نئی دہلی، 25 /اگست (ایس او نیوز / ایجنسی) سپریم کورٹ نے پیر کے روز کہا کہ سوشیل میڈیا پر اثرانداز ہونے والے انفلوئنسرز (influencers) اظہارِ رائے کی آزادی کو تجارتی شکل دے رہے ہیں اور ان کے تبصرے ایک ایسے متنوع معاشرے میں لوگوں کے جذبات کو مجروح کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں جس میں معذور افراد، خواتین، بچے، بزرگ اور اقلیتی طبقے شامل ہیں۔ عدالت نے مرکزی حکومت کو ہدایت دی ہے کہ وہ قومی نشریاتی و ڈیجیٹل ایسوسی ایشن کے مشورے سے سوشیل میڈیا پر رویّے کے لیے رہنما اصول (guidelines) تیار کرے، جن میں پوڈکاسٹ اور دیگر آن لائن پروگرام بھی شامل ہوں۔
جسٹس جوئے مالیہ بگچی نے ریمارک کیا کہ ’’جب آپ اظہارِ رائے کی آزادی کو تجارتی بنا رہے ہیں تو یہ بھی ذہن میں رکھنا ضروری ہے کہ کسی طبقے کے جذبات مجروح نہ ہوں‘‘۔ جسٹس سوریہ کانت نے کہا کہ معذور افراد پر غیر حساس مذاق کرنا دراصل آئینی مقصد کو توڑنا ہے، کیونکہ ان کو مین اسٹریم (mainstream) میں لانے کی کوششیں اس طرح کے رویے سے برباد ہو جاتی ہیں۔
عدالت ایک کیس کی سماعت کر رہی تھی جس میں کامیڈین سمے ریئنا سمیت چند افراد پر الزام ہے کہ انہوں نے معذور افراد کے بارے میں غیر شائستہ لطیفے سنا کر آزادیٔ اظہار کا غلط استعمال کیا۔ جسٹس بگچی نے کہا کہ مزاح زندگی کا لازمی حصہ ہے مگر اس میں شائستگی کی حد عبور نہیں ہونی چاہیے۔ انہوں نے کہا ’’ہم ایک مختلف برادریوں والا ملک ہیں‘‘۔
سپریم کورٹ نے یہ بھی کہا کہ ایسے رہنما اصول بننے چاہئیں جن کی خلاف ورزی پر لازمی طور پر مؤثر نتائج سامنے آئیں۔ ’’اگر نتائج صرف رسمی ہوں تو لوگ آسانی سے بچ نکلیں گے۔ سزائیں کی گئی زیادتی کے مطابق ہونی چاہئیں‘‘، جسٹس کانت نے واضح کیا۔ ساتھ ہی عدالت نے یہ بھی کہا کہ مقصد اظہارِ رائے کو محدود کرنا نہیں بلکہ اس میں اور دل آزاری کرنے والی باتوں میں لکیر کھینچنا ہے۔
اٹارنی جنرل آر وینکٹارامانی نے مرکز کی جانب سے کہا کہ مجوزہ رہنما اصولوں کا مقصد سوشیل میڈیا صارفین کو حساس بنانا ہے۔ ’’لیکن اگر کوئی خلاف ورزی کرے گا تو اسے ذمہ داری لینی ہوگی‘‘۔
سینئر وکیل اپراجیتا سنگھ، جو "ایس ایم اے کیور فاؤنڈیشن" کی طرف سے پیش ہوئیں، نے کہا کہ انفلوئنسرز کی باتیں نسلوں پر اثر ڈالتی ہیں، اسی لیے وہ مثبت رول ماڈل بن سکتے ہیں اور یہی ان کی بہترین معافی ہوگی۔
عدالت نے کامیڈین حضرات کو اپنے پروگراموں کے ذریعے غیر مشروط معافی پیش کرنے کی ہدایت دی اور کیس کی مزید سماعت نومبر کے لیے ملتوی کر دی۔