نئی دہلی، 4/ اپریل (ایس او نیوز/ایجنسی) ملک میں پانی ذخیرہ کرنے کی صورتحال تیزی سے دباؤ کا شکار ہے اور موسم گرما کے آغاز کے ساتھ ہی بحران کے آثار مزید واضح ہو گئے ہیں۔ سینٹرل واٹر کمیشن کے مطابق ملک کے 166 بڑے آبی ذخائر میں دستیاب پانی کم ہو کر اس کی کل صلاحیت کے ۴۰؍ فیصد سے نیچے آ گیا ہے۔ وہیں کئی بڑے دریائوں میں بھی پانی کی سطح میں کمی درج کی گئی ہے جس سے پانی کے بگڑتے ہوئے علاقائی عدم توازن کے خدشات میں اضافہ ہوگیا ہے۔
سینٹرل واٹر کمیشن کے ہفتہ وار بلیٹن کے مطابق ملک کے 166 آبی ذخائر میں کل لائیو ذخیرہ کم ہو کر71.08 ارب گھن میٹر (بی سی ایم) رہ گیا ہے، جو ان کی کل صلاحیت183 بی سی ایم کا صرف 38فیصد ہے۔ 9 اپریل کو یہ سطح 44فیصد تھی یعنی 3 ہفتوں میں ہی پانی کے ذخیرہ میں قابل ذکر کمی درج کی گئی ہے۔ یہ166 آبی ذخائر ملک کی2 لاکھ 57 ہزار 218 بی سی ایم آبی ذخیرہ کرنے کی کل صلاحیت کا تقریباً 71 فیصد رکھتے ہیں۔ ان میں سے 20آبی ذخائر ہائیڈرو الیکٹرک پروجیکٹ سے جڑے ہوئے ہیں جن کی مشترکہ صلاحیت ۳۶؍ ہزار بی سی ایم ہے۔
سینٹرل واٹر کمیشن کے مطابق اپریل کے آغاز کے مقابلے میں کئی بڑے دریا کے طاس میں پانی کی سطح میں کمی آئی ہے۔ گنگا طاس53 فیصد سے کم ہو کر تقریباً 50فیصد رہ گیا ہے۔ گوداوری 47فیصد سے کم ہو کر 40 فیصد اور نرمدا، ۴۶؍ فیصد سے کم ہو کر 38فیصد پہنچ گئی ہے۔ کرشنا طاس پہلے سے ہی کمزور حالت میں تھا اور اب بھی تقریباً 22فیصد پر ہے۔ کاویری اور مہاندی میں بھی کمی درج کی گئی ہے جب کہ تاپتی نسبتاً مستحکم حالت میں برقرار ہے۔
مدھیہ پردیش کے آبی ذخائر میں گزشتہ سال کے مقابلے میں کمی زیادہ ریکارڈ کی گئی ہے۔ وہیں گوا میں صرف ایک اہم ذخیرہ ہونے کے باوجود وہاں بھی 12 فیصد سے زیادہ کمی درج کی گئی ہے جو مقامی پانی کی دستیابی کا ایک اہم اشارہ ہے۔ ملک بھر کے کئی بڑے آبی ذخائر میں پانی کی سطح انتہائی نچلی سطح پر پہنچ گئی ہے جس سے بحران بڑھنے کا اندیشہ ہے۔