ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ملکی خبریں / پریاگ راج میں شنکر آچاریہ اویمکتیشورانند کا دھرنا آٹھویں دن بھی جاری؛ کیمپ کے باہر ’’بلڈوزر بابا‘‘ کے نعرے؛ سیاسی و مذہبی حلقوں میں ہلچل

پریاگ راج میں شنکر آچاریہ اویمکتیشورانند کا دھرنا آٹھویں دن بھی جاری؛ کیمپ کے باہر ’’بلڈوزر بابا‘‘ کے نعرے؛ سیاسی و مذہبی حلقوں میں ہلچل

Sun, 25 Jan 2026 20:22:04    S O News
پریاگ راج میں شنکر آچاریہ اویمکتیشورانند کا دھرنا آٹھویں دن بھی جاری؛ کیمپ کے باہر ’’بلڈوزر بابا‘‘ کے نعرے؛ سیاسی و مذہبی حلقوں میں ہلچل

پریاگ راج (الہ آباد)  25 جنوری (ایس او نیوز/ایجنسیاں) : اُتّرامنایا جیوتش پیٹھ کے جگدگرو شنکر آچاریہ سوامی اویمکتیشورانند سرسوتی کا دھرنا مگھ میلہ میں آٹھویں دن بھی بدستور جاری ہے۔ وہ تریوینی مارگ پر واقع اپنے کیمپ کے سامنے فٹ پاتھ پر دھرنے پر بیٹھے ہوئے ہیں اور افسران سے معافی کے مطالبے پر قائم ہیں۔ اس دوران بڑی تعداد میں سادھو سنت، عقیدت مند اور مختلف سیاسی جماعتوں کے رہنما ان سے ملاقات اور آشیرواد حاصل کرنے پہنچ رہے ہیں۔

اتوار کے روز الہ آباد یونیورسٹی کے طلبہ اور سابق طلبہ تنظیموں سے وابستہ افراد کی بڑی تعداد شنکر آچاریہ کی حمایت میں کیمپ پہنچی اور نعرے بازی کی۔ مظاہرین کا کہنا تھا کہ شنکر آچاریہ کی مبینہ توہین دراصل سناتن دھرم کے وقار پر حملہ ہے۔ سابق اسٹوڈنٹ یونین صدر شیام کرشن پانڈے نے کہا کہ پریاگ راج کی سرزمین ہمیشہ انصاف اور حق کے لیے کھڑی رہی ہے، اور جب سناتن دھرم کے اعلیٰ مذہبی منصب کے وقار کو چیلنج کیا جائے تو طلبہ، وکلا، دانشوروں اور سماجی کارکنوں کو متحد ہونا ہوگا۔ دیگر سابق عہدیداروں اور سماجی رہنماؤں نے بھی مبینہ مارپیٹ اور زبردستی گھسیٹنے جیسے واقعات کو شدید ناانصافی قرار دیتے ہوئے مشترکہ جدوجہد کی اپیل کی۔

اسی دوران شنکر آچاریہ کے کیمپ کے باہر حالات اس وقت کشیدہ ہو گئے جب بعض نامعلوم افراد نے مبینہ طور پر ’’آئی لو بلڈوزر بابا‘‘ کے نعرے لگائے۔ الزام ہے کہ یہ افراد لاٹھی ڈنڈوں کے ساتھ کیمپ کے قریب پہنچے تھے، جس کے بعد کیمپ کے خادموں اور ان کے درمیان ہاتھا پائی ہوئی۔ کیمپ کے انچارج پنکج پانڈے نے کَلپواسی میلہ تھانے میں تحریری شکایت درج کرواتے ہوئے سی سی ٹی وی فوٹیج بھی فراہم کی ہے، جس میں نعرے بازی کرتے افراد نظر آ رہے ہیں۔ شنکر آچاریہ نے خبردار کیا ہے کہ اگر شرپسند عناصر نے دوبارہ کیمپ میں داخل ہونے کی کوشش کی تو عقیدت مندوں اور کیمپ کی املاک کو سنگین خطرہ لاحق ہو سکتا ہے۔

ادھر ایس پی مگھ میلہ نیرج پانڈے نے کہا ہے کہ نعرے بازی کی اطلاع موصول ہوئی تھی، تاہم تحریری شکایت کے بعد ہی باقاعدہ جانچ شروع کی جائے گی۔ سیکیورٹی خدشات کے پیش نظر کیمپ کے اطراف نگرانی سخت کر دی گئی ہے اور دس سی سی ٹی وی کیمرے نصب کرنے کا فیصلہ لیا گیا ہے۔

یہ معاملہ اب مذہبی دائرے سے نکل کر سیاسی رنگ اختیار کر چکا ہے۔ سماج وادی پارٹی کے سربراہ اکھلیش یادو نے شنکر آچاریہ کی حمایت کرتے ہوئے یوگی حکومت پر سخت تنقید کی ہے، جبکہ کانگریس نے مبینہ توہین کے خلاف شہر کے ہر وارڈ میں ’’جن جاگرن ابھیان‘‘ چلانے کا اعلان کیا ہے۔ کانگریس رہنماؤں کا الزام ہے کہ انتظامیہ کی لاپروائی کے باعث نہ صرف شنکر آچاریہ بلکہ پورے سناتن سماج کی توہین ہوئی ہے، جس پر گورنر سے مداخلت کی اپیل کی گئی ہے۔

دوسری جانب سنت سماج میں اس معاملے پر مختلف آراء سامنے آئی ہیں۔ بعض سنتوں نے پالکی روایت کو لازمی نہ قرار دیتے ہوئے وی آئی پی کلچر کی مخالفت کی ہے اور کہا ہے کہ مگھ میلہ میں تمام سنت برابر ہیں، جبکہ انتظامیہ کی ذمہ داری ہے کہ سب کے ساتھ یکساں سلوک کرے۔

واضح رہے کہ یہ تنازع مونی اماوسیہ کے موقع پر شنکر آچاریہ اویمکتیشورانند کو پالکی کے ذریعے سنگم اسنان سے روکے جانے کے بعد شروع ہوا تھا۔ دھرنا جاری ہے اور انتظامیہ و شنکر آچاریہ اپنے اپنے مؤقف پر قائم ہیں، ایسے میں مگھ میلہ کے دوران یہ معاملہ فی الحال تھمتا دکھائی نہیں دیتا۔


Share: