ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ساحلی خبریں / ویسٹرن گریجویٹ حلقہ کے ووٹر لسٹ اندراج میں سرسی سب سے آگے، جوئیڈا پیچھے؛ بھرپورمہم کے باوجود بھٹکل میں نظر نہیں آیا زیادہ جوش وخروش

ویسٹرن گریجویٹ حلقہ کے ووٹر لسٹ اندراج میں سرسی سب سے آگے، جوئیڈا پیچھے؛ بھرپورمہم کے باوجود بھٹکل میں نظر نہیں آیا زیادہ جوش وخروش

Sat, 08 Nov 2025 00:51:10    S O News
ویسٹرن گریجویٹ حلقہ کے ووٹر لسٹ اندراج میں سرسی سب سے آگے، جوئیڈا پیچھے؛ بھرپورمہم کے باوجود بھٹکل میں نظر نہیں آیا زیادہ جوش وخروش

بھٹکل7/ نومبر(ایس او نیوز): قانون سازکونسل کے ویسٹرن گریجویٹ انتخابی حلقے کے لیے سن 2026 میں ہونے والے انتخابات کے سلسلے میں ووٹر اندراج کے عمل میں سرسی تعلقہ سب سے آگے رہا، جہاں 2454 گریجویٹس نے اپنے نام درج کرائے، جبکہ جوئیڈا تعلقہ سب سے پیچھے رہا، جہاں صرف 256 گریجویٹس نے اندراج کیا۔ توقع کی جارہی تھی کہ بھٹکل میں گریجویٹس کے اندراج کی شرح سب سے زیادہ ہوگی، کیونکہ تعلیم کے میدان میں بھٹکل کو سبقت حاصل ہونے کی باتیں کہی جاتی ہیں، تاہم یہاں صرف 1016 افراد نے ہی اپنا اندراج کرایا، جو توقعات کے برخلاف رہا۔

خوش آئند بات یہ رہی کہ پچھلی مرتبہ یعنی 2019-20 کے مقابلے میں اس بار ضلع اترکنڑا میں گریجویٹس کی تعداد میں نمایاں اضافہ دیکھا گیا ہے، اور اس بار 5658 مزید گریجویٹس ووٹر بننے کے اہل قرار پائے ہیں۔ معلوم ہوا ہے کہ 2019-20 میں ویسٹرن گریجویٹ حلقہ کے ووٹر کے طور پر 9092 گریجویٹس نے اندراج کرایا تھا، جبکہ اس بار آخری تاریخ یعنی 6 نومبر 2025 تک کل 14,750 گریجویٹس نے اپنا اندراج مکمل کیا۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ پچھلی بار کے مقابلے میں اس مرتبہ ضلع میں گریجویٹ ووٹروں کے اندراج میں خاصا جوش و خروش دیکھا گیا اور بڑی تعداد میں تعلیم یافتہ افراد نے ووٹر بننے میں دلچسپی ظاہر کی۔

ضلع کے مختلف تعلقہ جات سے موصولہ اندراج کی تفصیلات اس طرح ہیں:
سرسی (2454)، کمٹہ (2052)، کاروار (1703)، انکولہ (1510)، سدّاپور (1254)، ہوناور (1175)، بھٹکل (1016)، یلّاپور (952)، منڈگوڈ (874)، ہلیال (806)، ڈانڈیلی (698) اور جوئیڈا (256)۔

یاد رہے کہ ویسٹرن گریجویٹ حلقہ کے ووٹر کے طور پراندراج کے لیے وہ تمام افراد اہل تھے جنہوں نے 1 نومبر 2025 سے کم از کم تین سال قبل ہندوستان کی کسی بھی یونیورسٹی سے گریجویشن مکمل کی ہو یا مساوی تعلیمی اہلیت رکھتے ہوں۔

ضلعی انتظامیہ کی جانب سے ہدایت دی گئی تھی کہ ایسے تمام اہل گریجویٹس درخواست فارم نمبر 18 کے ساتھ ڈگری سرٹیفکیٹ کی تصدیق شدہ نقل اور پتے کا ثبوت منسلک کر کے 6 نومبر تک اپنے نام درج کرائیں۔ اس مقصد کے لیے ضلع ڈپٹی کمشنر کے دفتر سمیت تمام تعلقہ جات کے تحصیلدار دفاتر میں رجسٹریشن مراکز قائم کیے گئے تھے۔ بھٹکل میں قومی سماجی ادارہ مجلس اصلاح و تنظیم کی جانب سے بھی تنظیم ہال میں دو دن کے لیے ایک خصوصی مہم چلائی گئی تھی تاکہ عوام کو اندراج میں سہولت فراہم کی جا سکے۔

پتہ چلا ہے کہ ضلع کے مختلف تعلقہ جات میں ابتدائی مرحلے میں گریجویٹس کی جانب سے ردِعمل سرد رہا، جس کے باعث رجسٹریشن کی رفتار سست تھی۔ تاہم بعد میں ضلع کے تمام تحصیلداروں نے ذاتی دلچسپی لیتے ہوئے اپنے علاقوں میں گریجویٹ افسران، سرکاری ملازمین اور دیگر اہل افراد سے ملاقات کی اور انہیں ووٹ دینے کی اہمیت اور بطور گریجویٹ ان کی ذمہ داریوں سے آگاہ کیا۔ نتیجتاً اندراج کی مہم میں تیزی آئی اور ضلع بھر میں بڑی تعداد میں گریجویٹس نے رجسٹریشن کرایا۔

قانون ساز کونسل کا ویسٹرن گریجویٹ حلقہ دھارواڑ، ہاویری، گدگ اور اتر کنڑا اضلاع پر مشتمل ہے۔ اس حلقے کے موجودہ رکن کی مدت 11 نومبر 2026 کو مکمل ہوگی، جس کے بعد یہ نشست آئندہ دو سالہ انتخابات کے ذریعے پُر کی جائے گی۔

الیکشن کمیشن آف انڈیا نے اعلان کیا ہے کہ ویسٹرن گریجویٹ حلقہ کی عارضی ووٹر لسٹ 25 نومبر 2025 کو جاری کی جائے گی۔ 10 دسمبر تک اس میں اصلاحات اور اعتراضات قبول کیے جائیں گے، جبکہ 30 دسمبر 2025 کو حتمی ووٹر لسٹ شائع کی جائے گی۔

Click here for report in English


Share: