ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ملکی خبریں / فلم ’ادے پور فائلز‘ کی ریلیز پر پابندی برقرار، سپریم کورٹ کا مرکز کے فیصلے تک انتظار کا مشورہ

فلم ’ادے پور فائلز‘ کی ریلیز پر پابندی برقرار، سپریم کورٹ کا مرکز کے فیصلے تک انتظار کا مشورہ

Wed, 16 Jul 2025 17:26:38    S O News

نئی دہلی، 16 جولائی (ایس او نیوز / ایجنسی) متنازع فلم ’ادے پور فائلز‘ کی ریلیز پر سپریم کورٹ نے فوری طور پر کوئی حتمی فیصلہ دینے سے انکار کرتے ہوئے دہلی ہائی کورٹ کی جانب سے عائد عبوری پابندی کو برقرار رکھا ہے۔ عدالت نے فلم سازوں کو کوئی راحت نہ دیتے ہوئے مرکز کی تشکیل کردہ کمیٹی کے فیصلے کا انتظار کرنے کی ہدایت دی ہے۔

سپریم کورٹ کی جسٹس سوریہ کانت اور جسٹس جائے مالا باگچی پر مشتمل بنچ نے بدھ کو معاملے کی سماعت کے دوران کہا کہ دہلی ہائی کورٹ کے 10 جولائی کو دیے گئے عبوری حکم میں مداخلت کی کوئی گنجائش نہیں ہے۔ عدالت نے کہا، ’’ہم چاہتے ہیں کہ متعلقہ کمیٹی بغیر وقت ضائع کیے تمام اعتراضات کا فیصلہ کرے۔ ہم ایک یا دو دن انتظار کر سکتے ہیں، تب تک فلم کی ریلیز پر پابندی برقرار رہے گی۔‘‘

یہ فلم 2022 میں راجستھان کے ادے پور شہر میں درزی کنہیا لال تیلی کے بہیمانہ قتل پر مبنی ہے، جس نے ملک بھر میں غم و غصے کی لہر دوڑا دی تھی۔ فلم کی ریلیز 11 جولائی کو طے تھی، مگر جمعیۃ علماء ہند کے صدر مولانا ارشد مدنی اور دیگر درخواست گزاروں کی عرضیوں پر دہلی ہائی کورٹ نے عبوری روک لگا دی۔

درخواست گزاروں کا کہنا ہے کہ فلم ایک مخصوص طبقے کے خلاف نفرت کو ہوا دیتی ہے، جو معاشرتی ہم آہنگی کے لیے خطرہ ہے۔ ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ فلم کی ریلیز سے عدالتی کارروائی پر بھی اثر پڑ سکتا ہے۔

فلم کے پروڈیوسر امِت جانی نے دہلی ہائی کورٹ کے فیصلے کو سپریم کورٹ میں چیلنج کرتے ہوئے موقف اختیار کیا ہے کہ فلم کو سنٹرل بورڈ آف فلم سرٹیفکیشن (CBFC) سے منظوری حاصل ہے، اس لیے اس کی ریلیز پر روک اظہار رائے کی آزادی میں مداخلت ہے۔ انہوں نے یہ بھی بتایا کہ فلم کا ابتدائی نام کچھ اور تھا، جسے بعد میں بدل کر ’ادے پور فائلز‘ رکھا گیا۔

دوسری طرف کنہیا لال قتل کیس کے ایک ملزم محمد جاوید نے بھی عدالت میں عرضی دائر کی ہے، جس میں کہا گیا ہے کہ فلم کی ریلیز سے نہ صرف ان کے مقدمے پر اثر پڑے گا بلکہ ان کی ساکھ کو بھی ناقابلِ تلافی نقصان پہنچ سکتا ہے۔

سماعت کے دوران عدالت نے کہا کہ اگر فلم سے کسی کی ساکھ کو نقصان پہنچتا ہے تو اس کا ازالہ ممکن نہیں، جبکہ فلم سازوں کو اگر مالی نقصان ہوتا ہے تو اس کی تلافی ہو سکتی ہے۔

عدالت نے تمام فریقین کو ہدایت دی ہے کہ وہ مرکز کے سامنے اپنی بات رکھیں، کیونکہ اس معاملے کی سماعت بدھ کی دوپہر 2:30 بجے ہونی ہے، اور کمیٹی کو فلم کے خلاف اعتراضات اور ملزمان کا موقف سن کر فیصلہ کرنے کا اختیار دیا گیا ہے۔

سپریم کورٹ نے آئندہ سماعت 21 جولائی کو مقرر کی ہے، اور اس وقت تک ’ادے پور فائلز‘ فلم کی ریلیز پر پابندی برقرار رہے گی۔ عدالت نے امید ظاہر کی ہے کہ مرکز کی کمیٹی تمام فریقین کی بات سن کر جلد از جلد فیصلہ کرے گی تاکہ آئندہ سماعت تک صورت حال واضح ہو جائے۔


Share: