نئی دہلی، 5 اگست (ایس او نیوز / ایجنسی) سپریم کورٹ 8 اگست کو اس درخواست پر سماعت کرے گا جس میں مرکزی حکومت کو جموں و کشمیر کی ریاستی حیثیت بحال کرنے کی ہدایت دینے کی اپیل کی گئی ہے۔ یہ معاملہ چیف جسٹس ڈی وائی چندرچود کی سربراہی میں آئینی بینچ کے 2023 کے فیصلے سے متعلق ایک اضافی درخواست کے طور پر اٹھایا گیا ہے۔
سینئر وکیل گورا شنکر نارائنن نے چیف جسٹس آف انڈیا بی آر گوائی کے سامنے درخواست کی کہ کیس 8 اگست کو مقرر ہی رہے، جسے عدالت نے منظور کر لیا۔ خاص بات یہ ہے کہ یہ پیش رفت آرٹیکل 370 کی منسوخی کی چھٹی برسی کے موقع پر سامنے آئی ہے۔
یہ اضافی عرضی اس بنیاد پر داخل کی گئی ہے کہ 2019 کے جموں و کشمیر تنظیم نو قانون کے تحت ریاست کو مرکز کے زیر انتظام علاقہ بنانے کے آئینی پہلوؤں پر سپریم کورٹ نے پچھلے فیصلے میں غور نہیں کیا تھا۔ اگرچہ سالیسٹر جنرل نے اس وقت ریاستی حیثیت واپس دینے کی یقین دہانی کرائی تھی، لیکن عرضی گزاروں کے مطابق پچھلے 11 مہینوں میں کوئی پیش رفت نہیں ہوئی۔
درخواست گزاروں، کالج کے استاد ظہور احمد بھٹ اور سماجی کارکن خورشید احمد ملک نے مؤقف اختیار کیا ہے کہ تاخیر وفاقیت جیسے آئینی اصول کی خلاف ورزی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ حالیہ پُرامن اسمبلی انتخابات اس بات کا ثبوت ہیں کہ ریاستی حیثیت کی بحالی میں امن و امان کوئی رکاوٹ نہیں ہے۔ یہ عرضداشت ایڈوکیٹ آن ریکارڈ سوائب قریشی کے ذریعے داخل کی گئی ہے۔