نئی دہلی، 11 جون (ایس او نیوز / ایجنسی)امریکہ میں ہندوستانی شہریوں، بالخصوص طلبہ کے ساتھ جاری بدسلوکی اور غیر انسانی سلوک پر کانگریس نے وزیر اعظم نریندر مودی کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔ کانگریس کا کہنا ہے کہ امریکہ میں ہندوستانیوں کی توہین اور ان کے وقار کو روندنے کے واقعات میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے، لیکن وزیر اعظم مودی خاموش تماشائی بنے بیٹھے ہیں۔ پارٹی نے مطالبہ کیا ہے کہ وزیر اعظم فوری طور پر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے بات کریں اور واضح پیغام دیں کہ ہندوستانیوں کے ساتھ بدسلوکی کسی صورت برداشت نہیں کی جائے گی۔
کانگریس کی سینئر لیڈر سپرییا شرینیت نے ایک پریس کانفرنس میں تازہ ترین واقعہ کا ذکر کرتے ہوئے بتایا کہ نیویارک کے ایک ایئرپورٹ پر ایک ہندوستانی طالب علم کو زمین پر پٹخ دیا گیا، جوتوں تلے روندا گیا، ہاتھ پاؤں باندھ کر ہتھکڑیاں لگائی گئیں اور پھر اسے واپس ہندوستان ڈی پورٹ کر دیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ یہ کوئی دہشت گرد یا مجرم نہیں تھا، بلکہ وہ ایک طالب علم تھا جو اپنے خوابوں کی تکمیل کے لیے امریکہ گیا تھا۔ سپرییا نے سوال اٹھایا کہ آخر امریکہ کو کس حق سے ہندوستانی شہریوں کے ساتھ اس طرح کا سلوک کرنے کی اجازت ملتی ہے؟
انہوں نے انکشاف کیا کہ اس سے قبل امریکہ نے 682 ہندوستانیوں کو بیڑیوں میں جکڑ کر فوجی طیارے کے ذریعے واپس ہندوستان بھیجا تھا، لیکن اس دوران بھی وزیر اعظم مودی خاموش رہے۔ انہوں نے کہا کہ امریکہ نہ صرف توہین آمیز سلوک روا رکھے ہوئے ہے، بلکہ دھمکی آمیز لب و لہجہ بھی اختیار کر رہا ہے، جبکہ وزیر اعظم کی جانب سے کوئی سفارتی ردعمل سامنے نہیں آیا۔
کانگریس کے شعبۂ مواصلات کے سربراہ جے رام رمیش نے بھی سوشل میڈیا پر جاری بیان میں کہا کہ امریکہ میں ٹرمپ کے صدر بننے کے بعد سے ہی ہندوستانی شہریوں کے وقار کو مسلسل ٹھیس پہنچائی جا رہی ہے، لیکن مودی حکومت انہیں تحفظ فراہم کرنے میں ناکام ثابت ہوئی ہے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ ٹرمپ نے کھلے عام یہ دعویٰ کیا ہے کہ انہوں نے ہندوستان پر دباؤ ڈال کر سیزفائر کروایا، اور وزیر اعظم مودی اس پر لب کشائی تک نہیں کر سکے۔
پارٹی ترجمان سپرییا شرینیت نے مزید کہا کہ وزیر اعظم نریندر مودی نے تو یہاں تک کر دیا کہ ٹرمپ کی انتخابی مہم میں شرکت کر کے ان کے لیے حمایت ظاہر کی، لیکن آج جب ہمارے شہری امریکہ میں ذلیل و رسوا ہو رہے ہیں، تو وہ مکمل خاموشی اختیار کیے ہوئے ہیں۔ انہوں نے طنزیہ کہا کہ ’’واٹس ایپ اور ٹی وی پر ہمیں دکھایا جاتا ہے کہ ہندوستان کا ڈنکا بج رہا ہے، مگر حقیقت یہ ہے کہ امریکہ میں ہندوستانیوں پر ڈنڈا برسایا جا رہا ہے۔‘‘
انہوں نے الزام عائد کیا کہ حکومت کی طرف سے ہر واقعہ کے بعد محض ایک رسمی بیان جاری کیا جاتا ہے کہ ’’ہندوستانی طلبہ کو مقامی قوانین کا لحاظ رکھنا چاہیے‘‘۔ سپرییا نے کہا کہ اگر وزیر اعظم اب بھی خاموشی اختیار کرتے ہیں تو یہ تاثر جائے گا کہ یہ سب کچھ ان کی رضامندی سے ہو رہا ہے۔
کانگریس کا موقف ہے کہ 145 کروڑ آبادی والا ہندوستان ایک خوددار ملک ہے، اور اس کے شہریوں کے وقار کا تحفظ وزیر اعظم کی اولین ذمہ داری ہے۔ پارٹی نے واضح کیا کہ اب حکومت محض تماشائی نہ بنے بلکہ امریکی حکام سے براہ راست رابطہ کر کے ہندوستانیوں کے تحفظ کو یقینی بنائے اور سخت پیغام دے کہ اس طرح کے مظالم ہرگز برداشت نہیں کیے جائیں گے۔