے۔ بھیمنا نائک نے کہا کہ دیہی علاقوں کے عوام کو سڑک، نالی، پینے کے پانی، اسکول، کالج اور تعلیم سمیت مختلف بنیادی سہولتوں سے متعلق مسائل کا سامنا ہے۔ ’پراجا سیوا‘ اجلاسوں کے ذریعے ان مسائل کو افسران کے علم میں لاتے ہوئے ممکنہ حد تک موقع پر ہی حل کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔
انہوں نے کہا کہ ریاستی حکومت کی پانچ گارنٹی اسکیموں سے 1.20 کروڑ سے زیادہ خاندان مستفید ہو رہے ہیں۔ ’گرہ لکشمی‘، ’شکتی‘، ’گرہ جیوتی‘، ’انّا بھاگیہ‘ اور ’یونِدھی‘ جیسی اسکیمیں غریب اور متوسط طبقے کے خاندانوں کو مالی مدد فراہم کر رہی ہیں۔ تعلیم کو ترجیح دیتے ہوئے طالبات کے ساتھ طلبہ کو بھی سرکاری بسوں میں مفت سفر کی سہولت فراہم کی گئی ہے، جس سے تعلیم کے میدان میں مساوی مواقع کو فروغ ملا ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ نوجوانوں کو منظم کرکے ترقیاتی سرگرمیوں میں شامل کرنے کے مقصد سے ’بھارت جوڑو‘ یوتھ تنظیم کے ذریعے نوجوانوں کو بااختیار بنایا جا رہا ہے اور ایسی تنظیموں کو سالانہ 10 لاکھ روپے کی گرانٹ فراہم کی جا رہی ہے۔
اجلاس میں عوام کی جانب سے 600 سے زائد شکایتی درخواستیں پیش کی گئیں جس میں زیادہ تر درخواستیں دیہی ترقی، رہائشی اسکیموں، دیہی سڑکوں کی مرمت اور بنیادی سہولتوں کی فراہمی سے متعلق تھیں۔
عوام کی جانب سے خطرناک درختوں کو ہٹانے، جنگلی جانوروں سے فصلوں کو ہونے والے نقصان کی روک تھام، تجاوزات ہٹانے سے متعلق مسائل، بس سہولت، ریونیو ریکارڈ میں ترمیم اور راشن کارڈ جاری کرنے سمیت مختلف مسائل بھی حکام کے سامنے پیش کیے گئے۔
حکام نے عوامی شکایات کو متعلقہ محکموں کے ذریعے درج کرکے ان کے ازالے کے لیے ضروری اقدامات کرنے کی یقین دہانی کرائی۔