بھٹکل 20/جنوری (ایس او نیوز): بستی روڈ پر واقع مسجد اخوان سے متصل الکوثر گرلز کالج کے کیمپس میں معذور بچوں کی تعلیم، تربیت اور نگہداشت کے لئے قائم کیے گئے وزڈم اسپیشل اسکول کا افتتاح بھٹکل کے قاضی صاحبان مولانا عبدالرب خطیبی ندوی اور مولانا خواجہ معین الدین اکرمی مدنی کی دعاؤں کے ساتھ عمل میں آیا۔
اس موقع پر مقررین نے معذور افراد کو دینی ماحول میں باوقار، خود مختار اور باصلاحیت شہری بنانے میں تعلیم کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ اللہ تعالیٰ کا ایک مستقل دستور ہے کہ جو لوگ جس بیماری میں مبتلا افراد کی مدد کرتے ہیں، اللہ تعالیٰ نہ صرف ان کی مدد فرماتا ہے بلکہ ان کی نسلوں کو بھی اس بیماری سے محفوظ رکھتا ہے۔ مقررین نے پورے یقین کے ساتھ کہا کہ جو لوگ معذور بچوں کی خدمت کرتے ہیں، ان کے لئے ادارے قائم کرتے ہیں یا ایسے اداروں کے ساتھ تعاون کرتے ہیں، ان کے گھروں میں اور ان کی نسلوں میں کبھی معذور بچے پیدا نہیں ہوتے۔
اسکول کے ذمہ داران نے بتایا کہ بھٹکل میں معذور بچوں کی تعداد میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے اور ایک اندازے کے مطابق 300 سے زائد معذور بچے موجود ہیں۔ اگرچہ بعض والدین اپنے بچوں کو بھٹکل میں پہلے سے موجود ایک خصوصی اسکول میں داخل کروا رہے ہیں، تاہم دینی ماحول کی عدم موجودگی، لڑکوں اور لڑکیوں کے لئے علیحدہ کلاسوں کا انتظام نہ ہونا اور دیگر وجوہات کے باعث بڑی تعداد اپنے بچوں کو گھروں تک محدود رکھنے پر مجبور ہے۔ انہی حالات کو دیکھتے ہوئے بھٹکل کی بالخصوص خواتین نے ہمت افزا قدم اٹھاتے ہوئے اس خصوصی اسکول کے قیام کا بیڑا اٹھایا۔

تقریب سے خطاب کرتے ہوئے آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ کے رکن مولانا الیاس جاکٹی ندوی نے کہا کہ معذور بچوں کی خدمت کرنے والوں کے لئے آخرت میں اجر عظیم تو یقینی ہے ہی، ساتھ ہی دنیا میں بھی اس کے مثبت اثرات ظاہر ہوتے ہیں۔ انہوں نے وزڈم اسپیشل اسکول کی انتظامیہ، معلمات اور تعاون فراہم کرنے والوں کی ستائش کرتے ہوئے اسے بھٹکل کی ایک اہم ضرورت قرار دیا اور ذمہ داران کو نصیحت کی کہ بچوں کی تربیت اسلامی خطوط پر کی جائے، نیز مسلم بچوں کے ساتھ ساتھ غیرمسلم بچوں کے داخلے کو بھی قبول کیا جائے۔
پروگرام کا آغاز تلاوتِ کلامِ پاک سے ہوا۔ الکوثر گرلز کالج کے ذمہ دار مولوی یاسر برماور ندوی نے مہمانوں کا استقبال کرتے ہوئے کہا کہ ایمان، اخلاق اور اسلامی عقائد کے ساتھ معذور بچوں کی تربیت کے لئے ایک علیحدہ مرکز کی شدید ضرورت تھی، جسے محسوس کرتے ہوئے مسلم مینجمنٹ کے تحت اس خصوصی اسکول کی شروعات کی گئی ہے۔ کالج کے چیئرمین جناب ایس ایم سید شکیل، جماعت اسلامی ہند بھٹکل کے صدر مولانا ایس ایم سید زبیر ودیگر نے بتایا کہ معذور بچوں کی دیکھ بھال ایک مشکل مگر اجر و ثواب کا کام ہے۔ فی الحال اسکول میں 11 بچوں نے داخلہ لیا ہے جبکہ ان کی تعلیم و تربیت اور دیکھ ریکھ کے لئے تین معلمات خدمات انجام دے رہی ہیں۔
انہوں نے مزید بتایا کہ بھٹکل کی چند باشعور خواتین، جن میں الکوثر گرلز کالج کی ذمہ داران بھی شامل ہیں، نے اس اہم ضرورت کو محسوس کرتے ہوئے ایک ٹیم تشکیل دی اور اسکول کی بنیاد رکھی۔ اس موقع پر ذمہ داران نے پروگرام میں موجود مختلف اداروں کے نمائندوں سے اپیل کی کہ وہ اس نیک کام کے لئے ہر ممکن تعاون کریں۔
تقریب میں انجمن حامئی مسلمین بھٹکل کے صدر محمد یونس قاضیا، جامعہ اسلامیہ بھٹکل کے صدر مولانا عبدالعلیم قاسمی، بھٹکل مسلم خلیج کونسل کے صدر عمر فاروق مصباح، سکریٹری جنرل عتیق الرحمن منیری، جیلانی محتشم، قمر سعدا، اقبال ایکیری، ایس ایم سید اسماعیل، معاذ جوکاکو،آفتاب حُسین کولا، ایڈوکیٹ عمران لنکا، عزیز الرحمن رکن الدین ندوی، یونس رکن الدین،نعمان پٹیل، مصدق ایکیری سمیت دیگر کئی معزز شخصیات شریک تھیں۔ تمام مقررین نے مسلم مینجمنٹ کے تحت قائم کیے گئے اس پہلے خصوصی اسکول کے قیام پر انتظامیہ کو مبارکباد پیش کی اور اپنی جانب سے ہر ممکن تعاون کا یقین دلایا۔