نئی دہلی 13/جنوری (ایس او نیوز/پی ٹی آئی): سپریم کورٹ نے آوارہ کتوں کے کاٹنے کے بڑھتے واقعات پر سخت تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ ایسے ہر واقعے میں ریاستی حکومتوں سے بھاری معاوضہ وصول کرنے کا حکم دے گا اور آوارہ کتوں کو کھانا کھلانے والوں کی ذمہ داری اور جوابدہی بھی طے کی جائے گی۔ عدالت عظمیٰ نے واضح کیا کہ گزشتہ پانچ برسوں سے آوارہ جانوروں سے متعلق قوانین پر مؤثر عمل درآمد نہ ہونے کی قیمت اب ریاستوں کو چکانی ہوگی۔
جسٹس وکرم ناتھ، جسٹس سندیپ مہتا اور جسٹس این وی انجریا پر مشتمل بنچ نے کہا کہ بچوں اور بزرگوں کو آوارہ کتوں کے کاٹنے، زخمی ہونے یا ہلاکت کی صورت میں ریاستی حکومتیں ذمہ دار ہوں گی۔ جسٹس وکرم ناتھ نے ریمارکس دیے کہ اگر کوئی شخص کتوں سے اتنی ہی محبت کرتا ہے تو انہیں اپنے گھروں میں رکھے، عوامی مقامات پر چھوڑ کر لوگوں کو خوفزدہ کرنے اور کاٹنے کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔
جسٹس سندیپ مہتا نے اس موقف کی تائید کرتے ہوئے سوال کیا کہ اگر نو سالہ بچہ کتوں کے حملے کا شکار ہو تو اس کی ذمہ داری کس پر عائد ہوگی؟ کیا ان تنظیموں پر جو ان کتوں کو کھانا کھلاتی ہیں؟ عدالت نے کہا کہ وہ اس مسئلے سے آنکھیں بند نہیں کر سکتی۔
سپریم کورٹ آوارہ جانوروں سے متعلق اپنے 7 نومبر 2025 کے حکم میں ترمیم سے متعلق متعدد درخواستوں پر سماعت کر رہی تھی، جس میں ادارہ جاتی علاقوں اور سڑکوں سے آوارہ کتوں کو ہٹانے کی ہدایت دی گئی تھی۔
عدالت نے ایک واقعے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ گجرات میں ایک وکیل کو پارک میں کتے نے کاٹ لیا، اور جب بلدیاتی اہلکار کتے کو پکڑنے پہنچے تو خود کو ’ڈاگ لورز‘ کہنے والے وکلا نے ان پر حملہ کر دیا۔ عدالت نے اس صورتحال کو نہایت افسوسناک قرار دیا۔
عدالت عظمیٰ نے یہ بھی افسوس ظاہر کیا کہ گزشتہ چار دنوں سے اس معاملے پر طویل بحث جاری ہے اور کارکنوں و این جی اوز کی مداخلت کے باعث عدالت کو مرکزی اور ریاستی حکومتوں کا مؤقف سننے کا موقع نہیں مل پا رہا۔ عدالت نے وکلا سے اپیل کی کہ وہ عدالت کو یونین اور ریاستی حکومتوں سے جواب طلب کرنے اور مؤثر احکامات جاری کرنے کا موقع دیں، کیونکہ مسئلہ سنگین شکل اختیار کر چکا ہے۔
سماعت کے آغاز میں سینئر وکیل ارویند دتّر، جو ایک این جی او کی جانب سے پیش ہوئے، نے 7 نومبر 2025 کے عدالتی حکم کا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ یہ حکم قانونی ضوابط کے عین مطابق ہے اور کسی نئی ماہر کمیٹی کی ضرورت نہیں، کیونکہ موجودہ کمیٹیوں کی رپورٹس پہلے ہی ریکارڈ پر موجود ہیں۔ جسٹس مہتا نے کہا کہ وہ اس حکم کے دفاع میں آنے والے پہلے وکیل ہیں۔
اروِند دتّر نے مؤقف اختیار کیا کہ آوارہ کتوں کو ادارہ جاتی علاقوں یا عوامی مقامات پر رہنے کا کوئی قانونی حق حاصل نہیں، اور نہ ہی انہیں وہاں واپس چھوڑا جا سکتا ہے جہاں سے انہیں پکڑا گیا ہو۔ انہوں نے لداخ میں جنگلی علاقوں میں آوارہ کتوں سے متعلق ایک علیحدہ درخواست کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ وہاں تقریباً 55 ہزار آزاد گھومنے والے آوارہ کتے موجود ہیں جو نایاب جنگلی حیات کے لیے شدید خطرہ بن چکے ہیں۔
سینئر وکیل وکاس سنگھ، جو ایک اینیمل ویلفیئر ٹرسٹ کی نمائندگی کر رہے تھے، نے عدالت سے اپیل کی کہ اس معاملے کو صرف انسان بمقابلہ جانور کے تناظر میں نہ دیکھا جائے بلکہ ماحولیاتی توازن کے زاویے سے بھی غور کیا جائے۔
سماعت کے دوران جسٹس مہتا نے تبصرہ کیا کہ ایک نوجوان وکیل نے سڑکوں پر موجود یتیم بچوں کے اعداد و شمار پیش کیے، مگر افسوس کہ انسانوں کے لیے اتنی طویل اور سنجیدہ بحث کبھی نہیں کی گئی جتنی اس معاملے پر ہو رہی ہے۔
سینئر وکیل پنکی آنند نے اس بات پر زور دیا کہ قانون جانوروں کے ساتھ ہمدردانہ سلوک کا تقاضا کرتا ہے اور ایسے اقدامات سے گریز کیا جانا چاہیے جو جانوروں کے قتل کے مترادف ہوں۔ سینئر وکیل مینکا گرو سوامی اور دیگر وکلا نے بھی اپنے دلائل پیش کیے۔
عدالت نے 9 جنوری کو واضح کیا کہ خواتین ڈاگ فیڈرز کو ہراساں کیے جانے کے الزامات قانون و نظم کا معاملہ ہیں، اور متاثرہ افراد ایف آئی آر درج کرا سکتے ہیں۔ عدالت نے اس معاملے میں مبینہ توہین آمیز ریمارکس پر بھی غور کرنے سے انکار کر دیا۔
سپریم کورٹ نے آوارہ کتوں کے کاٹنے کے واقعات میں ’’تشویشناک اضافے‘‘ کا نوٹس لیتے ہوئے 7 نومبر کو ہدایت دی تھی کہ تعلیمی اداروں، اسپتالوں، ریلوے اسٹیشنوں اور دیگر ادارہ جاتی علاقوں سے آوارہ کتوں کو فوری طور پر، نس بندی اور ویکسینیشن کے بعد، مخصوص شیلٹروں میں منتقل کیا جائے اور انہیں دوبارہ اسی مقام پر نہ چھوڑا جائے۔ عدالت نے قومی شاہراہوں، ریاستی شاہراہوں اور ایکسپریس ویز سے مویشیوں اور دیگر آوارہ جانوروں کو بھی ہٹانے کا حکم دیا تھا۔
یہ معاملہ سپریم کورٹ میں ایک ازخود نوٹس (سوموٹو) کیس کے طور پر زیر سماعت ہے، جو گزشتہ سال 28 جولائی کو میڈیا میں شائع ان رپورٹس کے بعد شروع کیا گیا تھا جن میں قومی دارالحکومت میں بچوں سمیت متعدد افراد کے آوارہ کتوں کے کاٹنے اور ریبیز سے متاثر ہونے کا انکشاف ہوا تھا۔