کاروار، 29 نومبر (ایس او نیوز): اَنکولہ کے پی۔ایم۔ ہائی اسکول میں کرناٹک اسٹیٹ چلڈرن رائٹس کمیشن بنگلورو، ضلعی انتظامیہ، محکمہ تعلیم اور ضلع بچوں کی حفاظت یونٹ کے اشتراک سے ایک اہم پروگرام منعقد ہوا، جس میں RTE سے متعلق شکایات وصول کی گئیں اور بچوں کے ساتھ براہِ راست مکالمہ کیا گیا۔ پروگرام میں اَنکولہ کے مختلف اسکولوں اور کالجوں کے طلبہ نے حصہ لیا اور متعدد سوالات و تجاویز پیش کیں۔
طلبہ نے ذمہ دار افسران سے سخت سوالات کیے کہ ریاست میں غیر قانونی اسقاطِ حمل کو روکنے کے لیے کون سے اقدامات کیے جا رہے ہیں، ظلم یا ہراسانی کی صورت میں پولیس ہیلپ لائن 112، بچوں کی ہیلپ لائن 1098 اور ’اکّا پڑے‘ فورس (کرناٹک کی خواتین تحفظ ٹیم) فوری مدد فراہم کرنے میں کتنی مؤثر ہیں۔ طلبہ نے اسکول و کالج کے احاطے میں منشیات کے استعمال پر سخت پابندی اور کم عمر بچوں سے جبری مشقت کے خلاف قوانین کے مؤثر نفاذ پر بھی زور دیا۔
طالبہ سُشمتا نائک نے پوچھا کہ طالبات پر ہونے والی زیادتیوں کو روکنے کے لیے کیا اقدامات کیے گئے ہیں۔ پولیس انسپکٹر نے بتایا کہ ’’اوپن ہاؤس‘‘ پروگرام کے ذریعے طلبہ کو آگاہی دی جا رہی ہے اور اسکولوں میں بھی بیداری پروگرام چل رہے ہیں۔ کمیشن کے رکن ڈاکٹر ٹِپّےسوامی نے وضاحت کی کہ خواتین اور طالبات کے تحفظ کے لیے ریاست میں ’اکّا پڑے‘ فورس قائم کی گئی ہے۔

طالبہ ناگیشوری نے غیر قانونی اسقاطِ حمل کے حوالے سے دریافت کیا، جس پر تعلقہ ہیلتھ آفیسر نے بتایا کہ تمام نجی اسپتالوں کو اس جرم سے متعلق سزاؤں اور جرمانوں کی ہدایات جاری کی گئی ہیں، اسپتالوں کے سامنے آگاہی بورڈ نصب کیے گئے ہیں اور محکمہ صحت اچانک معائنہ کرتا رہتا ہے۔ ڈاکٹر ٹِپّےسوامی نے کہا کہ غیر قانونی اسقاطِ حمل کرنے والے مراکز یا افراد کی اطلاع دینے والوں کو حکومت کی طرف سے ایک لاکھ روپے انعام دیا جائے گا اور ان کا نام خفیہ رکھا جائے گا۔
POCSO قانون کے بارے میں پوچھے گئے سوال پر کمیشن کے رکن نے بتایا کہ 18 سال سے کم عمر بچوں کے لیے ’’سیف ٹچ‘‘ اور ’’اَن سیف ٹچ‘‘ کی وضاحت کی جاتی ہے اور ’’اَن سیف ٹچ‘‘ کے تمام واقعات POCSO قانون کے تحت آتے ہیں۔ اگر اسکول میں ایسے معاملات چھپائے جائیں تو اساتذہ یا افسران کے خلاف کارروائی ہوگی۔
طالب علم ابھینو شٹی نے اسکول و کالج کے احاطے میں منشیات استعمال کرنے والوں کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کیا۔ انسپکٹر نے بتایا کہ اسکولوں کے 100 میٹر دائرے میں تمباکو اور منشیات کی فروخت و استعمال ممنوع ہے اور ایسے واقعات کی اطلاع QR کوڈ کے ذریعے دی جا سکتی ہے۔ انکولہ تعلقہ میں اس معاملے پر سخت جانچ مہم جاری ہے۔
ایک اور طالبہ امولیا نائک نے سوال کیا کہ ریاست کو مکمل شراب سے پاک کیوں نہیں بنایا جاتا، جس پر ڈاکٹر ٹِپّےسوامی نے بتایا کہ شراب کی فروخت کے لیے قوانین موجود ہیں اور غیر قانونی فروخت کے خلاف کارروائی ہوتی ہے، عوام کو خود بھی اس سے دور رہنا چاہیے، اور مکمل شراب بندی حکومت کے اختیار میں ہے۔
نیناپربھو نامی طالبہ نے نابالغ ڈرائیونگ کے بارے میں سوال کیا، جواب میں بتایا گیا کہ نابالغ کو گاڑی دینے والے والدین کے خلاف کارروائی ہوتی ہے، کالج کے پرنسپل اور والدین کو چاہیے کہ بچوں کو اس بارے میں سختی سے سمجھائیں۔ بچوں کے حقوق کی مختلف اسکیموں کی معلومات www.makkalahakku.com پر دستیاب ہیں۔

طلبہ نے کم عمر مزدوری کی روک تھام، آدھار کارڈ کے حصول میں مشکلات، کالج میں کراٹے کی تربیت اور تعلیمی اداروں میں بنیادی سہولیات کی کمی کے مسائل بھی اٹھائے۔
پروگرام کا افتتاح کرتے ہوئے ریاستی بچوں کے حقوق کمیشن کے رکن ڈاکٹر ٹِپّےسوامی کے۔ٹی۔ نے کہا کہ ملک کی 40 فیصد سے زائد آبادی 18 سال سے کم عمر بچوں پر مشتمل ہے، ان کے مسائل کو سن کر حل تلاش کرنا جمہوریت کی بہترین علامت ہے۔ آج کے بچے کل کے شہری ہیں، ان کی ہمہ جہت ترقی اور حقوق کی حفاظت ہماری ذمہ داری ہے۔ بچے پولیس ہیلپ لائن 112 اور بچوں کی ہیلپ لائن 1098 پر کسی بھی ہنگامی مسئلے کی رپورٹ کر سکتے ہیں۔
اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے اَنکولہ کے تحصیلدار ڈاکٹر چِکّپّا نائک نے کہا کہ بچوں کے حقوق کے تحفظ میں عمل کرنے والے افسران مؤثر انداز میں کام کریں، بچوں کی بات صبر کے ساتھ سنی جائے، طلبہ سوشل میڈیا کو صرف تعلیمی مقصد کے لیے استعمال کریں اور ہنگامی حالت میں بچوں کی ہیلپ لائن یا پولیس ہیلپ لائن سے رابطہ کریں۔
پروگرام میں انکولہ پولیس اسٹیشن کے انسپکٹر چندرشیکھر مٹھپتی، تعلقہ ہیلتھ آفیسر ڈاکٹر جگدیش نائک، خواتین و اطفال ترقیاتی محکمے کے کمار، پی۔ایم۔ ہائی اسکول کے ہیڈ ماسٹر چندرشیکھر کڈیمنی، تعلیمی افسر (انچارج) ناگراج نائک، بھاسکر گاؤںکر اور مختلف اسکولوں و کالجوں کے طلبہ موجود تھے۔